چین کی جدیدیت کا سفر صرف بڑے شہروں، جدید صنعتوں اور نئی ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اس کی حقیقی بنیاد دیہی علاقوں اور زرعی ترقی میں پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی قیادت مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ قومی ترقی کا معیار اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک دیہات خوشحال، زراعت مضبوط اور کسان مطمئن نہ ہوں۔24 جون کو صوبہ شان ڈونگ کے شہر ڈہ چو کے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ زرعی اور دیہی علاقوں کی جدید کاری چین کی مجموعی جدیدیت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کے معیار کو بہتر بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے، تاکہ ملک میں اناج اور دیگر اہم زرعی مصنوعات کی مستحکم فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔صدر شی جن پھنگ نے اپنے دورے کا آغاز ضلع لینگ چنگ کے ڈونگ یوجیا گاؤں سے کیا، جہاں انہوں نے گندم کی کٹائی، مکئی کی کاشت اور زرعی مشینری کی دستیابی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا۔ زراعت کسی بھی ملک کی غذائی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے فصلوں کی پیداوار اور جدید زرعی آلات کے استعمال پر توجہ دینا چین کی ترقیاتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس دورے سے یہ پیغام بھی ملا کہ قومی سطح کی پالیسیوں کا اصل امتحان کھیتوں اور دیہات میں ہوتا ہے۔
چین کے صدر شی جن پھنگ نے قریبی گاؤں شی یوجیا کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے دیہی احیاء کے مختلف منصوبوں اور مقامی زرعی و ذیلی مصنوعات کی نمائش کا مشاہدہ کیا۔
چین گزشتہ برسوں میں دیہی ترقی کو نئی سمت دینے کے لیے متعدد اقدامات کر چکا ہے، جن کا مقصد صرف آمدنی میں اضافہ نہیں بلکہ دیہی زندگی کے مجموعی معیار کو بہتر بنانا بھی ہے۔ مقامی مصنوعات کی نمائش اس بات کی علامت تھی کہ دیہی معیشت کو متنوع اور مضبوط بنانے کے لیے عملی کوششیں جاری ہیں۔
چین کے صدر کے دورے کا سب سے اہم اور انسانی پہلو اس وقت سامنے آیا جب صدر شی جن پھنگ نے کسان یوئی شن حوئی کے گھر جا کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی کے بارے میں دریافت کیا بلکہ روزگار، آمدنی، بزرگوں کی صحت اور بچوں کی تعلیم جیسے معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ایک قومی رہنما کا براہِ راست عوام کے گھروں تک جانا اس بات کا اظہار ہے کہ حکومتی پالیسیوں کا اصل مقصد عوامی زندگی میں بہتری لانا ہے۔
شی جن پھنگ نے اس موقع پر یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ زراعت، دیہی علاقوں اور کسانوں سے متعلق حکومتی پالیسیاں کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ ہو رہی ہیں۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ پالیسیوں کی کامیابی صرف کاغذی منصوبوں سے نہیں بلکہ عوام کی عملی زندگی میں آنے والی مثبت تبدیلیوں سے ناپی جانی چاہیے۔
انہوں نے پارٹی کے کارکنوں اور سرکاری اہلکاروں کو ہدایت دی کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط کریں، لوگوں کے مسائل حل کرنے میں عملی کردار ادا کریں اور ایسے اقدامات کریں جن سے عوام کے فائدے، خوشی اور تحفظ کے احساس میں حقیقی اضافہ ہو۔ یہ ہدایت دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ ترقی کا اصل مقصد عام لوگوں کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔
ڈہ چو کا یہ دورہ صرف ایک انتظامی سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس میں چین کی ترقیاتی سوچ کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس سوچ کے مرکز میں کسان، دیہی معاشرہ اور غذائی تحفظ موجود ہیں۔ جب کھیت آباد ہوں، دیہات ترقی کریں اور عوام خود کو ترقی کے ثمرات میں شریک محسوس کریں تو قومی جدیدیت کا سفر زیادہ مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھتا ہے۔
یہی پیغام شی جن پھنگ کے اس دورے سے سامنے آتا ہے کہ چین کی ترقی کا راستہ عوامی فلاح، دیہی خوشحالی اور زرعی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے۔ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت صرف اس کی معیشت، صنعت یا بڑے شہروں میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے کھیتوں، دیہات اور عام لوگوں کی خوشحالی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب حکومتی پالیسیاں عوام کی ضروریات کے مطابق بنائی جائیں، کسانوں کو ترقی کے عمل کا حصہ بنایا جائے اور دیہی علاقوں کو قومی ترقی کے مرکز میں رکھا جائے تو پائیدار خوشحالی کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دیہی احیاء، غذائی تحفظ اور عوامی فلاح پر مسلسل توجہ نہ صرف آج کی ضرورت ہے بلکہ مستقبل کی ترقی کی ضمانت بھی ہے۔


