پارلیمانی ڈائری محمداکرم عابد
پارلیمینٹ میں لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔پی ٹی آئی ارکان باہم دست وگریبان ہوتے ہوتے رہ گئے،نظم وضبط کا فقدان بھی عیاں ہوگیا ،
سیاسی حلقے حیران ہیں کہ پارٹی قیادت کس راستہ پر گامزن ہے یا ان کی کوئی سنتا نہیں ہے ،بانی چیئرمین بھی حالات سے آگاہی کے باوجود کوئی ہدایت دینے گریز کررہے ہیں۔تجزیہ کار صورتحال کو سیاسی جماعتوں کے لئے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔پی ٹی آئی والے بیچ چوراہے خود ہی ہنڈیا پھوڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بیرسٹر گوہرسمیت سب زمہ دار بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔شاید مداخلت سے اس لئے گریز کررہے ہیںکہ لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ۔ناقدین سخت تبصرے کررہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی سیاسی وکور کمیٹیاں پارٹی میں نظم وضبط قائم کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔
اقبال آفریدی اور جنیداکبر ایسے طیش میں آئے کہ قومی اسمبلی کے الگ الگ دروازں سے ساتھی ارکان باہر لے کر گئے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وہی کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مناظرتھے۔
اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کر دی۔حکومتی نشستیں بھی خالی پڑی تھیں۔ نظم وضبط قائم کرنے والے(قائدایوان) کو فی الحال عالمی تنازعات نمٹانے سے فہرست نہیں ہے۔
کورم نا مکمل تھا وزراءخاموش بیٹھے تھے۔کیا حکومت کیا اپوزیشن کوئی ٹیکس گزاروں کے اجلاس کی کاروائی پر کروڑوں روپے کے اخراجات اور ان کے اس طرح ضیاع پر فکرمند نہ تھا۔
البتہ کینسر کے علاج کی سہولیات نہ ملنے سے متعلق سوال پر وفاقی وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی ہیلتھ منسٹری کے پاس پیسہ نہیں،پیسہ صوبوں کو پہلے دن ہی بٹ جاتا ہے،80 فیصد لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کو ہیپٹائٹس سی ہے۔یہ بات تو غریب مریضوںکے علاج سے جان چھڑانے والی بات ہوئی ،
پارلیمانی راہداریوں میں بازگشت تھی کہ وزراءعوامی مسائل پر ٹال مٹول والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔کروڑوں کے اخراجات سے ڈرگ ٹیسٹنگ کا نظام موجود ہے مگر جعلی ادویات کی شکایات بڑھ رہی ہیں ۔
ارکان نمائشی طور پر ایو ان میں برس رہے تھے کہ کتنی ادویات کمپنیوں کے لائسنس معطل کیے گئے؟ توجہ دلاو نوٹس تو ضرورنیٹ میٹرنگ کے نئے ضابطوں سے متعلق پیش ہوا مگر رسمی جواب۔وفاقی وزیر اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان میں 23 سے 24 ہزار میگا واٹ پیداورسولر پینلز لگ گئے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بجلی صارفین کی یہی آزادی وخودمختیاری تو حکومتی گلے میں مچھلی کے کانٹے کی طرح اٹک گئی ہے نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں ۔
ارکان کاموقف تھا کہ بجلی کمی میں صارفین کی اس مدد پر حوصلہ افزائی کرنی چاہئے، مگر یہاں انھیں پریشان کیا جارہا ہے۔بلز لوگوں کی سکت سے باہر ہیں ۔آپ نے آئی پی پیز کو ریلیف دیا ہے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔
ایوان میں گلگت بلتستان الیکشن میں مداخلت کی بھی گونج تھی۔
سابق اسپیکر اسدقیصر نے کہا کہ ہماری پارٹی کے ساتھ مسلسل زیادتی ہورہی ہے، جیسے ہی الائنس کیا ، پارٹی پر پابندی لگا دی گئی،ہمارے آئینی حق کو چھینا گیا،جو نوٹیفیکیشن کیا گیا اس کو واپس کیا جائے،گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کومساوی موقع دیا جائے،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر آئی ہوئی ہے،بنوں میں تھانے پر خودکش حملہ ہوا ، جوان شہید ہوئے لکی مروت لہولہان ہوا، وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری نہیں نبھا رہی،نہ اس اسمبلی میں کوئی بات ہوئی،وہاں ہم روزانہ لاشیں اٹھا رہے ہیں،
وفاقی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ پیٹرولیم پر لیوی سے حکومت نے 1.2 ٹریلین عوام سے نچوڑے ہیں،عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کے لئے پیسہ نہیں ہے،پنجاب کی پہلی چیف منسٹر ہیں جنہوں نے 12 ارب سے جہاز خریدا ۔کسان رل رہے ہیں، وہاں یہ کہہ رہے ہیں عوام کو ریلیف دے رہے ہیں ،بانی پی ٹی آئی، بشری بی بی دیگر قیدیوں کو بنیادی قانونی حقوق دیئے جائیں،
پنجاب مکمل پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے،پیپلز پارٹی اپنے آپ کو آئین کا خالق کہتی ہے آئین کے ساتھ جوکچھ ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹی برابر کی شریک ہے۔
نور عالم خان نے انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں دھمکیاں ہم سب کو مل رہی ہیں،سب کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے،امریکنوں سے بھی پوچھتا ہوں دہشت گرد تو سارے آپ لائے تھے،میں جھولی پھیلاتا ہوں، ہمیں ٹارگٹ نہ کرو۔
ایوان میں وزیردفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے آوازیں آنے اور ایک بار پھراقبال آفریدی کی جانب سے کورم کورم کے شور پر ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس ملتوی کردیا۔
اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹی ارکان آپس میں لڑ پڑے۔اقبال آفریدی اورپی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔وہ آفریدی کو دوسری طرف کی بات سننے کا کہہ رہا تھا کہ ہم بھی بات کرلیں گے اس پر بات بگڑ گئی ایک دوسرے کی جانب دوڑے،جنید اکبر کو ارکان ایک طرف پکڑ کر لے گئے،
اقبال آفریدی کو دوسرے ارکان نے پکڑ لیا۔ ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہی گئی۔الگ لاگ دروازوں سے باہر لے جایا گیا۔ہر آئے دن پی ٹی آئی میں انتشاربڑھتا جارہا ہے۔پارٹی رہنماوں کی سیاسی ساکھ داو پر لگ چکی ہے کارکنان اعتماد کرنے کو تیار نہیں ۔
کارکنان اس ماحول میں بانی چیئرمین کی بہنوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کارکنان کا بس ان پر اعتماد باقی رہ گیا ہے ۔گوہرخان اپنی قیادت ثابت نہ کرسکے۔پی ٹی آئی گمنام راستوں کی مسافر بن چکی ہے۔


