اسلام آباد(محمد اکرم عابد)پاکستان میں مختلف شعبوں کے لئے ریگولیٹرز کی بھرمار۔سرمایہ باہر پرواز کرنے لگا پچاس پچاس ریگولیٹری نگرانی نے صنعتکار عاجز آگئے معائنہ کاروں کا وصولیوں کے علاوہ کوئی کام نہیں شعبہ صحت کو بھی نہ بخشا ۔۔ادویہ ساز صنعت کے اتحاد کا فیصلہ طبی شعبے میں صنعتی عوامی صحت کے فروغ کیلئے ایک اہم پیش رفت کے طور پر پہلے قومی پلیٹ فارم "انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری” کا افتتاح کر دیا گیا ۔ تقریب میں ڈریپ قومی سہولت کار مرکزہیلتھ ڈیپارٹمنٹ ادویہ ساز کمپنیوں،ریگولیٹری اداروں دیگر نے شرکت کی۔
تقریب کے دوران ملک میں خام مال کی عدم موجودگی ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اجارہ داری ۔انڈسٹری کے جامعات سے رابطوں کے فقدان چالیس ارب ڈالر سرمایہ کی پرواز۔ریگولیٹرز کی من مانیوں پر بھی بات کی گئی جس وجہ سے قومی صحت سیکورٹی سمجھوتہ کا شکار ہو کر رہ گئی ہے جب کہ حکومت بھی سر کاری ہسپتالوں کے لیے مقامی آلات صحت خریدنے سے گریز کرتی ہے ۔اعلامیہ کے مطابق مقررین نے پاکستان میں میڈیکل ٹیکنالوجی، تشخیصی سہولیات اور صحت کے شعبے میں جدت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ محدود وسائل، غیر مستقل صنعتی معاونت اور صنعت دوست پالیسیوں کے فقدان کے باعث میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور جدت کی حوصلہ افزائی کے بغیر صحت کے شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں۔

تقریب میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، ہیلتھ سروسز اکیڈمی، کامسیٹس اور دیگر قومی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور اس اقدام کو پاکستان کی میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کیلئے اہم سنگِ میل قرار دیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور صنعت کے درمیان مؤثر روابط قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں، جس سے تحقیق، جدت اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری میں مدد ملے گی۔

شرکاء نے پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی سمیت متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ کم لاگت طبی آلات اور تشخیصی ٹیکنالوجی عوامی صحت کے بحرانوں سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں علاج اور تشخیص کی سہولیات محدود ہیں۔

تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مقامی صنعت پر اعتماد، مؤثر حکومتی پالیسیوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان صحت کے شعبے میں خود کفالت حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان میڈیکل ڈیوائس انڈسٹری کا قیام نہ صرف ایک ادارے کا افتتاح ہے بلکہ یہ پاکستان میں صحت عامہ اور صنعتی استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔