دنیا بھر میں صنعتی ترقی کا رخ تیزی سے بدل رہا ہے اور نئی ٹیکنالوجی، معیشت کی رفتار متعین کرنے میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
چین بھی اس تبدیلی کے مرکز میں نظر آتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور جدید مشینری کو مختلف شعبوں میں عملی طور پر استعمال کرتے ہوئے پیداوار، کارکردگی اور پائیدار ترقی کو نئی سطح پر لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے میں آگے بڑھ رہا ہے بلکہ اسے اپنی صنعتی ترقی کا بنیادی ستون بھی بنا رہا ہے۔چین کے توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تیل، گیس، بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں درجنوں خصوصی مصنوعی ذہانت کے نظام متعارف کرائے جا چکے ہیں۔
ان کا مقصد کام کے مختلف مراحل کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور تیز بنانا ہے۔ اس سلسلے میں چین کی سب سے بڑی تیل اور گیس کمپنی نے "کن لون” نامی ایک جدید مصنوعی ذہانت کا نظام تیار کیا ہے، جسے کمپنی کے پورے صنعتی سلسلے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ نظام تیل اور گیس کی تلاش، پیداوار، ریفائننگ، فنی خدمات اور مالیاتی امور سمیت 152 مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کیا جاتا ہے، مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے اور بہتر فیصلوں میں مدد ملتی ہے۔
کمپنی کے حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق 27 معیار بھی متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔
دوسری جانب چائنا انرجی انویسٹمنٹ گروپ نے بجلی کی پیداوار کے لیے "چنگ یوان” نامی ایک اور مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرایا ہے۔ یہ نظام حفاظتی اقدامات، ماحولیاتی تحفظ، توانائی، پیداواری منصوبہ بندی اور آلات کی دیکھ بھال جیسے اہم شعبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے شعبے اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعاون ایک ایسا مثبت دائرہ تشکیل دے رہا ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کی ترقی کا سبب بن رہے ہیں۔چین کی قومی توانائی انتظامیہ نے گزشتہ ماہ توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے 51 اہم منظرناموں کا اعلان بھی کیا ہے۔
اس اقدام سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں توانائی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام میں مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا کردار مزید بڑھنے والا ہے۔ادھر تعمیراتی مشینری کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ چین کنسٹرکشن مشینری ایسوسی ایشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران تعمیراتی مشینری کی فروخت میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں طلب بڑھنے سے صنعت کو نئی توانائی ملی ہے۔جنوری سے مئی تک ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد کھدائی کرنے والی مشینیں فروخت ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی عرصے میں 67 ہزار سے زائد لوڈرز فروخت ہوئے، جن میں 27 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تعمیراتی سرگرمیاں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر برقی توانائی سے چلنے والی تعمیراتی مشینری نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ پہلے پانچ ماہ کے دوران تقریباً 21 ہزار برقی لوڈرز فروخت ہوئے، جو سالانہ بنیاد پر 90 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اس رجحان سے واضح ہوتا ہے کہ صنعت ماحول دوست اور توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔چینی تعمیراتی مشینری کی صنعت اب اعلیٰ معیار، مصنوعی ذہانت کے نظام، ماحول دوست ٹیکنالوجی اور مربوط ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
نئی برقی اور مصنوعی ذہانت والی مشینوں نے روایتی آلات کی جگہ لینا شروع کر دی ہے، جبکہ تکنیکی معیار، کارکردگی اور بعد از فروخت خدمات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔برآمدات کے شعبے میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران برقی تعمیراتی مشینری کی برآمدات 1,200 یونٹس سے تجاوز کر گئیں ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 200 فیصد اضافہ ہے۔
یہ اعداد و شمار عالمی منڈی میں چینی مشینری کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مسابقتی صلاحیت کو ظاہر کرتے ہیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مصنوعی ذہانت اور جدید مشینری چین کی صنعتی ترقی کے دو اہم ستون بنتے جا رہے ہیں۔ توانائی سے لے کر تعمیرات تک مختلف شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی کے استعمال نے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا ہے بلکہ پائیدار اور ماحول دوست ترقی کے لیے بھی نئی راہیں کھولی ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ مستقبل کی صنعت صرف زیادہ پیداوار نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، کارکردگی اور بہتر معیار کے اصولوں پر استوار ہوگی۔


