اسلام آباد (دامن مارگلہ سے محمد اکرم عابد)
ایران امریکہ میں ثالثی کی جاری کوششوں کے تناظر میں سیکورٹی کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد دوہفتے بند رہنے کے بعدکھل گیا۔

شہراقتدارکی بالعموم ،شاہراہ دستورپربالخصوص رونقیں بحال عدالتی،پارلیمانی سرکاری سرگرمیوں کا آغازہوگیا ہے۔ ایسے میں بجلی بلز میں مسلم لیگ)ن)کی حکومتی مرہون منت سے بھاری ٹیکسوں کی بھرمارپر سلطان راہی مصطفے قریشی ٹیکس کی بازگشت سنائی دی ہے یعنی حکومت عوام کے لئے ٹیکسوں کے معاملات میں گنڈا سا اٹھائے نوری نتھ بنی ہوئی ہے۔

قارئین کرام اسلام آباد میں دوہفتوں کے دوران ایک بار مذاکرات ہوئے۔ ایسی سختیاں جنگی محاذ کے دارالحکومتوں تہران اور واشنگٹن میں بھی نہیں تھیں مذاکرات ہوں نہ ہوں شہراقتدار بند رکھا گیا یہاں تک کہ ادویات کی گاڑیوں کو بھی شہر سے 22 کلومیٹردورروک لیا گیا ۔متاثرین جائیں بھاڑ میں والا ماحول تھا۔پھلوں سبزیوں کی گاڑیوں کو منڈیوں تک نہ آنے دیا گیا جس کے باعث سفارتی کامیابی عوام کی نظروں سے اوجھل ہونے لگی اور سوشل میڈیا پرسخت برہمی کا اظہار کرتے رہے۔ نہ جانے کس نے شہراس طرح بند رکھنے کا پلان بنایا تھا۔ تنقیداور کوسنے حکمرانوں کو سننے پڑے،سفارتی حلقوں نے بھی ان بندشوں پر حیرانگی کا اظہارکرتے ہوئے اسلام آباد کے عوام کے صبر کی تعریف کی ہے۔

بہرحال شاہراہ دستور جہاں پارلیمینٹ ہاوس سمیت دیگر قومی عمارتیں ہیں کی رونقیں بحال ہوگئی ہیں،ایرا ن سے اپنائیت کا ماحول ہے ،امریکہ کا کسی کوخیرخواہ نہ دیکھا البتہ پاک ایران تعلقات کے مستقبل پر ضروراستفسار ہوتا رہا۔شاہراہ دستورپرعدالت لگ گئی ہے کئی دنوں تک سابق وزیراعظم عمراں خان کے مقدمات کی شنوائی نہ ہوئی ۔

سیاسی رابطوں کی شروعات وزیراعلی سہیل آفریدی کی محمودخان اچکزئی سے کسی حد تک معذرت خواہانہ بیٹھک سے ہوئی ہے۔جیل کے باہر والے خان، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا برئگیڈکی وجہ سے ناراض بتائے گئے ہیں۔ملاقات میں بظاہر مسکراتے چہرے تھے کہ وڈیو کی کوریج بھی ہونی ہے ۔

ترجمان کے مطابق سہیل خان آفریدی نے بانی پاکستان تحریک انصاف کی ہدایت پر اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی سے اہم ملاقات کی۔خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر نے اعتمادمیں نہ لینے پر پی ٹی آئی کے مردان مظفرآباد کے جلسوں میں شرکت نہ کی۔صفائی پیش کی گئیں تاہم شاید ہی اس سیاسی نقصان کا ازالہ ہوسکے تعلقات پر گردبیٹھ چکی ہے ۔

ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔دوسری طرف حکومت کو بجلی گیس تیل پر بھاری ٹیکسوں کے باعث ہر فورم پر شرمندگی سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کوئی تسلی بخش جواب نہ ہے ،سلطا ن راہی اور مصطفے قریشی کے فلمی کرداروں سے منسوب کیا جارہاہے۔

اس کا احوال یہ ہے یہ پارلیمینٹ کھلنے پرسینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کا اجلاس منعقدہوا۔لودشیڈنگ کے معاملات پر سرپلس بجلی کا بھانڈاپھوٹ گیا ہے۔بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی کارکردگی پر ساری کمیٹی غیر مطمئن دکھائی دی۔صوبائی دارالحکومت تاریکی میں ڈوبے ہیں ۔

ارکان کہا کہنا تھا کہ لاہور میں 24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، آپ کہتے ہیں بجلی سرپلس ہے اور لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو رہی، حکام نے ایران امریکہ جنگ پر ملبہ گراتے ہوئے کہا کہ ایل این جی نہیں آ رہی اس لیے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے، ارکان کا موقف تھا کہ کیا 48 ہزار میگاواٹ میں سے ساری بجلی ایل این جی پر بنتی ہے، 600 میگاواٹ کا شارٹ فال پرکئی کئی گھنٹوں بجلی کا تعطل ہے۔

سرکاری آگاہی دی گئی ہے کہ اس وقت ملک میں 38 ہزار میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ہے۔سینیٹر کامل علی آغا لاجزمیں اپنی اقامت گاہ کابل کمیٹی میں لے کر آگئے۔میرا پارلیمنٹ لاجز کا 11 ہزار 800 روپے کا بل آیا ہے، میرے بل میں استعمال ہوئے یونٹس کی قیمت ہے 3300 روپے ہے، بل میں باقی سارے ٹیکسز شامل کیے گئے ہیں، 102 یونٹ کا 11800 بل آئے تو فی یونٹ کتنی قیمت بنتی ہے، آپ صارفین کو کنزیومر نہ کہا کریں ان کوخزانہ بھرنے کے لئے بکرے تصورکرلیا گیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بجلی بلز گیس تیل پرکہیں سپر ٹیکس تو کہیں جگا ٹیکس لگایا جاتا ہے، بس سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی ٹیکس لگانا رہ گیاہے ۔قارئین کرام یہ امر بھی ریکارڈ پر کہ ماضی میں موجودہ حکمران جماعت کے رہنما بجلی گیس تیل پر نام نہاد ترقیاتی سرچارج کو بھتے جگا ٹیکس قراردیتے رہے ہیں۔

اب جنوبی ایشا میں سب سے زیادہ توانائی کے شعبوں میں پاکستان میں ٹیکس ہے، نہ جائز بلزکے حوالے سے کوئی شنوائی بھی نہیں ہورہی ہے اور مسلم لیگ (ن) کی دنیا میں پہلی حکومت ہے جس نے سورج توانائی پر بھی ٹیکس عائدکردیا ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ اپوزیشن بھی بس وقت گزاری پر لگی ہے۔ بہرحال شاہراہ دستور پر رونق بحال ہوتے ہی وزیراعلی سہیل آفریدی کے خلاف مخالفانہ آوازوں کی بازگشت ہے۔

پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ کے قریب بتائے گئے ارکان پارلیمان،وزیراعلی خیبرپختونخوا کے درپے ہیں ۔پیپلزپارٹی حکومت کے تعلقات میں دراڑ پرنے کے دعوے ہیں،ایوان صدر کو اہم سفارتی معاملات سے دور رکھا جارہا ہے ۔ہر جگہ سبق سکھانے حساب کتاب برابر کرنے کی سرگوشیاں اور قہقہے ہیں۔