چین کے شہر تیان جن میں 2026 ورلڈ انٹیلیجنٹ انڈسٹری ایکسپو کا آغاز ہوا، جہاں دنیا بھر سے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور اسمارٹ صنعتوں سے وابستہ ادارے اور ماہرین ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔

نیشنل کنونشن اینڈ ایگزیبیشن سینٹر میں منعقد ہونے والی یہ چار روزہ نمائش صرف ایک تجارتی میلہ نہیں بلکہ مستقبل کی دنیا کی ایک جھلک بھی پیش کر رہی ہے، جہاں انسان اور ٹیکنالوجی کے تعلق کو نئے انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔اس میگا ایونٹ کا مشترکہ انعقاد تیان جن اور چونگ چھنگ کی جانب سے کیا گیا۔

نمائش کا مقصد مختلف شعبوں میں ذہین ٹیکنالوجی سے متعلق خیالات، تجربات اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اسی لیے یہاں صرف مصنوعات کی نمائش نہیں رکھی گئی بلکہ تجرباتی سرگرمیوں، مقابلوں، فورمز اور نئی کامیابیوں کے اعلان جیسے کئی پہلو بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ مختلف شعبوں کے لوگ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں۔

رواں سال ایکسپو میں ایک جامع مرکزی ہال کے ساتھ چھ خصوصی نمائشی حصے بھی قائم کیے گئے ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت کی بنیادی ٹیکنالوجیز، انسان جیسی صلاحیت رکھنے والی ذہین مشینیں اور اسمارٹ طرزِ زندگی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ خاص طور پر ایک ایسا تجرباتی حصہ بھی بنایا گیا ہے جہاں لوگ جدید ٹیکنالوجی کو قریب سے محسوس کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نمائش میں آنے والے افراد صرف چیزیں دیکھ ہی نہیں رہے بلکہ مستقبل کی ممکنہ زندگی کا تجربہ بھی کر رہے ہیں۔

نمائش میں دنیا بھر کی جدید ترین ایجادات، نئی مصنوعات اور اسمارٹ ٹیکنالوجی کے نمایاں کارنامے پیش کیے جا رہے ہیں۔ کہیں ایسے روبوٹس موجود ہیں جو انسانی انداز میں حرکت کرتے ہیں، تو کہیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے روزمرہ زندگی کو آسان بنانے والے نظام متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی اب صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عام انسان کی زندگی میں تیزی سے داخل ہو رہی ہے۔

ایکسپو کے دوران مختلف موضوعات پر متعدد تقریبات بھی منعقد ہوئیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خصوصی روز، کاروباری اداروں کی کانفرنسز اور مارکیٹ سے جڑے فورمز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ برانڈز مقابلے، نئی کامیابیوں کے اعلانات، دو طرفہ مذاکرات، سرمایہ کاری کے فروغ کی سرگرمیاں اور مختلف منصوبوں پر دستخط بھی ہوئے۔ ان سرگرمیوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نمائش صرف نظری گفتگو تک محدود نہیں بلکہ عملی تعاون اور نئے معاشی مواقع پیدا کرنے پر بھی زور دے رہی ہے۔تیان جن میونسپل بیورو برائے صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ریسرچ آفس کے ڈائریکٹر شین ماؤماؤ کے مطابق اس سال کی نمائش کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ بیک وقت پیشہ ورانہ بھی ہے اور جامع بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ چاہے کوئی سائنس دان ہو یا کاروباری خریدار، یہاں ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کر سکتا ہے۔ ان کی یہ بات اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اب صرف ماہرین کی دنیا تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کے مختلف طبقوں کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔

ورلڈ انٹیلیجنٹ انڈسٹری ایکسپو میں 28 فارچیون گلوبل، 500 کمپنیوں، چین کی 37 بڑی کمپنیوں اور اسمارٹ انڈسٹری سے وابستہ 400 سے زائد نمائندہ اداروں نے شرکت کی۔ اتنی بڑی تعداد میں عالمی اور مقامی اداروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی صنعتیں آنے والے برسوں میں عالمی معیشت کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

تیان جن میں جاری یہ ایکسپو صرف ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کا ایک ایسا منظر ہے جہاں انسان، مشین اور زندگی ایک نئے رشتے میں جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ایسے ایونٹس اس تبدیلی کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔