چین کی ڈیجیٹل صنعت اس وقت صرف ایک معاشی شعبہ نہیں بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کا ایک مضبوط ستون بنتی جا رہی ہے۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار اس بات کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں کہ چین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت اور جدید صنعتی ڈھانچے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی نظریں اب چین کی ڈیجیٹل پیش رفت پر جمی ہوئی ہیں۔

چین کی وزارتِ صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی ڈیجیٹل صنعت کی آمدنی 9.5 ٹریلین یوان تک پہنچ گئی، جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 12.9 فیصد زیادہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرحِ نمو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد پوائنٹس زیادہ رہی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شعبہ مسلسل تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔

دنیا کی بڑی معیشتوں کو جہاں سست روی اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، وہاں چین کی ڈیجیٹل معیشت میں یہ رفتار خاص اہمیت رکھتی ہے۔صرف عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ ہی نہیں ہوا بلکہ منافع میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ پہلے تین ماہ کے دوران اس صنعت نے مجموعی طور پر 737.8 ارب یوان کا منافع حاصل کیا، جو سالانہ بنیادوں پر 23.6 فیصد زیادہ ہے۔ اس شرح میں 16.6 فیصد پوائنٹس کی تیزی یہ ظاہر کرتی ہے کہ چینی کمپنیاں صرف کاروبار بڑھا نہیں رہیں بلکہ ان کی کارکردگی اور پیداواری صلاحیت بھی بہتر ہو رہی ہے۔ اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور نئی ٹیکنالوجی پر مزید کام کرنے کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

چین کی ڈیجیٹل ترقی میں 5G نیٹ ورک بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ مارچ کے اختتام تک ملک میں 49 لاکھ 58 ہزار 5G بیس اسٹیشنز قائم کیے جا چکے تھے۔ یہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ چین نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں تک جدید انٹرنیٹ اور تیز رفتار رابطے کی سہولت پہنچانے پر توجہ دے رہا ہے۔ 5G ٹیکنالوجی صرف موبائل انٹرنیٹ کی رفتار بڑھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ خودکار صنعتوں، اسمارٹ شہروں، آن لائن تعلیم، جدید طبی سہولیات اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں کی بنیاد بھی بن رہی ہے۔

چین کے الیکٹرانک انفارمیشن مینوفیکچرنگ کے شعبے نے بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ بڑے اداروں کی صنعتی پیداوار میں 13.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی فیکٹریاں اور ٹیکنالوجی کے ادارے نئی مصنوعات، چپس، اسمارٹ ڈیوائسز اور دیگر جدید آلات کی تیاری میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سافٹ ویئر کی صنعت کی آمدنی میں بھی 11.7 فیصد اضافہ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین اب صرف ہارڈ ویئر بنانے والا ملک نہیں رہا بلکہ سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل خدمات میں بھی اپنا مقام بنا رہا ہے۔یہ تمام اعداد و شمار ایک ایسے رجحان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جو دنیا کی سمت کا تعین کرے گا۔

چین اپنی معیشت کو روایتی صنعتوں سے نکال کر جدید ڈیجیٹل بنیادوں پر منتقل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سینٹرز اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے نہ صرف نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں بلکہ عام لوگوں کی روزمرہ زندگی بھی بدل رہی ہے۔

آج چین میں تعلیم، سفر، خریداری اور طبی سہولیات سمیت زندگی کے مختلف شعبے ڈیجیٹل نظام سے جڑ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل معیشت اب صرف کمپنیوں کے منافع کا معاملہ نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ ہےؕ۔ چین کی حالیہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر کسی ملک میں طویل مدتی منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر اور مسلسل سرمایہ کاری موجود ہو تو ٹیکنالوجی معیشت کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔