اسلام آباد سے پارلیمانی رپورٹر محمد اکرم عابد کی ڈائری

ضمنی انتخابات کے نتائج اور مسلم لیگ (ن) بلاشرکت غیر کامیابی پر حکومتی بیساکھیاں نکل گئیں ،پارلیمینٹ میں حکمران اتحا د انتشار کا شکارہوکررہ گیا ہے۔بلاول زرداری نے غیراعلانیہ اپوزیشن میں جانے کی تیاری شروع کردی۔کیا صدرچیئرمین سینیٹ گورنرزکے عہدے بچالیں گے؟نئے صدرمملکت کے ممکنہ نام کی بازگشت۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرخان نے غیرمعمولی بیان دیا ہے کہ مجھے قومی اسمبلی میں تمام ارکان کے تھوڑے دن نظر آرہے ہیں، جمہوریت کی بساط نہ لپیٹی جائے ۔پارلیمینٹ میں حکومتی اتحادی پیپلزپارٹی ضمنی انتخابات کے بعد دفاعی پوزیشن پر نظر آئی ،حکمران جماعت کے ارکان کے قریب جانے سے گریز کرتے رہے۔کیونکہ ارکان کے حلف کے بعد مسلم لیگ(ن) کو حکومت برقراررکھنے کے لئے پیپلزپارٹی کی ضرورت نہیں رہی۔پارلیمینٹ میں دونوں جماعتیں سیاسی معاملات میں ایک دوسرے کے دفاع کرتے بھی دکھائی نہ دیں ۔سینیٹ میں حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان کے احتجاج کے موقع پر پیپلزپارٹی خاموش تماشائی بنی رہی، قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن کے الزامات پر اتحادی لاتعلق دکھائی دیئے پیپلزپارٹی کے اپوزیشن میں جانے پر کیا حکومتی جماعت کو اپوزیشن کے صدر، چیئرمین سینیٹ ،ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی، خیبرپختونخوا پنجاب کے گورنرزکے عہدے ہضم ہوسکیں گے صدر ممکنہ پوائنٹ آف نوریٹرن میں مستعفی ہونگے یا مواخزہ ہوگا سلگتے سولات جمہوری حلقوں میں اٹھ گئے ہیں ،سخت محازآرائی کے آثار ہیں 1990کی دہائی کے سیاست کی یادیں تازہ ہونے کے خدشات ہیں۔ حلیف حریف جلد بدلنے والے ہیں ۔ دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرخان نے غیرمعمولی بیان دیا ہے کہ مجھے ارکان کے دن تھوڑے نظر آرہے ہیں نواز شریف نے دیر سے مجرموں کی بات کی ہے کہ لانے والے بھی زمہ دارہیں انھیں ماضی سے نکلنا چاہیے پھر انتخابات میں غلط بنیادرکھ دی ہم نے آگے چلنے کی بات کی مگر ہمیں ہرحق سے محروم رکھا گیا اب کیا ہوگا یہی زمہ دار ہونگے ۔فوری طور پربانی چیئرمین سے ملاقات کروائی جائے انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ہرقسم کی بینادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ۔