آج کی عالمی معیشت میں سرمایہ کاری صرف منافع کے امکانات کو نہیں دیکھتی بلکہ استحکام، جدت اور مستقبل کی سمت کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں ایسے ممالک کا رخ کرتی ہیں جہاں ترقی کے مواقع، جدید ٹیکنالوجی اور کاروبار کےلیے سازگار ماحول موجود ہو۔

حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب بھی عالمی سرمایہ کاروں اور جدید صنعتوں کے لیے ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔چین کی وزارت تجارت کے مطابق رواں سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران تقریباً چار ہزار غیر ملکی کمپنیوں نے چین میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے۔ یہ صرف ایک عددی کامیابی نہیں بلکہ اس اعتماد کا اظہار بھی ہے جو بین الاقوامی کاروباری ادارے چینی معیشت پر رکھتے ہیں۔ 2025 کے اختتام تک چین میں غیر ملکی کمپنیوں کی تعداد پانچ لاکھ تینتیس ہزار تک پہنچ گئی، جو 2020 کے مقابلے میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

سرمایہ کاری کے حجم پر نظر ڈالیں تو 2025 کے اختتام تک چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی ذخیرہ تقریباً چار کھرب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ گزشتہ سال آٹھ ہزار سے زائد غیر ملکی کمپنیوں نے اپنے منصوبوں میں مزید سرمایہ لگایا، جو گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں دس فیصد سے زیادہ ہے۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ عالمی کاروباری ادارے چین کو محض ایک منڈی نہیں بلکہ طویل مدتی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کا اثر صرف مالیاتی اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایسی کمپنیوں نے ہر سال اوسطاً تین کروڑ سے زائد افراد کو روزگار بھی فراہم کیا ہے۔ اسی عرصے میں ان اداروں کی جانب سے ادا کیا جانے والا سالانہ ٹیکس تقریباً ڈھائی کھرب یوان رہا، جو چین کی مجموعی ٹیکس آمدنی کا تقریباً ساتواں حصہ بنتا ہے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری ملکی ترقی میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہی ہے۔چین نے مستقبل میں بھی بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لیے کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حکام کے مطابق سروسز کے شعبے میں کھلے پن، مارکیٹ تک رسائی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اس حکمت عملی کا مقصد صرف سرمایہ کاری بڑھانا نہیں بلکہ اس کے معیار اور اثرات کو بھی بہتر بنانا ہے۔اسی دوران بیجنگ میں جاری چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو نے ایک اور اہم رجحان کو نمایاں کیا ہے۔

پہلی مرتبہ اس نمائش میں مصنوعی ذہانت کے لیے ایک خصوصی زون قائم کیا گیا ہے، جہاں دو سو سے زائد ادارے شریک ہوئے۔ اس خصوصی زون نے نمائش میں آنے والوں کی غیر معمولی توجہ حاصل کی اور جدید ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔

نمائش میں مصنوعی ذہانت کے مختلف استعمالات کو اجاگر کیا گیا۔ ان میں ایک ایسا مصنوعی ذہانت کا نظام بھی شامل تھا جو آپریشن سے پہلے مریض کی ہڈیوں کا تین جہتی خاکہ تیار کرتا ہے اور علاج کے لیے معاون منصوبہ فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد خودکار روبوٹ انتہائی درستگی کے ساتھ سرجری کے عمل میں معاونت کرتے ہیں۔

اس نظام کی درستگی ملی میٹر سے بھی کم سطح تک پہنچ جاتی ہے، جو جدید طبی ٹیکنالوجی کی نمایاں مثال ہے۔نمائش کے مختلف حصوں میں رہنمائی کرنے والے روبوٹس، سامان کی درجہ بندی کرنے والے خودکار نظام اور دیگر مصنوعی ذہانت کے آلات بھی موجود تھے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اب محض تجرباتی مرحلے میں نہیں رہی بلکہ صنعت، نقل و حمل، پیداوار اور روزمرہ کاروباری سرگرمیوں کا ایک اہم جزو بن چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی اب الگ الگ منصوبوں سے آگے بڑھ کر ایک مکمل نظام کی شکل اختیار کر رہی ہے، جہاں مختلف صنعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نئی صلاحیتیں پیدا کر رہی ہیں۔ یہی تعاون مستقبل کی صنعتی ترقی کی بنیاد بن رہا ہے۔

چائنا انٹرنیشنل سپلائی چین ایکسپو، جو 2023 میں شروع کی گئی تھی، دنیا کی پہلی قومی سطح کی نمائش ہے جو سپلائی چین کے موضوع پر مرکوز ہے۔ اس سال کی نمائش میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید صنعت، سبز زراعت، صحت مند زندگی، اسمارٹ گاڑیاں اور صاف توانائی سمیت متعدد شعبوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا مسلسل بڑھنا اور مصنوعی ذہانت کا تیزی سے پھیلاؤ ایک ہی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ چین اپنی معیشت کو صرف وسعت نہیں دے رہا بلکہ اسے جدت، ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کے ذریعے نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی کر رہا ہے۔ یہی عوامل اسے عالمی معیشت میں ایک اہم اور متحرک کردار ادا کرنے کے قابل بنا رہے ہیں۔