پارلیمانی ڈائری محمداکرم عابد
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹرگوہرخان کی بین السطور قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کی دھمکی پر پارلیمینٹ سے بھاری مراعات لینے والوں میں کھلبلی مچ گئی سسٹم کے لئے خطرہ محسوس کرنے لگے ایک بار پر نمائشی مزاکراتی بیٹھک کی پیش کش آنے لگیں ،کاروائی نہ چلنے دینے پر سسٹم کے مستفید گنندگان دوڑے دوڑے اپوزیشن کی بڑی جماعت کے پاس پہنچ گئے تاہم اپوزیشن نے بھی تگڑا اعلان کردیا گیا ہے بس اب پارلیمان نہیں چلنے دینا .
اسپیکر چیمبر میں ہونے والی ملاقات پر پی ٹی آئی میں کسی جوش جزبے کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے یقینی بے اعتباری کی فضا ہے یہی وجہ ہے کہ منت سماجت کے باجود قومی اسمبلی کا اجلاس بس سترہ منٹ چل سکا حاضریاں لگ گئیں ۔کیونکہ جو زمہ داری وزیراعظم پوری نہ کرسکے وزیراعلی سہیل آفریدی سے وعدہ کے باوجود وہ ایک اسپیکر کیسے پیش رفت کرسکیں گے ۔ان حالا ت میں پی ٹی آئی نے سینیٹ قومی اسمبلی کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کردیا ہے سسٹم کے لئے خطرہ بڑھنے لگا ۔سیاسی حلقوں میں بڑا سوال اٹھ گیا ۔
پارلیمینٹ ہاوس میں سینیٹ قومی اسمبلی کے اجلاسوں کا بے معنی سلسلہ جاری ہے ارکان آتے ہیں چلے جاتے ہیں پارلیمانی سیکرٹریٹس کی بیوروکریسی کا بھی رعب دبدبہ قائم رہتاہے تاہم عوام کے لئے لاحاصل یہ اجلاس قومی خزانہ کے لئے ضرور بھاری بوجھ ثابت ہورہے ہیں۔ نہ کھایا نہ پیا، گلاس توڑا بارہ آنے، کے مصداق کچھ اس قسم کی صورتحال پارلیمینٹ ہاوس میں بن کر رہ گئی ہے ،پارلیمانی گیلریوں لاو¿نجز غلام گردشوں میں تبصرے سنے کہ البتہ موجودہ پارلیمان ضرورت کے وقت اعلی ترین شخصیات کے لئے تیزی سے فعال نظر آتی ہے یعنی شخصیات سے متعلق ترامیم قانون سازی کے لئے مختص ہوکررہ گئی ہے وجہ مشکوک انتخابی نتائج کے باعث حکومتی جماعتوں کی دفاعی پوزیشن بتائی جارہی ہے ۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ فارم 47کا بیانیہ، حکمران اتحاد یا ان کے ہم خیال ارکان کے سروں پر نااہلی کی کل وقتی لٹکتی تلوار بن کر رہ گیا ہے ۔ رواں سال پی ٹی آئی کے پارلیمینٹ میں کوئی احتجاج تو نتیجہ خیزثابت نہ ہوا مگر صدر سے جلد ان اجلاسوں کے التواءحکمنامے لیئے جاتے رہے جس کے باعث دوسرے پارلیمانی سال کے130کے ایام کار مکمل کرنا دشوار ہوگیا ہے اس صورتحال کی وجہ سے مجوزہ پارلیمانی شیڈول ڈسٹرب ہوکررہ گیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ پارلیمینٹ نمائشی ہے عوامی مفاد کو کوئی کام کیا ہو تو سامنے لایا جائے بس ارکان حاضری لگانے آتے ہیں چلے جاتے ہیں ،ملک میں بڑھتی بیروزگاری مہنگائی بدامنی معاشی بدحالی عوام کے اپنے حقوق سے محرومی کے معاملے پر پارلیمان لاتعلق سی لگتی ہے ، تاہم کچھ نہ کچھ کارکردگی دکھانے کے جزبے کا بھی فقدا ن ہے کہیں اور سے ایجنڈے کی گونج سنائی دیتی ہے سیاسی جماعتیں سمجھوتوں کے لئے کمربستہ دکھائی دیتی ہیں اور پارلیمان سے مقاصدپورے کئے جاتے ہیں اسی لئے ناقدین کہنے پر مجبور ہیں موجودہ اسمبلیاں خزانہ پر بوجھ بن کر رہ گئیں ہیں عوامی شنوائی اداروں سمیت کہیں سے نہیں ہورہی ہے، جلدی جلدی اجلاس ملتوی کرنے کے باعث ایام کار پورے کی دوڑیں لگی ہیں.
اضافی اجلاس مجبوری بن گئے ہیں قومی خزانہ پر بوجھ اس لئے ناقدین قراردے رہے ہیں کہ قومی اسمبلی سینیٹ کے جاری اجلاسوں سے مفادعامہ کوئی ذرابرابر بھی فائدہ برآمد نہیں ہورہا ہے طاقتوروں کی من مانیاں جارہی ہیں سیاسی کارکنا ن زیرعتاب ہیں ایسے میں کہ قومی اسمبلی سینیٹ کے جاری اجلاسوں کی کاروائی روایتی احتجاج کی نظر ہورہی ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس کورم نہ ہونے کی وجہ سے سترہ منٹ چل سکا کوئی کاروائی نہ ہوئی سینیٹ کا اجلاس بھی ہنگامہ آرائی کی نظر ہوگیا بین السطور استعفوں کی دھمکی پر اسپیکر سردارایازصادق نے چیمبر میں پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھک لگائی ہے مگر اس پر پارلیمانی حلقوں اور پارلیمانی راہداریوں میں کسی جوش جزبہ کا مظاہرہ نہ ہوا سب اسے روایتی قراردے رہے ہیں اور کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی ابھی سے پیش گوئیاں کی جارہی ہیں بس اجلاس برائے اجلاس تقاریر برائے تقاریر کا پونے دوسالوں سے سلسلہ ضرور جاری ہے اور یہ رسمی کاروائی قومی خزانہ کو بھاری ثابت ہورہی ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے موجودہ پارلیمان کی ساکھ پر سولات اٹھ رہے ہیں کوئی اپوزیشن لیڈرز بھی نہیں ہیں ۔سرکاری پارلیمانی اشرافیہ پارلیمان کے بدولت اپنے رعب دبدبہ کو ضرور قائم رکھے ہوئے ہے


