کچھ باتوں پہ کچھ یادوں پہ افسوس ہوتا ہے۔
یہ فیاض الحسن چوہان اچھا بھلا تھا۔اچھے باپ کا بیٹا تھا۔سمجھدار تھا،لائیک تھا،بہادر تھا دبنگ تھا اور محبت کرنے والا انسان تھا۔
اسے کیا ہوگیا ۔
وقت بہت کچھ بدل دیتا ہے۔
اس کو اللہ نے بہت عزت دی اور بہت جلد دی۔ یہ کمبخت سنبھال نہیں سکا۔۔۔۔
میں اسے جانتا تھا لیکن میرا اس سے پہلا باضابطہ تعارف اس وقت ہوا جب یہ اسلامی جمعیت طلباء علاقہ سیٹلائیٹ ٹاون کا ناظم تھا۔پھر اس سے تعلق اس وقت بڑھا جب یہ شباب ملی ضلع راولپنڈی کا صدر بنا۔سب جانتے ہیں کہ میرے ساتھ اس کی محبت زیادہ تھی۔نجم الدین اربکان پاکستان آئے۔بی بی وزیراعظم تھی۔
جماعت اسلامی نے بھی ان کا استقبال کیا۔شباب ملی کے نوجوان بھی پاکستان اور ترکی کے جھنڈے تھامے کھڑے تھے۔۔۔۔
اس سے اگلے دن اس نے مجھے اور بابر کو شباب ملی جوائن کرنے کا کہا۔۔۔۔
لڑکپن تھا۔اس کو انکار نہ کیا اور جوائن کرلیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر محبت کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔۔۔جو بڑھتا چلا گیا۔بے تکلفی تک پہنچ گیا۔کئی مظاہرے کئی احتجاج کئی ریلیاں اکٹھے نکالیں۔ظلم کے خلاف مظلوم کی آواز بلند کرتے رھے۔
تھانوں کے گھیراو کئے،پولیس والوں سے لاٹھیاں کھائیں
اکٹھے بہت کچھ کیا۔۔۔
سیلاب آیا تو پانی میں گہرے لوگوں میں کھانا تقسیم کرتے تھے۔غرضیکہ ہر اچھا کام کرتے۔اور یہ ہمیں لیڈ کرتا۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔
یہ نوجوانوں کی تنظیم میں اتنا مقبول ہوا کہ جماعت اسلامی نے اسے صوبائی اسمبلی کا امیدوار نامزد کردیا۔یہ صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اس کے مقابلے میں تگڑا امیدوار پیپلز پارٹی کا راشد نسیم عباسی تھا۔وہ میرا بھائیوں جیسا پیارا دوست اور یونیورسٹی فیلو ہی نہیں بلکہ ہم دوستوں کے گینگ کا اہم حصہ تھا۔امید کی جارھی تھی کہ راشد نسیم الیکشن جیت جائے گا لیکن جماعت اسلامی کے کارکنان کی محنت اور اس کی اپنی دبنگ تقریروں اور منظم کمپین کی وجہ سے فیاض الیکشن جیت کر صوبائی اسمبلی جا پہنچا۔۔۔اس وقت تک سب ٹھیک چل رھا تھا۔اور اگر ٹھیک نہیں چل رھا تھا تو کم ازکم ِدکھ ٹھیک رھا تھا۔۔۔
پھر اچانک اس نے جماعت اسلامی کو دھوکہ دے کر ق لیگ جوائن کرلی۔اس نے وزیراعلیٰ پرویز الھیٰ کی پارٹی جوائن کرلی۔اور پرویز الھیٰ نے اسے صوبائی پارلیمانی سیکرٹری بنا دیا۔۔۔۔اس کے ساتھ رھا۔۔۔کافی متحرک رھا۔لیکن اس دوران وہ جن کے کندھوں پہ چڑھ کے اسمبلی پہنچا تھا ان کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کرنے لگا۔۔۔باقی گناہ معاف کر بھی دئیے جائیں تو جو اس نے قاضی حسین احمد کے بارے میں کہا وہ ناقابل معافی تھا۔۔۔۔بہر حال پھر یہ وقت بھی گزر گیا اور ہوتے ہوتے وہ بنی گالا جا پہنچا۔۔۔اس پلیٹ فارم سے وہ پھر ایم پی اے منتخب ہوگیا۔اور پھر وزیر بھی بن گیا ،ترجمان بھی بن گیا۔اس دوران وہ اوقات سے باھر ہوگیا۔۔۔۔پھر اس نے پیچھے مڑکے نہیں دیکھا اور اپنے آوٹ سپوکن ہونے کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔۔۔۔
شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری میں آگے نکلتا گیا۔اور ایک وقت آیا کہ
اس کو اس چرب زبانی کا حساب دینا پڑگیا۔۔۔۔سینے پہ ہاتھ مار کر
گوجری ماں کا گوجر بیٹا ہوں کسی سے نہیں ڈرتا کہتا ہوا مری روڈ پہ ایک جیپ پہ نظر آیا۔۔۔۔۔
یہ بھی اچھا لگا
چلو کسی کے ساتھ تو وفا کی اس نے۔۔۔
لیکن چند دن بعد سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہوا۔
اس کو عمران خان میں یہودی ایجنٹ نظر آنے لگا۔۔۔اور پھر اس نے جو کچھ قاضی حیسن احمد جو کچھ میاں محمد نواز شریف اور پرویز الھیٰ کے ساتھ کیا اس سے کئی درجہ بڑھ کے عمران خان کے ساتھ کیا۔۔۔۔
اور اس سطح پہ آکر کیا کہ پھر اپنی سیاسی قبر بنا کر بیٹھ گیا۔۔۔
پہلے الیکشن لڑنے کے لئے کاغذ جمع کرائے لیکن گلی میں نکلا اور لوگوں کی نفرت دیکھی تو الیکشن سے بھاگ گیا۔۔۔
اتنی جلدی کسی کے عروج و زوال کو شاید ہی کسی نے اتنے قریب سے دیکھا ہو۔۔۔۔
اب وہ عبرت کا نشان ہے۔۔
ترس کسی پہ نہیں کھانا چاھیے
لیکن مجھے اب اس پہ ترس آتا ہے۔۔۔
وہ بھائیوں جیسا تھا لیکن کیا سے کیا ہوگیا۔
جو جانتے ہیں
وہ آج بھی طعنے دیتے ہیں کہ یہ تھا تم لوگوں کا دوست۔۔۔
یہ تھا تم لوگوں کا فیاض بھائی۔ یہ تھا تم لوگوں کا یار۔۔۔۔
اس کی صفائیاں دے دے کے تھک جاتے تھے۔۔۔لیکن اب وہ اتنا نیچے گر گیا ہے۔
کہ صفائی دینے کے بھی قابل نہیں رھا۔
افسوس ہوتا ہے کہ اتنے نیک باپ کا اتنا ٹیلنٹڈ بیٹا اپنے ساتھ کتنا ظلم کر بیٹھا ہے۔۔۔۔
لگتا ہے اس کی سیاست پانی کا ایک بلبلا تھی۔وہ آیا اور چھا گیا۔۔۔اور چھاتا گیا اور ساتھ ہی لوگوں کی نظروں میں گرتا گیا۔
پہلے اسے ہمارے اور ہمیں اس کے گھر کا بھی پتہ تھا
۔۔۔لیکن اب وہ اسی شہر میں ہمارے لئے اور ہم اس کے لئے انجان ہیں۔
نہیں پتہ وہ کہاں رہتا ہے اور کس حال میں ہے۔۔۔
یہ بھی پتہ نہیں کہ اس مردہ ضمیر کے ساتھ وہ کیسے رہ رھا ہے۔!!!!!!
لڑکپن میں وہ بالکل ایسا نہ تھا۔۔۔۔۔
وہ بہت دبنگ تھا
باصلاحیت تھا۔۔۔
اچھا تھا
اچھے خاندان کا تھا۔۔۔۔
لیکن تھوڑی سی شہرت تھوڑا سا مقام وہ برداشت نہ کرسکا اور صرف غیروں کی نہیں اپنوں کی نظروں میں بھی گرگیا۔
جنہوں نے اسے کندھوں پہ بٹھا کہ صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب کرایا۔یہ انہی کی نظروں میں گرگیا۔باقی کو تو چھوڑیں اس کو قاضی حسین احمد کو گالی دیتے بھی شرم نہ آئی۔۔۔
اس کو احساس تک نہ ہوا کہ یہ کیا کررھا ہے۔۔۔
بس کہا ناں
یہ کمبخت اور بدبخت ہے جو سمجھ نہ سکا کہ اس کا دوست کون ہے۔۔۔
جو محسن کش نکلا۔۔۔۔
اب اپنی ہی آگ میں جلتا رھے گا۔۔۔۔
سچ کہتا ہے خلیل الرحمان قمر
بے وفاوں سے نفرت نہیں کی جاتی ان پہ ترس کھایا جاتا ہے۔۔۔
لیکن اس جیسے بے وفا پہ ترس کھانے کے ساتھ ساتھ نفرت کرنا بھی جائز ہے۔۔۔
یہ کسی کا کیا بنتا
اپنا بھی نہ بن سکا۔۔۔۔
ایک ایک کرکے سب دوست کھو بیٹھا۔۔۔پھر اپنے محسنوں پہ لپکا۔۔۔ان کی نظروں میں گرا۔۔۔۔۔۔اور اب ایک سیاسی لاش بن کے کبھی کبھی کسی پوڈ کاسٹ پہ بیٹھا اپنے غلط کاموں اور غلط فیصلوں کو جسٹی فائی کررھا ہوتا ہے۔۔۔
فیاض الحسن چوہان نے کسی کے ساتھ ظلم نہیں کیا۔
اس نے اپنے آپ کے ساتھ ظلم کیا ہے۔۔۔۔
اس نے ایک نوجوان ابھرتے لیڈر کا گلا خود دبایا ہے۔۔۔
کوئی اور نہیں وہ فیاض الحسن چوھان کے زوال کا خود ذمہ دار ہے۔۔۔
کاش وہ بچپن یا لڑکپن میں ہمیں نہ ملا ہوتا۔
کاش ہم نے اسے اور اس نے ہمیں بھائی نہ کہا ہوتا۔۔کاش۔۔۔۔
آواز
شہزاد چوہدری
نوٹ :تحریرکنندہ شہزاد چوہدری ایک صحافی ہیں اور سرکاری ادارے سے منسلک ہیں..