چین کے شمالی صحرا میں ایک عورت نے برسوں پہلے ایک خواب دیکھا تھا، اور وہ خواب صرف اپنے گھر کے گرد چند درخت لگانے کا نہیں تھا بلکہ ریت کے بے رحم سمندر کو ہریالی میں بدلنے کا تھا۔

آج جب دنیا ماحولیاتی تبدیلی اور جنگلات کی کمی پر فکرمند ہے تو چین کے ماوؤسو صحرا سے کی ایک کہانی انسان کے حوصلے، محبت اور عالمی تعاون کی ایسی مثال بن گئی ہے جو دل کو چھو لیتی ہے۔ساٹھ سالہ ین یوزھن آج چین میں صحرا کو سرسبز زمین میں بدلنے والی ایک بہادر خاتون کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

حال ہی میں ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوئی جس میں وہ اپنے پیچھے کھڑے گھنے درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک امریکی شخص رونالڈ ساکولسکی کو تلاش کر رہی تھیں۔ وہ شخص جس نے بیس سال قبل ان کی مدد کے لیے پانچ ہزار ڈالر جمع کیے تھے تاکہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مل کر درخت لگا سکیں اور صحرا کو پھیلنے سے روک سکیں۔

یہ کہانی انیس سو ننانوے میں شروع ہوئی جب رونالڈ ساکولسکی چین کے شہر لوویانگ میں ایک تعلیمی تبادلہ پروگرام کے تحت پڑھانے آئے ہوئے تھے۔

اسی دوران انہوں نے ٹیلی ویژن پر ین یوزھن کی جدوجہد دیکھی۔ اس وقت ین اور ان کے شوہر صحرا کے کنارے تقریباً دو ہزار ہیکٹر علاقے میں درخت لگا چکے تھے۔ سخت موسم، پانی کی کمی اور ریت کے طوفانوں کے باوجود وہ اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے تھے۔

رونالڈ اس جدوجہد سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے امریکہ میں مختلف اداروں اور لوگوں کو ای میلز بھیجنا شروع کیں تاکہ کچھ مالی مدد جمع کی جا سکے۔ کئی کوششوں کے بعد وہ پانچ ہزار ڈالر اکٹھے کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج یہ رقم شاید بہت زیادہ محسوس نہ ہو، مگر اس وقت چین میں ایک شہری کی سالانہ آمدنی اس سے کہیں کم تھی، اور ین یوزھن کے لیے یہ رقم ناقابل یقین تھی۔

ین یوزھن آج بھی وہ لمحہ نہیں بھولیں جب انہوں نے بینک سے رقم وصول کی۔ ان کے مطابق جب بینک والوں نے تیس ہزار سے زیادہ یوان ان کے سامنے گنے تو وہ گھبرا گئیں کیونکہ انہوں نے زندگی میں کبھی اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے فوراً پچاس ہزار پودے خریدے، لوگوں کو ساتھ ملایا اور شجرکاری شروع کر دی۔

سن دو ہزار میں رونالڈ خود اندرونی منگولیا کے علاقے اُوشن بینر میں واقع سالاووسو گاؤں پہنچے تاکہ اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ سکیں۔ وہاں کا ماحول اتنا سخت تھا کہ چاروں طرف صرف ریت ہی ریت دکھائی دیتی تھی۔ نہ سڑکیں تھیں اور نہ کوئی سہولت۔ رونالڈ حیران تھے کہ اتنے ننھے پودے اس بے رحم صحرا میں کیسے زندہ رہ سکیں گے۔ مگر ین یوزھن کو اپنے عزم پر پورا یقین تھا۔

انہوں نے اس وقت رونالڈ سے کہا تھا کہ جب چند سال بعد آپ واپس آئیں گے، تو آپ کو یہاں ایک گھنا جنگل نظر آئے گا۔وقت گزرتا گیا اور یہ خواب حقیقت بنتا گیا۔ حکومت کی مدد، مقامی لوگوں کی محنت اور ین یوزھن جیسے ماحول دوست کارکنوں کی لگن نے اس علاقے کی شکل کے ساتھ ساتھ تقدیر بھی بدل دی۔

آج ان کے گھر کے آس پاس جہاں پہلے کبھی ویران رہنے والی چار ہزار چھ سو ہیکٹر سے زیادہ زمین تھی، اب سرسبز اور ایک گھنے جنگل میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہاں اسی لاکھ سے زیادہ درخت لگائے جا چکے ہیں جبکہ ماوؤسو صحرا کے اس حصے میں صحرا پر قابو پانے کی شرح پچاسی فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ رونالڈ ساکولسکی کہتے ہیں کہ ایک خواب نے یہ سب ممکن بنایا، پہلے ین یوزھن نے خواب دیکھا، پھر ان کے شوہر اس خواب کا حصہ بنے، اس کے بعد وہ خود اس سفر میں شامل ہوئے اور پھر چینی حکومت نے بھی اس مشن کو اپنا لیا۔ یوں ایک عورت کا خواب لاکھوں درختوں کی صورت میں حقیقت بن گیا۔

یہ کہانی صرف درخت لگانے کی نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان اعتماد، محبت اور مشترکہ کوشش کی کہانی ہے۔ دنیا کے دو مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک مقدس مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور ارادہ مضبوط ہو تو ریت کے صحرا بھی سرسبز جنگل بن سکتے ہیں۔