خلائی تحقیق اب صرف سائنسی کامیابی کا نام نہیں رہی بلکہ یہ کسی بھی ملک کی تکنیکی صلاحیت، صنعتی ترقی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کا اہم پیمانہ بن چکی ہے۔

دنیا بھر کے ممالک خلا میں اپنی موجودگی مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور چین ان ممالک میں نمایاں مقام رکھتا ہے جو مسلسل نئی کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ 9 جون کو چین نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے دو نئے سیٹلائٹس کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیئے۔ سہ پہر 4 بج کر 23 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع دونگ فنگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے ژو چھوئے-2 ای وائی 6 کیریئر راکٹ کو خلا کی جانب روانہ کیا گیا۔ راکٹ نے مقررہ وقت پر پرواز بھری اور اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے دونوں سیٹلائٹس کو طے شدہ مدار میں پہنچا دیا۔

اس کامیاب لانچ نے ایک بار پھر چین کی خلائی صلاحیتوں پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔خلا میں بھیجے جانے والے دونوں سیٹلائٹس کے نام اسپیس سیل ڈی ٹی سی 01 اور چائنا موبائل 02 ہیں۔ اگرچہ اس مشن کے تحت ان سیٹلائٹس کے مخصوص فرائض کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ان کا کامیابی سے مدار میں پہنچ جانا اس بات کی علامت ہے کہ چین اپنے سیٹلائٹ نیٹ ورک اور خلائی انفراسٹرکچر کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔اس مشن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسے چین کی نجی راکٹ ساز کمپنی لینڈ اسپیس نے انجام دیاہے۔

ماضی میں خلائی سرگرمیاں زیادہ تر حکومتی اداروں تک محدود سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب چین میں نجی شعبہ بھی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ لینڈ اسپیس ان کمپنیوں میں شامل ہے جو جدید راکٹ ٹیکنالوجی کی تیاری اور تجارتی خلائی خدمات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ژو چھوئے-2 سیریز کے راکٹوں کے لیے یہ آٹھواں مشن تھا۔ کسی بھی راکٹ پروگرام کی کامیابی کا اندازہ صرف ایک پرواز سے نہیں لگایا جاتا بلکہ مسلسل کامیاب مشنز اس کی قابل اعتماد حیثیت کو ثابت کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو ژو چھوئے-2 سیریز نے چین کے تجارتی خلائی پروگرام میں اپنی اہمیت مزید بڑھا لی ہے۔لینڈ اسپیس کے مطابق ژو چھوئے-2 ای وائی 6 ایک دو مرحلوں پر مشتمل کم درجہ حرارت والے مائع ایندھن کا راکٹ ہے۔ اس کا قطر 3.35 میٹر ہے۔ جدید ڈیزائن اور مضبوط کارکردگی کی بدولت یہ مختلف اقسام کے سیٹلائٹس کو خلا میں لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ راکٹ کی یہ خصوصیات اسے تجارتی اور سائنسی دونوں نوعیت کے مشنز کے لیے موزوں بناتی ہیں۔ یہ زمین کے نچلے مدار تک 6 ٹن وزن پہنچا سکتا ہے، جبکہ 500 کلومیٹر بلند سورج کے ساتھ ہم آہنگ مدار تک 4 ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مستقبل کے متعدد خلائی منصوبوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم تصور کیا جا رہا ہے۔

چین گزشتہ چند برسوں کے دوران خلائی شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری اور تحقیق کر رہا ہے۔ چاند، مریخ، خلائی اسٹیشن اور سیٹلائٹ نیٹ ورک جیسے مختلف منصوبوں میں پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک خلا کو مستقبل کی ترقی کا ایک اہم میدان سمجھتا ہے۔ ہر کامیاب لانچ نہ صرف ایک تکنیکی کامیابی ہوتی ہے بلکہ اس کے پیچھے ہزاروں سائنس دانوں، انجینئروں اور ماہرین کی برسوں کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ژو چھوئے-2 ای وائی 6 کی یہ کامیاب پرواز بھی اسی مسلسل سفر کا حصہ ہے۔ یہ مشن اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ چین کی خلائی صنعت نہ صرف وسعت اختیار کر رہی ہے بلکہ اس میں نجی شعبے کی شرکت بھی بڑھ رہی ہے۔

آنے والے برسوں میں ایسی مزید کامیابیاں عالمی خلائی سرگرمیوں میں چین کے کردار کو مزید نمایاں بنا سکتی ہیں۔