سرکاری اداروں میں اگر کسی ادارے سے ہمیں عزت، پہچان، خدمت اور اپنائیت ملی تو وہ پنجاب کی سرکاری درس گاہیں ہیں۔ دیگر سرکاری اداروں کے برعکس سرکاری اسکولز وہ باعزت مقامات ہیں جہاں جانے والوں کو ناصرف بلاسفارش اور بغیر رشوت کے سرکاری خدمات میسر اۤئیں بلکہ وہاں موجود اساتذہ کرام نے ہمیشہ اپنی مالی استطاعت اور وسائل سے بھی بڑھ چڑھ کر طلبا و طالبات کے مستقبل سنوارنے کی کوشش کی اور یقیناً اب بھی کر رہے ہیں۔
ان سرکاری اساتذہ کرام نے ہر حکومت کے دوران بلا امتیاز طلبا کو لگن، محنت اور جانفشانی سے پڑھایا۔ یہ سب الفاظ میں پورے وثوق اور یقین سے اس لئے لکھ رہا ہوں کہ میرا ذاتی تجربہ اور سارا تعلیمی کیریئر اسی کی مرہونِ منت ہے۔ اگر اپنے مکمل تعلیمی سفر سے متعلق لکھنے کی کوشش کی تو تحریر خاصی طویل ہوجائے گی اسلئے صرف ہائی اسکول/میٹرک کا تجربہ اۤپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ ( پرائمری اور مڈل اسکولز سے متعلق تفصیل بھی انشا اللہ شیئر کرونگا)۔ میری یہ تحریر پڑھ کر اۤپ کو اندازہ ہوگا کہ صوبائی ایجوکیشن منسٹر کی جانب سے سرکاری اسکولز کے ٹیچرز سے متعلق غیر ضروری بیان بازی کر کے کس قدر زیادتی کی گئی ہے۔
سال 2003 میں، میں نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول ٹبہ سلطان پور (ضلع وہاڑی) میں نویں کلاس میں داخلہ لیا تھا۔۔۔اسکول کے اساتذہ کی محنت اور شاندار رزلٹ کی بدولت عالم یہ ہوتا تھا کہ اُس وقت اِس ادارے میں داخلہ ملنا مشکل ہوتا تھا اور کلاس رومز میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی۔۔۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے چوہدری عبدالخالق گجر صاحب اور محمد ریاض صاحب جیسے اساتذہ کے سیکشن میں داخل مل گیا(باقی تمام سیکشنز اور وہاں کے اساتذہ کرام بھی پڑھانے میں اپنی مثال اۤپ تھے۔۔۔ تعمیری مقابلے کی فضا تھی)۔۔. چوہدری عبدالخالق صاحب کلاس انچارج تھے۔ وہ انگلش اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے۔ محمد ریاض صاحب میتھ، کیمسٹری اور فزکس پڑھاتے تھے۔ چوہدری سردار صاحب بیالوجی، حافظ اللہ بخش صاحب اردو اور قاری رحیم بخش صاحب اسلامیات کی تعلیم دیتے تھے۔۔۔متبادل کے طور پر سائنس ٹیچر اصغر علی صاحب سے بھی پڑھنے کا موقع ملتا تھا۔
ہمارے یہ درویش صفت اساتذہ کرام ایسے تھے کہ صبح کلاس لگنے سے لگ بھگ ایک گھنٹہ قبل ہی زیرو پیریڈ لگا کر ہمیں بورڈ کے پیپر کیلئے تیار کرتے تھے۔ چھُٹی کے بعد بھی گھنٹہ/دو گھنٹے اضافی لگاتے تھے۔۔ٹیوشن فیس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔۔۔یہ سرکاری اساتذہ کرام مفت میں اپنا قیمتی وقت اور اۤرام غارت کرکے ہم پر ایکسٹرا ٹائم لگاتے تھے۔۔۔انہیں ایکسٹرا ٹائم اسلئے لگانا پڑتا تھا کہ ایک تو سرکار کی جانب سے سرکاری اسکولز کیلئے بنایا گیا سلیبس اور کتابیں ایسی پیچیدہ ہوتی تھیں کہ طلبا کو قدم قدم پر راہنمائی درکار ہوتی تھی۔۔۔دوسرا یہ کہ ضلع وہاڑی کے اس اسکول کا پورے ملتان ڈویژن اور بورڈ میں ایک نام اور مقام تھا، جسے برقرار رکھنے کیلئے شبانہ روز محنت کروائی جاتی تھی۔۔۔ادارے کا یہ نام اور مقام بھی انہی اساتذہ کرام کی برسوں کی محنت کی بدولت بنا تھا۔
ڈیوٹی اۤورز سے ہٹ کر اس اضافی محنت کے علاوہ جب بورڈ کے امتحان کا وقت قریب اۤتا تو ہمارے یہ اساتذہ کرام ہم دور دراز سے اۤنیوالے طلبا کیلئے اسکول میں ٹھہرنے کا انتظام بھی کرتے۔۔۔ مجھ سمیت کئی طلبا دور دراز کے چکوک اور بستیوں سے شہر اۤتے تھے۔۔ میرا گھر اسکول سے لگ بھگ 10 کلومیٹر دور تھا اور میں اکثر سائیکل پر جاتا تھا۔ میرے ساتھ اور بھی کافی سارے طلبا کی یہی صورتحال ہوتی تھی۔۔ان حالات میں بورڈ امتحان کے قریب اسکول کا ایک کمرہ ہمیں دیا جاتا، جہاں امتحان سے پہلے رہائش دی جاتی۔۔۔ٹبہ سلطان پور شہر اور قریب رہنے والے ہمارے کلاس فیلوز رات کو ہمارے پاس اۤجاتے اور ہم اسکول میں مل کر پڑھائی کرتے۔۔اساتذہ کرام رات کو بغیر کسی اضافی فیس یا لالچ کے وہاں چکر لگاتے، ہماری نگرانی کرتے اور ہمہ وقت راہنمائی فرماتے۔ اسکے علاوہ تواتر سے ہمارے ٹیسٹ لئے جاتے تھے۔
پڑھائی کے علاوہ یہ ٹیچرز طلبا کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھتے تھے۔ چوہدری خالق گجر صاحب تو اس قدر مہربان تھے کہ مجھے سخت تاکید تھی کہ کھانا بھی انکے گھر سے کھاوں۔۔۔مفت تعلیم، مفت ٹیوشن، ہمہ وقت مفت راہنمائی، رہائش اور گھر کا کھانا تک مفت۔۔۔۔تمام طلبا کیلئے ایسا ماحول اور ایسی شفقت کہ جیسے سگی اولاد ہو۔
قصہ مختصر میں اور میرے جیسے دیگر ہزاروں طالب علم ایسے محنتی، مخلص اور دیانت دار سرکاری اساتذہ کی انتھک لگن اور فرض شناسی کی بدولت میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کرنے میں کامیاب ہوگئے۔۔ یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ اس ایک سرکاری ادارے سے ہر برس سینکڑوں طلبا اسی عمل سے گزر کر میٹرک کا مشکل امتحان پاس کرتے تھے اور اۤجکل یہ طلبا پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف مقامات اور اچھے عہدوں پر فائز ہیں۔ ۔۔۔اگر میرے جیسے کمزور بیک گراونڈ کے طلبا کو زندگی میں ایسے اساتذہ اور راہنمائی نہ ملتی تو شاید تعلیم سے ناطہ ٹوٹ جاتا اور انڈر میٹرک ہی رہ جاتے۔۔۔۔یہ اُس وقت کے سرکاری اساتذہ تھے اور اۤج بھی ان جیسے ان گنت اساتذہ محدود سرکاری وسائل اور ان گنت چیلنجز کے باوجود اسی لگن، محنت اور ایمانداری سے پڑھا رہے ہیں۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے فنڈز کی قلت، دیگر وسائل کے چیلنجز، ریکارڈ چھٹیوں اور محکمے کی جانب سے غیر ضروری الجھاو کے اقدامات کے باوجود یہ اساتذہ اسکولوں میں نا صرف طلبا کی تعداد بڑھانے کے چیلنج سے نمٹتے ہیں بلکہ درس و تدریس کی ڈیوٹی بھی بخوبی سرانجام دے رہے ہیں۔ اۤج بھی کئی اساتذہ غریب طلبا کیلئے ذاتی کاوشیں کر کے وردی، جوتوں، کتابوں اور اسٹیشنری وغیرہ کا انتظام کر رہے ہوتے ہیں۔ سرکاری فنڈز کی قلت کی وجہ سے ہمارے علاقوں کے کئی اسکولز میں وہاں کی لازمی ضروریات کیلئے اساتذہ کرام مخیر حضرات کی مدد سے کئی امور چلا رہے ہیں۔۔بہت سے اساتذہ اپنے ذاتی سامان/ مشینری کو بروئے کار لاکر اسکول کی صفائی ستھرائی اپنی جیب سے کرتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ غرض یہ واحد سرکاری محمکہ ہے جہاں کے ملازم سرکاری وسائل کی قلت اور سرکاری مسائل کی فروانی کے باوجود اپنے فرائض کو ایمانداری سے پورا کرنے میں مگن رہتے ہیں۔
تحریر کا پس منظر
پنجاب کے وزیرتعلیم رانا سکندر حیات صاحب نے بیان داغا ہے کہ:”سرکاری اسکولوں کے اساتذہ جاتے ہوئے پنکھے اتار کر لے جاتے ہیں۔”۔۔۔انکے اس بیان سے جہاں ساری عمر انتہائی محنت اور لگن سے پڑھانے والے بزرگ اساتذہ کرام کے دل دکھے، وہیں حاضر سروس اساتذہ نا صرف غمگین ہیں بلکہ انکے حوصلے پست ہوئے ہیں۔۔۔ اگرچہ ہر شعبے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں مگر تمام سرکاری اساتذہ سے متعلق ایک عمومی بیان دیکر معصوم طلبا کے دلوں میں تمام اساتذہ کرام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ جن اسکولز میں ایسا ہوا ہے صرف انہی کی بات کریں اور اصل حقائق سامنے لائیں۔۔۔اکا دکا واقعات کی بنا پر تمام اساتذہ کو رگڑا مت لگائیں۔
— Kismat Khan (@KismatZimri) June 27, 2026


