سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو تقریباً چار ماہ کے فوجی ٹرائل کے بعد آفیشل سیکرٹ ایکٹ، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں 14 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
یہ سزا کوئی معمولی سزا نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی زلزلے کی ابتدا ہے جس کے جھٹکے آہستہ آہستہ ملکی سیاست کی مضبوط دیواریں بھی محسوس کرتی رہیں گی۔
فیصلوں سے زیادہ ان کے آنے کے وقت کی اہمیت ہوتی ہے، لہٰذا اس فیصلے کی ٹائمنگ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔
یہ فیصلہ اُس وقت آیا ہے جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی سخت گیر پریس کانفرنس کو ہفتہ بھی مکمل نہیں ہوا، اس کے علاوہ "مائنس خان” کی باتیں، تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کے بیرونِ ملک جانے پر پابندیاں وغیرہ۔۔۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فیض حمید کو سزا کے بعد 9 مئی کے واقعات میں ملوث سمجھے جانے والے رہنما کہاں کھڑے ہوں گے؟ اور مائنس عمران خان کا فارمولا کہاں جا کر ٹھہرے گا؟ کیا تحریک انصاف عمران خان کے بغیر چل سکتی ہے؟ کیا خان صاحب کا ووٹر یا کارکن مائنس خان فارمولا مان سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں بہت سے بڑے نام، خاندان اور پارٹیاں موجود ہیں، تحریک انصاف بھی تنظیمی طور پر ایک بڑی قوت ہے، مگر اس کی شناخت، طاقت اور پورے بیانیے کا مرکز صرف ایک نام ہے عمران خان۔ اس حقیقت سے نہ کوئی سیاسی تجزیہ کار، نہ مخالف اور نہ ہی حامی انکار کر سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت، اس کا بیانیہ اور عوامی امید براہِ راست عمران خان کی شخصیت سے جڑے ہوئے ہیں۔ خان صاحب آج چاہے قید میں ہوں یا پابندیوں کا شکار ہوں، مگر عوامی سوچ کا مرکز ہمیشہ سے عمران خان ہی رہے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پارٹی کے بڑے رہنما سابق وزرا، ایم این ایز اور سیاسی خاندانوں کے نمائندے اپنے اپنے حلقوں میں اثر ضرور رکھتے ہیں، مگر ان کی مجموعی پہچان عمران خان کے بغیر کہیں بھی نمایاں نظر نہیں آتی۔
عام طور پر سیاسی جماعتیں نظریے، ورثے اور ادارہ جاتی ڈھانچے پر کھڑی ہوتی ہیں، مگر پی ٹی آئی کا سارا ڈھانچہ ایک شخصی مقبولیت کی بنیاد پر کھڑا ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے عمران خان منظر سے اوجھل ہوئے، پارٹی کا بیانیہ کمزور پڑ گیا۔ رہنما بھی بکھرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور کارکن کسی اور کو بطور قائد قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ قیادت کا یہ خلا اتنا بڑا ہے کہ آج تک کوئی دوسری شخصیت خود کو عمران خان کے متبادل کے طور پر منوا نہیں سکی۔
گزشتہ دو سالوں میں پارٹی پر سخت دباؤ آیا، کئی رہنما منظر سے غائب ہوگئے، کچھ نے زبانی وفاداری تو نبھائی مگر عملی طور پر آگے نہ آئے، جب کہ بہت سے اپنے راستے بدل گئے۔
پارٹیوں پر ایسے وقت قیادت کی اصل طاقت واضح کرتے ہیں، اور یہ آزمائش کھل کر دکھا چکی ہے کہ پی ٹی آئی کا واحد سہارا صرف عمران خان ہے۔ آج بھی سوشل میڈیا سے لے کر عالمی میڈیا تک تحریک انصاف کا ذکر ہو تو مرکز میں عمران خان ہی ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف بانی ہیں بلکہ بیانیے کے محرک، جدوجہد کی علامت اور کارکنوں کے حوصلے کی بنیاد بھی ہیں۔ ایسی عوامی مقبولیت کسی دوسرے رہنما کے حصے میں نظر نہیں آتی۔ سیاسی حقیقت یہی ہے کہ عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کے کسی رہنما کی قومی سطح پر کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
پارٹی کی طاقت، مستقبل اور وجود کا دارومدار عمران خان کی موجودگی پر ہے۔ جب تک وہ سیاسی منظرنامے میں موجود ہیں، تحریک انصاف ایک مضبوط عوامی قوت ہے۔ اگر وہ نہ رہے تو پارٹی کا وجود خود ایک بڑا سوال بن جائے گا۔
ماضی میں محمد خان جونیجو کو مائنس کر کے نواز شریف کو لایا گیا، وہ تجربہ کامیاب رہا، مگر محترمہ بینظیر بھٹو کو مائنس نہیں کیا جا سکا۔ ق لیگ تو بن گئی، مگر نواز شریف مائنس نہ ہوسکے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کے بغیر چل سکے گی یا پھر اس کی سیاست بھی وہیں ختم ہو کر رہ جائے گی۔


