ڈرائنگ رومز کی بڑھتی سیاست محدودہوتی سیاسی سرگرمیوں پرملک میں عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں میں حیرانگی کا اظہار کیا جارہا ہے ،تبصرے کئے جارہے ہیں کہ روایتی یا نئی ابھرتی سیاسی قوتوں نے عوامی ایجنڈوں پر سوچ بچارچھوڑ دی ہے۔ ایڈھاک پر معاملات چلائے جارہے ہیں ۔ترجیحات کچھ اور ہیں سیاسی انحصار بھی بڑھتا جارہا ہے ۔

پی ٹی آئی کے بھی روایتی احتجاج پر ساکھ داو پر لگ چکی ہے کوئی کسی اور کے اشاروں کے منتظر ہیں ،کسی کو بدلتے عالمی حالات کا شاید ادارک نہیں، کسی کو اپنی سیکورٹی کی پڑی ہے اور ڈرائنگ رومز کی سیاست عروج پر ہے۔

پارلیمانی راہداریوں میں تو سخت تبصرے سننے کے ملے کہ مانگے تانگے کی نشستوں کے عادی ہوتے جارہے ہیں ۔سیاسی جماعتیں اسکے مضمرات کا فہم بھی شاید نہیں رکھتیں کہ جگہ کوئی اور پُرکرتے جائیں گے ۔

پارلیمینٹ کی طرف جانا ہوا کہ پارلیمانی جماعتوںکی اتنی خاموشی کیوں ؟ کچھ تو معلوم کریں ۔باقی سب تو بند گلی کے باسی لگتے ہیں ۔کچھ ارکان ملے انھیں بھی قائمہ کمیٹیوںکی روایتی مصروفیت میں دیکھا۔البتہ سیاسی سرگرمیوں کو بعض موسمی شدت بتارہے تھے ،مہمانوں کوان سے متفق نہ دیکھا۔ بولے بڑھتے عوامی مسائل داخلی معاملات سیاسی جماعتوں کے تعاقب میں ہیں۔

کارکردگی تو کچھ نہیں اس لئے سیاسی سرگرمیوں کو ہی محدود کردیا گیا ہے ،تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کسی بھی شہر میں بڑے سیاسی شوکی کوشش کرے لگ پتہ جائے گا ،عوام کے مسائل کے حل کی کوشش تو دور کی بات ہے لیڈروں سے ملنا ووٹرز کا دشوار ہوتا جارہاہے ۔

اقامت گاہوں پر ایسے سخت پہرے دار بٹھا رکھے ہیں کہ ووٹرز سے سخت رویوں کے اظہار پر پھر کوئی ادھر کا رخ ہی نہ کرے ۔نہ قومی معاملات نہ عوامی مسائل پر کسی کی کوئی کارکردگی ہے عوام سے نہ رابطے ہیں،سیاستدانوں کے معاونین مشیروں کے دوستوں جاننے والوں کی البتہ رسائی کوئی مسئلہ نہیں بس عامووٹرز سے کنارہ کشی کا ماحول ہے ،اور دعوے مقبولیت کے۔سخت تبصرے سننے کو مل رہے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ایڈھاک پر چل رہی ہیں۔

واضح لائحہ عمل نہیں کوئی ایسی سیاسی تجاویز سامنے نہ آسکیں جس سے قیام امن کے لئے کوئی رہنمائی ملے ، بس وقت گزاری کی روش اختیار کررکھی ہے ،یہی وجہ کہ اب سیاسی جماعتوں کے مطالبات نظر اندازکرنے کی ایک روش چل نکلی ہے اور دوسری سوچ یہ پائی جاتی ہے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے یعنی مطالبات کو سیاسی بڑکھیں قرار دینے کے مصداق کی صورتحال ہے ۔

سیاسی جماعتیں بھی بس ایسے حالات سے دوچار ہیں جیسے کھایا پیا کچھ گلاس توڑا بارہ آنے،یہ صورتحال مستقبل کے ممکنہ انتخابی نتائج کا بھی پوسٹمارٹم کہ اقتدارتک رسائی کے راستوں کی نشاندہی کے نئے متعین اصول پختہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔