چین میں ریل کا نظام صرف سفر تک محدود نہیں بلکہ اب یہ ملک کی معیشت کو تیز رفتاری دینے والا ایک مضبوط سہارا بنتا جا رہا ہے۔
رواں سال کے پہلے چار ماہ میں چین کے قومی ریلوے نیٹ ورک نے ایک ارب اکتیس کروڑ ٹن سے زیادہ مال برداری کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد زیادہ ہے۔ بظاہر یہ اضافہ معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے جو تبدیلی کام کر رہی ہے، وہ چین کے نقل و حمل کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔اس کامیابی کی بنیاد ایک نئے “سنگل بل” لاجسٹک نظام کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی میں جب سامان ریل سے بندرگاہ اور پھر بحری راستے سے دوسری جگہ بھیجا جاتا تھا تو تاجروں اور کمپنیوں کو کئی بار کاغذی کارروائی کرنا پڑتی تھی۔ مختلف مراحل پر دستاویزات تبدیل ہوتی تھیں، کنٹینر بدلے جاتے اور وقت بھی ضائع ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مال کی ترسیل نہ صرف مہنگی بلکہ اس میں تاخیر بھی معمول بن جاتی تھی۔اب چین نے اس پورے عمل کو ایک ہی دستاویز کے تحت سادہ بنا دیا ہے۔
“سنگل بل” نظام میں سامان ایک ہی کنٹینر میں سیل رہتا ہے اور سفر کے آغاز سے اختتام تک ایک ہی دستاویز استعمال ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف ریل اور بحری نقل و حمل کے درمیان رابطہ آسان ہوا بلکہ پورا نظام زیادہ تیز اور شفاف بن گیا ہے۔
یہ نیا نظام صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاشی فوائد بھی نمایاں ہیں۔ چین ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق اس طریقہ کار سے کمپنیوں کے مجموعی لاجسٹک اخراجات میں تقریباً پچیس فیصد کمی آئی ہے، جبکہ ترسیل کی رفتار میں تیس فیصد سے زیادہ بہتری دیکھی گئی ہے۔ آج کے دور میں جہاں وقت ہی اصل سرمایہ سمجھا جاتا ہے، وہاں یہ بہت بڑی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بھی جوڑا گیا ہے۔ چین ریلوے کے “95306” پلیٹ فارمز کو بحری بکنگ کے نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اب صارفین اپنے سامان کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی بھی کر سکتے ہیں، یعنی جس طرح لوگ موبائل فون پر اپنے کوریئر پارسل کی معلومات دیکھتے ہیں، اسی طرح کاروباری ادارے اپنے کنٹینرز کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھ سکیں گے، اس سے نہ صرف اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پورا عمل پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور قابلِ نگرانی بن گیا ہے۔
چین نے اپریل میں “چائنا ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ ڈیولپمنٹ الائنس” بھی قائم کیا تاکہ لاجسٹک کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس اتحاد کا مقصد ریل اور بحری نقل و حمل کو بہتر انداز میں جوڑنا اور مختلف علاقوں کے درمیان مال برداری کے عمل کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اس وقت “سنگل بل” نظام ملک بھر کے اندرونی مال بردار اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ دریائے یانگ زے اور ساحلی علاقوں کی بڑی بندرگاہوں تک پھیل چکا ہے۔
جنوری سے اپریل تک چین کے ریلوے نیٹ ورک نے تقریباً انسٹھ لاکھ کنٹینرز پر مشتمل ریل اور بحری مشترکہ نقل و حمل مکمل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں دس اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔ انہی چار مہینوں میں “سنگل بل” نظام کے ذریعے پینتیس ہزار سات سو کنٹینرز کی ترسیل کی گئی۔
چین کی یہ حکمت عملی اس بات کی مثال ہے کہ اگر نقل و حمل کے نظام کو سادہ، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر دیا جائے تو نہ صرف کاروبار کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ پورے معاشی ڈھانچے کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین اپنی ریلوے لائنوں کو صرف پٹریوں کا جال نہیں بلکہ معیشت کی شہ رگ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔


