پاکستان ریلوے ایک بنیادی قومی ادارہ ہے جس میں گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال کے دوران حکومت نے اس ادارے کی بحالی اور بہتری کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن کے مثبت اثرات نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف ہزاروں مسافروں کی ایک شہر سے دوسرے شہر تک روزمرہ آمدورفت کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ ملکی تجارت ، صنعت اور معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف مسلسل وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی سے ریلوے امور میں بہتری، مجموعی کارکردگی اور جاری اصلاحات سے متعلق بریفنگ لیتے رہتے ہیں۔ یقینا وزیراعظم پاکستان کا محکمہ ریلوے میں دلچسپی لینا اور اس میں مزید بہتری لا نا بہت اہم اور خوش آئند قدم ہے۔ وزیر ریلوے بھی وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام صوبوں کے درمیان سفری رابطوں کو مضبوط بنا نے کے لیے صوبائی حکومتوں کو آن بورڈ لے کر ریلوے کی ترقی کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں جو کہ ریلوے کی ترقی کے لیے بہت حوصلہ افزا عمل ہے۔پاکستان ریلویز کو بی الاقوامی سطح پر عالمی معیار کا کمرشل مواصلاتی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزیر ریلوے بھی اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں کہ وزیراعظم پاکستان نے ریلوے کو ڈیجیٹلائز کر نے کا ٹاسک دیا تھا جس پر کوششیں جاری ہیں اور اس کوشش میں ایف ڈبلیو او کا اہم کردار ہے۔

پاکستان ریلوے میں بہتر حکمت عملی اور مجموعی ٹیم ورک کی بدولت نہ صرف ریلوے کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے بلکہ سروسز میں بھی بہتری آئی ہے۔ اگرچہ ادارہ ابھی مکمل خود کفالت کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا، تاہم خسارے میں کمی اور مالی استحکام کی طرف پیش رفت ایک حوصلہ افزا تبدیلی ہے۔ وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہناہے کہ رواں مالی سال 2025-26 کے اختتام پر ریلوے پہلی بار سو ارب آمدن کا سنگِ میل عبور کر نے کی پوزیشن میں ہے جو کہ ریلوے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا۔ یقینا یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ریلوے بتدریج ریونیو میں اضافہ کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجکاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے ماڈل کو بھی اپنایا گیا ہے، جس کے تحت بعض ٹرینوں کا ا نتظام نجی شعبے کو سونپا گیا۔ اس اقدام سے خدمات کے معیار میں بہتری، کارکردگی میں اضافہ اور مسابقتی ماحول کو فروغ ملا ہے۔ اگر اس نظام میں شفافیت اور مؤثر نگرانی برقرار رکھی جائے تو یہ مستقبل میں ریلوے کے لیے ایک پائیدار ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ بھی ان اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ ریلوے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر نے کے لیے آ ن لائن ٹکٹنگ، سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کروائے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف انتظامی امور میں شفافیت آئی ہے بلکہ مسافروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے، جو کسی بھی عوامی ادارے کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہوتا ہے۔
سکیورٹی کے حوالے سے بھی مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔ ریلوے پولیس کی تربیت کو بہتر بنایا گیا، سٹیشز پر چیکنگ کا نظام سخت کیا گیا اور جدید نگرانی کے آلات استعمال میں لائے گئے ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد مسافروں کو محفوظ سفر فراہم کرنا اور ممکنہ خطرات کو کم سے کم کرنا ہے۔

موجودہ دور حکومت میں ریلوے ٹریکس کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کیے جا چکے ہیں۔ صوبوں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے ٹریک تک رسائی کی قانون سازی کی گئی ہے تاکہ تمام صوبوں کے لوگ ریل نیٹ ورک سے مستفید ہو سکیں۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے درمیان ریلوے کے مختلف 400 ارب سے زائد کے منصوبوں کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔ پنجاب حکومت کے تعاون سے تیز رفتار ٹرین کے آغاز کے لئے لاہور اور راولپنڈی روٹ پر نیا دو روئیہ ٹریک بچھانے کے بعد ٹرین 2 گھنٹے اور 20 منٹ میں منزل تک پہنچ سکے گی۔تھر کے کوئلے کی نقل و حمل کے لئے تیار کیا جانے والا 105 کلومیٹر کا نیا ریل ٹریک سندھ حکومت کے تعاون سے بچھایا جا رہا ہے جسے 25 دسمبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ اسی طرح ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں کراچی سے روہڑی تک نیا 480 کلومیٹر ٹریک کی 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کے آپریشن کے لیے مکمل ا نفراسٹرکچر، جدید کاری، اپ گریڈڈ سگنلنگ اورٹیلی کام سسٹم سمیت ریلوے لائن کی صلاحیت میں اضافہ اور ادارہ جاتی مضبوطی بھی شامل ہے۔ یہ منصوبہ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے تعاون سے مکمل ہوگا۔اس منصوبے پر دو ارب ڈالر سے زائد کی لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ ستمبر میں شروع ہونے جارہاہے جسے اڑھائی سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔ 900کلومیٹر طویل نوکنڈی۔روہڑی ٹریک میں سے 400 کلومیٹر نئے ٹریک اور 500 کلومیٹر طویل ٹریک کو بھی موجودہ ٹریک کے ساتھ اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اسی طرح نوکنڈی۔ تافتان ٹریک کو بھی اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

عوام کے ذہنوں میں ایک سوال رہتا ہے کہ ریلوے اتنا ریونیو کما رہا ہوتا ہے لیکن پھر بھی خسارے میں کیو ں رہتا ہے۔ اصل حقائق کچھ یوں ہیں کہ ریلوے کا شمار صرف چند ایسے اداروں میں ہوتا ہے جو خود ہی آمدن کماتے ہیں اور اسے اپنے آپریشنل اخراجات کو پورا کر نے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ریلوے کو اپنے سوا لاکھ سے زائد پینشنرز اور56 ہزار حاضر سروس ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں کے علاوہ دیگر بڑھنے والے حکومتی الاؤنسزاور ریلوے میں استعمال ہو نے والا ایندھن کے اخراجات کو بھی خود محکمہ ریلوے نے ادا کر نا ہوتا ہے۔ یقیناً اس کا ادراک حکومتی سطح پر بھی ہے کہ اس عوامی اور اسٹرٹیجک ادارے کو وسائل دیئے جانے چاہئیں اور حکومت ریلوے کو کچھ سبسڈی بھی فراہم کرتی ہے۔ ابھی اپریل میں ہی ایندھن کی قیمتوں کے بڑھنے پر وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر حکومت نے 30جون تک 6ارب کا اضافی بوجھ اپنے ذمے لے کر ریلوے کے ذریعے سفر کر نے والے مسافروں کو ریلیف فراہم کیا۔ موجودہ معاشی حالات میں حکومت کے اس اقدام سے ناصرف ریلوے بلکہ عام مسافر پر بھی اضافی بوجھ نہ ڈالا گیا۔

پاکستان ریلوے کے ایڈوانس انفراسٹرکچر نیٹ ورک منصوبے کے تحت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل سینٹرل کنٹرول روم ریلوے ہیڈ کوارٹر آفس لاہور میں قائم کر دیا ہے جو ریلوے کے نظام کو مزید محفوظ مؤثر اور مکمل طور پر مربوط بنا نے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔اس جدید کنٹرول روم سینٹر کے تحت ٹرینوں کی آمدورفت، مال بردار ٹرینوں کی نقل و حرکت،سیکیورٹی کے معاملات اور لاجسٹکس کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ اسی طرح کے ڈیجیٹل کنٹرول سینٹر تمام ڈویژنل آفسز میں بھی تیار کیے جائیں گے اور جن کا براہ راست رابطہ ڈیجیٹل سینٹرل کنٹرول سے بھی ہوگا۔

ریلوے نے مسافروں کو بہتر آرام دہ اور جدید سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ہیڈ کوارٹرز کے ریزرویش آفس کو 15منظم ٹکٹ کاؤنٹرز، انفارمیشن ڈیسک،ایئرکنڈیشنڈ ماحول،کیومیٹک ٹوکن سسٹم، مفت وائی فائی،سیلف ٹکٹنگ مشینوں کے ساتھ جدید خطوط پر اپ گریڈ کر دیا گیا ہے جس کا مقصد ٹکٹنگ کے نظام کو موثر بنانا اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

مسافروں کی سہولت میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان ریلوے نے سندھ میں سکھر ایکسپریس کی اپگریڈیش کے بعد اب خیبر پختونخواہ کی عوام کے لیے عوام ایکسپریس کو مکمل اپگریڈڈ ریک کے ساتھ 30 مئی تک چلا نے کا فیصلہ کیا ہے۔ علامہ اقبال ایکسپریس کو بھی اپگریڈ کر کے 30 جو سے پہلے چلایا جائے گا۔ 14 اگست کو کوئٹہ کی عوام کے لیے پیپلز ٹرین بھی چلا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح 31 دسمبر سے پہلے تمام ٹرینیں اپ گریڈ ہو جائیں گی جس سے عوام کو معیاری سفری سہولتیں فراہم ہو جائیں گی۔ وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف ریلوے اسٹیشنوں کی حالت کو بدل کر جدید سہولیات سے آراستہ کیا ہے بلکہ مسافر ٹرینوں کو بھی ساتھ ساتھ اپگریڈ کروا کر لوگوں کے سفر کو آرام دہ بنانے کے لئے کاوشیں کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ تاجر برادری کو سہولیات بہم پہنچانے کے لیے فریٹ سیکٹر کو مزید مضبوط اور فعال بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ریلوے کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو بھی ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے۔ تاکہ مال برداری کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کو مؤثر سہولیات فراہم ہوں۔ ریلوے کے ذریعے آٹو موبیل وھیکل کی ٹرانسپورٹیشن پر کام ہو رہا ہے جو جلد شروع ہو جائے گی۔

سندھ کی عوام کے لیے پاکستان ریلوے کی جانب سے بڑی خوشخبری کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی کامیاب اپ گریڈیشن کے بعد اب روہڑی ریلوے اسٹیشن کو پاکستان ریلوے کے ایک اہم جنکش کے طور پر مزید مؤثر بنایا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ سندھ حکومت کے تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کی لاگت کا 40 فیصد سندھ حکومت جبکہ 60 فیصد پاکستان ریلوے خود برداشت کرے گا۔ اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل کے بعد وہاں کی عوام کا دیرینہ خواب خوبصورت تعبیرمیں بدل جائے گا۔

مجموعی طور پر گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان ریلوے میں متعارف کروائی جانے والی اصلاحات ایک مثبت اور تعمیری تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اگر ان اقدامات کو تسلسل، شفافیت اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ جاری رکھا جائے تو پاکستان ریلوے نہ صرف ایک مستحکم اور منافع بخش ادارہ بن سکتا ہے بلکہ عوام کو محفوظ، آرام دہ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کر نے میں بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔