چین کی معیشت پر اعتماد کی سب سے بڑی وجہ اس کی بیرونی تجارت ہے، جو اس وقت مضبوط رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ 2026 کے پہلے پانچ مہینوں کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر پیچیدہ حالات کے باوجود چین اپنی تجارت کو نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ اسے مزید وسعت بھی دے رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے دوران چین کی مجموعی اشیا کی تجارت 20.68 کھرب یوان تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.3 فیصد زیادہ ہے۔ اس عرصے میں برآمدات 11.91 کھرب یوان تک بڑھ گئیں جن میں 11.8 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ درآمدات 8.77 کھرب یوان تک پہنچیں اور ان میں 20.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف برآمدات ہی نہیں بلکہ اندرونی ضرورت اور صنعتی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
مئی کا مہینہ اس پورے رجحان میں خاص طور پر اہم رہا، کیونکہ اس دوران تجارت کی رفتار میں مزید تیزی دیکھی گئی۔ امریکی ڈالر کے حساب سے برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 19.4 فیصد اضافہ ہوا، جو اپریل کے 14.1 فیصد سے واضح طور پر زیادہ ہے۔ اسی طرح درآمدات میں بھی بڑا اضافہ ہوا اور یہ 27.4 فیصد تک پہنچ گئیں، جبکہ اپریل میں یہ شرح 25.3 فیصد تھی۔ اسی عرصے میں تجارتی سرپلس بھی بڑھ کر 105.43 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو اپریل کے 84.82 ارب ڈالر سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔پانچ ماہ کے مجموعی اعداد و شمار بھی ایک مضبوط تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس عرصے میں برآمدات میں 15.5 فیصد اور درآمدات میں 24.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مجموعی تجارتی سرپلس 451.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چین کی تجارت نہ صرف مسلسل بڑھ رہی ہے بلکہ اس میں ایک خاص حد تک توازن بھی برقرار ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں اس مضبوط کارکردگی کی بڑی وجہ دنیا بھر میں ہائی ٹیک مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ ہے۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت پر مبنی سرورز اور جدید الیکٹرانک پرزوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس نے چین کی برآمدی صنعت کو ایک نئی رفتار دی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کی تازہ رپورٹ بھی یہی بتاتی ہے کہ الیکٹرانک اجزاء کی عالمی تجارت اب بھی اپنے طویل مدتی رجحان سے کافی اوپر ہے۔دوسری جانب درآمدات میں تیزی کو بھی محض ایک عام اضافہ نہیں سمجھا جا رہا۔ اس میں خام مال، صنعتی مشینری اور اہم پرزوں کی بڑھتی ہوئی درآمد شامل ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کے اندر پیداوار اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں بھی تیز ہو رہی ہیں، یعنی یہ اضافہ صرف صارفین کی طلب تک محدود نہیں بلکہ صنعتی ترقی کا حصہ بھی ہے۔
تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی عالمی سپلائی چین میں مضبوط پوزیشن، ہائی ٹیک مصنوعات کی بڑھتی ہوئی برآمدات اور مختلف خطوں میں پھیلی ہوئی منڈیوں نے اس تجارتی ترقی کو سہارا دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ درآمدات میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اندرونی طلب کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہے، اور یہ سرپلس دراصل برآمدات اور درآمدات دونوں کی مجموعی ترقی کا نتیجہ ہے۔اگر مجموعی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ چین کی تجارت صرف ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی سرگرمی کا عکس ہے۔ ایک طرف برآمدات دنیا بھر میں اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہیں، تو دوسری طرف درآمدات اندرونی ترقی اور صنعتی اپ گریڈنگ کی کہانی سنا رہی ہیں۔ یہی امتزاج اس پورے نظام کو متوازن اور پائیدار بنا رہا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ چین کی بیرونی تجارت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں رفتار کے ساتھ ساتھ معیار بھی بہتر ہو رہا ہے، اور یہ بہتری آنے والے وقت میں عالمی معیشت پر بھی اپنے اثرات چھوڑ سکتی ہے۔


