اسلام آباد ( پارلیمانی ڈائری محمد اکرم عابد )
عالم اسلام تشویشناک حالات سے دوچار ہے اور اقوام عالم میں پاکستان کی پارلیمنٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حقیقی معنوں میں درپیش نازک صورتحال میں امت مسلمہ سے بھر پور اظہار یکجتی کرتے ہوئے ایران پر اسرائیل امریکہ کے حملہ سے پیدا شدہ صورتحال پر غیر معمولی بحث جاری ہے۔اسلامی ملک پر مسلط جارحیت کاپارلیمینٹ نے نوٹس لیا ہے ۔

پارلیمانی ایوانوں سمیت راہداریوں غلام گردشوں چیمبرز یہاں تک لابیز لاونجز ہر جگہ عالم اسلام کو درپیش چیلنجوں پر تشویش پریشانی کا اظہار کیا جارہا ہے سب تکلیف کا اظہار کررہے ہیں کہ لیبیا عراق یمن فلسطین ۔مشرق وسطی میں نشانہ بنے اسلامی ملکوں کی تنظیموں کا واضح لائحہ عمل ردعمل سامنے نہ آیا ۔اب بڑی قوتیں ایران کی آزادی و خودمختاری کے درپے ہیں اور مشرق وسطی میں طاقت کا توازن مسمار کرنے کی جنگ جاری ہے مگر ابھی تک کوئی مشترکہ لائحہ عمل سامنے نہ آیا ۔

قومی اسمبلی میں بحث کے دوران اقوام متحدہ ۔اوآئی سی عرب لیگ کے تذبذب پر تشویش کا کیا جارہاہے ۔اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ ایوان میں الگ سے اپوزیشن کی عوامی اسمبلی لگی اور ایران پر حملوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دیتے ہوئے اسلامی ملکوں میں امریکی افواج اڈواں پر بے چینی ریکارڈ پر لانے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کی قرارداد مذمت کو ہاتھ بلند کرکے منظورکیا گیا۔

پارلیمنٹ میں وقف وقفہ سے امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار کی گونج ہے ۔امن کے نوبل انعام سے متعلق متنازع ویڈیو بھی حکمران اتحاد کا تعاقب کررہی ہے ۔سب سوال سن کر خاموشی سے گزر جاتے ہیں راہداریوں میں حکومتی ارکان کی کوشش ہے میڈیا سے سامنے نہ ہو۔

ایوان میں آمریکی پالیسوں اس کی قیادت پر کڑی تنقید اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے ۔اہوزیشن بینچوں سے پالیسی سازوں سے متعلق سوالات اٹھ گئے ہیں کہ کیا اس نازک صورتحال میں وزیراعظم شہباز شریف امریکی بورڈ آف پیس میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھنے کا رسک لیں گے۔کچھ بھی کہیں عوامی پارلیمانی جمہوری حلقوں میں نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر عالم اسلام کے مصائب دکھ درد چیلنجوں پر بحث والوں کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔

بعض حکومتی ارکان نے پارٹی لائن سے ہٹھ کر امریکہ کے جارحانہ عزائم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسلامی برداری کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لئے پاکستان کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ارکان پارلیمان کی تجاویز باقاعدہ پالیسی سازوں کو ارسال کرنے کے علاوہ عالمی برادری کو بھی آگاہ کرنا چاہئیے