اسلام آباد(محمداکرم عابد) پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری معمہ بن گئی گتھی سلجھانے کی بجائے مزیدالجھنے لگی۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لئے تاحال درخواستیں طلب نہ کرنے کا حیران کن بیان سامنے آیا ہے پی ٹی آئی قیادت کو آگاہ کردیا گیا

تحریک انصاف کے چیف وہیپ نے کہا ہے کہ دوبارہ اپنی پرانی درخواست جمع کروادیں گے ،عمرایوب پر مقدمات میں قومی اسمبلی کوفریق بنانے حکم امتناعی سے دستبرداری کی دستاویزات جمع کروائی دی گئی ہیں ۔

قومی اسمبلی کے ایڈوائزرنے کہا ہے کہ تمام ضروری کاغذات آنے پر اب اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا عمل شروع ہوگا اور ساری اپوزیشن سے درخواستیں طلب کی جائیں گی ۔دوسری سینیٹ میں بھی یہ معاملہ نامکمل پڑا ہے ۔قومی اسمبلی میں نامزد اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی کے تقررنامہ میں تاخیر پر پی ٹی آئی قیادت کے بار بار رابطوں پر اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق کا بیان سامنے آیا کہ معاملے کی نوعیت عدالتی ہے ۔

عمر ایوب کی جانب سے متعلقہ دستاویزات کا انتظار ہے ۔ہمیں فریق بنایا گیا حکم امتناعی کے معاملات بھی ہیں ۔پیچیدہ صورتحال میں اسپیکر کے طلب کرد ہ کاغزات چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے چیف وہیپ عامر ڈوگرکے ہمراہ قومی اسمبلی کے ایڈوائزرمشتاق خان کو جمع کروادیا ہیں ان کو وصول کرتے ہوئے اس پر31دسمبر2025کی تاریخ ڈال دی گئی ہے۔

اپوزیشن لیڈر کا عہد ہ اکتوبر2025سے خالی پڑا ہے ۔ایڈوائزر نے واضح کیا ہے کہ اب اعلان کیا جائے گا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہد ہ خالی ہے تقرری کا عمل شروع کرتے ہوئے اب باقاعدہ درخواستیں طلب کی جائیں گی،یہ بڑاسرپرائز ہے جو پی ٹی آئی قیادت کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے رخصت ہونے والے سال ملا ہے ،

چیف وہیپ نے بھی محمودخان اچکزئی کی پرانی درخواست پر اصرارکرنے کی بجائے کہا ہے کہ ہم بھی یہی سابق درخواست جمع کروادیں گے

بیرسٹرگوہر خان نے کہا ہے کہ اس پر72ارکان کے دستخط ہیں اپوزیشن لیڈرکی تقرری معمہ بن گئی، اب یہ عمل شروع ہوگا ۔

پارلیمانی حلقوں نے اس معاملے پر شبہات کااظہار کیا ہے کہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے تاخیر کا سبب ہوسکتے ہیں۔