دنیا اس وقت ایک نئی تکنیکی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید صنعت اور عالمی تجارت اب صرف مستقبل کے خواب نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی اور معیشت کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چین ان ممالک میں شامل ہے جو اس تبدیلی کو صرف دیکھ نہیں رہے بلکہ اس کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔

حالیہ پیش رفت سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین ٹیکنالوجی، صنعت اور سرمایہ کاری کے میدان میں مسلسل نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔چین کے سافٹ ویئر کےشعبے میں مصنوعی ذہانت نے کام کرنے کے روایتی طریقوں کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ چونگ چھنگ میں ایک سافٹ ویئر کمپنی کے تحقیقی مرکز میں "مصنوعی ذہانت کی سپر ٹیم” کام کر رہی ہے، جس میں مختلف ذمہ داریوں کے لیے الگ الگ مصنوعی ذہانت کے نظام موجود ہیں۔ کوئی منصوبہ بندی کرتا ہے، کوئی انتظامی امور سنبھالتا ہے اور کوئی تکنیکی کام کی نگرانی کرتا ہے۔

انسانی انجینئرز اب ہر کام خود انجام دینے کے بجائے ان نظاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ وقت کی بچت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جو کام پہلے کئی دنوں میں مکمل ہوتا تھا، اب چند گھنٹوں میں انجام دیا جا سکتا ہے۔ سافٹ ویئر کی تیاری، کوڈ لکھنے، جانچ پڑتال اور مختلف مراحل کی تکمیل میں مصنوعی ذہانت فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے 2027 تک چھ اہم شعبوں میں 70 فیصد مصنوعی ذہانت کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دوسری جانب چین کی گاڑیوں کی صنعت بھی عالمی سطح پر اپنی موجودگی مضبوط بنا رہی ہے۔ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران چینی گاڑیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب نے گاڑیوں کو سمندری راستوں سے دنیا بھر تک پہنچانے والے خصوصی بحری جہازوں کی ضرورت بھی بڑھا دی ہے۔گوانگ ژو کے نان شا آٹوموبائل ٹرمینل سے صرف رواں سال تقریباً ایک لاکھ بانوے ہزار گاڑیاں بیرون ملک بھیجی گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں چورانوے ہزار نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں شامل تھیں۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ماحول دوست گاڑیوں کی عالمی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور چین اس طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اس ضرورت کے پیش نظر چین میں ایسے بڑے بحری جہاز تیار کیے جا رہے ہیں جو ایک وقت میں دس ہزار سے زائد گاڑیاں لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان جہازوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مائع قدرتی گیس اور تیل دونوں سے چل سکتے ہیں، جس سے ایندھن کے استعمال میں بہتری اور ماحول پر دباؤ میں کمی آتی ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ چین صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول دوست اقدامات کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔

معیشت کے ایک اور اہم شعبے، یعنی ادویات سازی میں بھی چین عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ڈنمارک کی معروف دوا ساز کمپنی نوو نورڈسک نے حال ہی میں شمالی چین کے شہر تیان جن میں اپنے پیداواری مرکز میں مزید 20 کروڑ یوان کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ مرکز کمپنی کی عالمی سپلائی چین کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔کمپنی 2003 سے چین میں سرمایہ کاری کر رہی ہے اور اب تک اس کی مجموعی سرمایہ کاری 17 ارب یوان تک پہنچ چکی ہے۔ یہ صرف ایک کمپنی کی کہانی نہیں بلکہ اس اعتماد کی عکاسی بھی ہے جو عالمی ادارے چین کی معیشت اور اس کے صنعتی ماحول پر ظاہر کر رہے ہیں۔نوو نورڈسک کے سربراہ کے مطابق دنیا میں متعارف کرائے جانے والے نئے کیمیائی مرکبات میں سے 44 فیصد اب چین میں تیار ہو رہے ہیں، جبکہ چند سال پہلے یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم تھی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین صرف ادویات کی پیداوار کا مرکز نہیں رہا بلکہ نئی تحقیق اور جدت کے میدان میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اگر ان تمام شعبوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سافٹ ویئر کی دنیا کو بدل رہی ہے، گاڑیوں کی صنعت عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ مضبوط کر رہی ہے اور دوا سازی کا شعبہ نئی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ یہ تمام پیش رفت ایک ایسے چین کی عکاسی کرتی ہے جو ٹیکنالوجی، جدت اور کھلے تعاون کو اپنی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنا رہا ہے۔آنے والے برسوں میں یہ رجحانات نہ صرف چین کی معیشت کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ عالمی صنعت، تجارت اور ٹیکنالوجی کے نقشے پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ آج دنیا چین کی ترقی کو صرف ایک قومی کامیابی نہیں بلکہ عالمی اقتصادی تبدیلی کے ایک اہم محرک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔