چین میں 6جی ٹیکنالوجی کی تیاری اب صرف لیبارٹریوں تک محدود نہیں بلکہ یہ آہستہ آہستہ حقیقی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔حال ہی میں چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے 6 گیگا ہرٹز بینڈ کو 6جی ٹیکنالوجی کے تجرباتی استعمال کے لیے منظور کر لیا ہے۔بظاہر یہ ایک تکنیکی خبر لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ مستقبل کی اُس دنیا کی جھلک ہے جہاں رابطے، معلومات اور مصنوعی ذہانت کا نظام آج سے کئی گنا تیز اور مضبوط ہوں گے۔

چین نے یہ اجازت 8 مئی کو دی، جس کے بعد “آئی ایم ٹی-2030 (6جی) پروموشن گروپ” کو مخصوص علاقوں میں 6جی ٹیکنالوجی کے تجربات کی اجازت مل گئی۔ اس فیصلے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ نئی نسل کا یہ مواصلاتی نظام شہروں، صنعتوں اور روزمرہ زندگی میں کس حد تک مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس عمل میں عالمی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کی جانب سے طے کیے گئے معیار اور اہداف کو بھی سامنے رکھا جا رہا ہے۔

دنیا ابھی پوری طرح 5جی کے فوائد سےلطف اندوز ہونا شروع ہوئی ہی ہے، لیکن ٹیکنالوجی کی رفتار اتنی تیز ہو چکی ہے کہ بڑی طاقتیں اگلے مرحلے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ چین بھی انہی ملکوں میں شامل ہے جو مستقبل کے مواصلاتی نظام میں قیادت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 6جی صرف انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے کا نام نہیں بلکہ یہ زمین، فضا اور خلاء کے درمیان رابطوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔اسی طرح مصنوعی ذہانت اور مواصلاتی نظام ایک ساتھ کام کریں گے، جبکہ سینسنگ ٹیکنالوجی بھی اس کا حصہ بنے گی۔

چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے اسپیکٹرم کی ضرورت ہے جو زیادہ گنجائش، وسیع کوریج اور مضبوط رابطہ فراہم کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ 6 گیگا ہرٹز بینڈ کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہ بینڈ درمیانی فریکوئنسی میں ایک نہایت قیمتی وسیلہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں رفتار اور کوریج کے درمیان بہتر توازن موجود ہے۔

وزارت کے ریڈیو ایڈمنسٹریشن بیورو کے فریکوئنسی پلاننگ ڈویژن کے ڈائریکٹر وانگ تان کے مطابق 6 گیگا ہرٹز بینڈ کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ موجودہ 5جی نظام کے ساتھ ہم آہنگی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 5جی سے 6جی کی طرف منتقلی نسبتاً کم لاگت اور زیادہ آسانی کے ساتھ ممکن ہو سکے گی۔ اس سے نہ صرف نیٹ ورک کی تعمیر کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ صنعتوں کو بھی نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں سہولت ملے گی اور یہ پیش رفت صرف انجینئرز یا سائنس دانوں تک محدود نہیں رہے گی۔جب 6جی حقیقی دنیا میں داخل ہوگا تو اس کے اثرات عام انسان کی زندگی میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔

مثال کے طور پر ہسپتالوں میں دور بیٹھے ماہر ڈاکٹر زیادہ مؤثر طریقے سے علاج کر سکیں گے، خودکار گاڑیاں بہتر انداز میں چل سکیں گی، فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والی مشینیں تیزی سے کام کریں گی اور دور دراز علاقوں تک بھی رابطے مضبوط ہو جائیں گے۔
ایک ایسے دور میں جہاں انسان کی زندگی کا بڑا حصہ ڈیجیٹل دنیا سے جڑ چکا ہے، وہاں تیز، محفوظ اور قابلِ اعتماد رابطہ بنیادی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔

چین نے 2022 سے 2025 تک 6جی ٹیکنالوجی کے پہلے مرحلے کے تجربات مکمل کیے، جن کے دوران 300 سے زیادہ اہم ٹیکنالوجیز پر کام کیا گیا۔ اب دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے جس میں تجربات کو حقیقی ماحول میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اگر ترقی کی رفتار یہی رہی تو 2030 تک 6جی ٹیکنالوجی باقاعدہ تجارتی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر یو شیاؤ ہو کا کہنا ہے کہ 6جی کے بنیادی تکنیکی ڈھانچے اور ترقی کا راستہ کافی حد تک واضح ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو برسوں کے دوران 6جی کے ابتدائی ورژنز تیار ہو سکتے ہیں، جبکہ اس کے ایک سے دو سال بعد تجارتی مصنوعات بھی مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائیں گی۔ٹیکنالوجی کی یہ دوڑ دراصل مستقبل کی معیشت، صنعت اور عالمی اثر و رسوخ کی دوڑ بھی ہے۔

چین اس میدان میں جس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کا ڈیجیٹل نقشہ پہلے سے کہیں زیادہ بدلنے والا ہے۔ ایسے میں 6جی صرف ایک نئی ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اُس مستقبل کی بنیاد بن رہی ہے جہاں فاصلے مزید سمٹ جائیں گے اور دنیا پہلے سے زیادہ جڑی ہوئی محسوس ہوگی۔