1
کراچی؛ ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں کرپشن پر 7 پولیس افسران و اہل کار معطل،کرپشن اور فرائض میں غفلت پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے نوٹس لیتے ہوئے ڈرائیونگ لائسنس سعود آباد برانچ میں تعینات7پولیس افسران واہلکاروں کومعطل کرکے بی کمپنی بھیج دیا۔معطل کیے گئےافسران میں سعود آباد ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں تعینات انسپکٹر اشرف علی سومرو، انسپکٹر سعید محمد شاہ، سب انسپکٹرمحمد صدیق میمن ،سینئر کلرک محمد آصف علی ،اے ایس آئی محمد پناہ ، اے ایس آئی شاہد علی اورہیڈ کانسٹبل شہزاد گل شامل ہیں۔
2
توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی عدالت میں پیش، اڈیالہ جیل میں اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کی، جس میں دونوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران استغاثہ کے مزید ایک گواہ طلعت محمود کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ، جس کے بعد مقدمے میں مجموعی طور پر 5گواہان کا بیان ریکارڈ اور 3پرجرح کی جا چکی ہے۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ بنیامین کے بیان پر جرح مکمل نہیں کی جا سکی ۔پراسیکیوشن نے عدالت میں کہا کہ ملزمان کے وکلا موجود ہیں، گواہ پر جرح کا پراسس مکمل کیا جائے۔بعد ازاں مقدمے کی سماعت جمعہ 10 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔
3
معروف صحافی، مصنف، شاعر اور ممتاز مؤرخ محمود شام نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک بنگلا دیش کے کیمپوں سے غیر بنگالی پاکستانیوں کو لا کر پاکستان میں آباد نہیں کر لیا جاتا۔یہ بات انھوں نے وائس فار ہیومینیٹی کے سالانہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ممتاز صحافی نے مزید کہا کہ خوش آئند بات ہے کہ یہاں پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا گیا اب بہاری کھپے کا نعرہ بھی لگنا چاہئیے۔وائس فار ہیومینیٹی انٹرنیشنل کے چئیرمین احتشام ارشد نظامی نے کہا کہ ان حقائق کو بار بار بتانے کی ضرورت ہے کہ مشرقی پاکستان میں 1971 کے ہنگاموں کے دوران تیس لاکھ ہندؤوں اور بنگالیوں کی نسل کشی نہیں ہوئی تھی۔
4
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شبلی فراز نے کہا ہے کہ یہ کٹھ پتلی حکومت ہے، اس وقت ہم کس سے مذاکرات کریں۔
حکومت کے پاس اختیار ہے تو ٹھیک، ورنہ یہ ہمیں بتا دیں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ہے، ملک کو سیاسی استحکام اور دوسرے اچھے ماحول کے ساتھ چلنا ہے تو یہ ماحول ختم کرنا ہو گا۔ اس وقت ہم کس سے مذاکرات کریں، یہ کٹھ پتلی حکومت ہے، ہم سب سے بڑی سیاسی جماعت ہیں، ہمارے مینڈیٹ کو چرایا گیا یے، ملک پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار ہے، اس کی بنیاد پر ہم ملک کو آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے جو کردار ہم ادا کر رہے ہیں، وہی کریں، ہمارا کردار سیاسی ہو اور پارلیمانی ہو، وہ کردار ہم ادا کر رہے ہیں، اگر ہمیں انصاف نہیں ملے گا ہم پھر بھی عدالتوں کا سامنا کریں گے۔انسداد دہشت عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو
5
حکومت آئی ایم ایف کو بجلی بلوں میں سیلز ٹیکس کمی پر رضامند کرنے میں ناکام،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے وزارت توانائی کی درخواست مسترد کردی گئی ہے، جس میں حکومت نے آئی ایم ایف سے بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کم کرنے پر رائے مانگی تھی۔
آئی ایم ایف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ قرض پروگرام کے تحت نئے ٹیکسز سے چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وضاحت کی ہے کہ سیلز ٹیکس چھوٹ سے ٹیکس اہداف کا حصول ممکن نہیں رہے گا۔


