اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمینٹ کی داخلہ کمیٹیوں نے بلوچستان میں بڑھتی بدامنی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ملٹری آپریشن،سیکورٹی اداروں کوان کیمرہ اجلاس میں پارلیمینٹ کوبریفنگ کی ہدایت کردی۔

قومی اسمبلی سینیٹ کی مجالس قائمہ داخلہ کے اجلاس پارلیمان میں منعقد ہوا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ آئندہ ہفتے دورہ بلوچستان کے لئے کوئٹہ جائے گی۔ وزیرمملکت داخلہ طلال چوہدری کو انتظامات کی ہدایت کردی گئی ۔ اجلاس میں پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خوشحال خان کاکڑ نے بلوچستان کی سنگینی پرغیر معمولی انکشافات کئے۔

انھوں نے کہا کہ پانچ سے سات ہزار افراد نجی کمانڈرز نے ایک سے ڈیڑہ لاکھ روپے ماہانہ پر رکھا گیا ہے جو کوئٹہ میں مسلح ہوکر دندناتے پھرتے ہیں کون ان کو کنٹرول کررہا ہے۔اعجازالحق نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کو بلوچستان کے سیاسی حل کی تجاویز پیش کی۔حالات خراب ہورہے ہیں ۔جمال خان رئیسانی نے بلوچستان کی صورتحال پر اے پی سی کی تجویز دی ۔آغاررفیع اللہ نے کہا کہ نجی کمانڈرز بلوچستان کو کنٹرول کررہے ہیں ہریونین کونسل میںبارہ کمانڈرز دندتاتے پھر رہے ہیں۔ کشمیر کے حالات بگڑتے جارہے ہیں ۔بلوچستان پر ان کیمرہ بریفنگ لی جائے ۔،

نبیل گبول نے بلوچستان میں کمیٹی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی جب کہ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں ہمارا کوئی بلوچ پختون بھائی محفوظ نہیں ہے ،بلوچستان کے لوگوں کو بھی پتہ لگے ہمارے نمائندے ہمارے ساتھ موجود ہیں ۔بلوچستان میں جگہ جگہ کمانڈر گھومتے ہیں ریاست کے اندر ریاست قائم ہے ۔خوارج کا کسی قوم قبیلے سے تعلق نہیں ہماری یکجہتی کے مخالف ہیں ۔بلوچستان ہر یونین کونسل میں آٹھ آٹھ کمانڈر اسلحے کیساتھ گھومتے ہیں ۔

بلوچستان دہشتگردی واقعات پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے ۔خوشحال خان نے کہا کہ کوئٹہ میں سات ہزار لوگوں پر مشتمل امن فورس بنی ہے۔مانگی تعمیر شدہ ڈیم سے تقریبا 30 لوگوں کو اٹھا کر قتل کیا گیا ہے۔ خوشخال خان نے کہا کہ لوگوں کو بتایا جاتا ہے آپکی لاشیں ادھر پڑی ہیں فورسز کیا کر رہی ہیں۔کمیٹی کو کوئٹہ جا کر اجلاس منعقد کرنا چاہیئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان دہشتگری واقعات پر بریفنگ کیلئے اگلا اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہو گا ۔ ارکان نے کہا کہ ملٹری آپریشن سے بریفنگ لی جائے۔

آزادکشمیر کی بگڑتی صورتحال پرقومی اسمبلی قائمہ کمیٹی داخلہ نے حکومت سے بریفنگ طلب کرتے ہوئے کہا کہ معاملات کا سیاسی حل نکالاجائے۔ارکان نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ بد امنی ہے ۔نمائندے اپنے حلقوں میں نہیں جاسکتے ۔سیاست پارلیمان کو دیوار سے لگایا جارہا ہے ۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا سینیٹ اجلاس فیصل سلیم الرحمان کی زیرصدارت منعقدہوا۔وہاں بھی ملک میں بدامنی پر اظہار تشویش کیا گیا۔وزیرمملکت داخلہ اور سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ ،

سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو پولیس اسٹیٹ بنادیا گیا ،وزیرمملکت نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام آباد پولیس میں سب فرشتے ہیں ، غلطی ہوسکتی ہے ۔ارکان سینیٹ کے اہل خانہ سمیت بلیوپاسپورٹ کی سہولت کے بل کو منظور کرلیا گیا ہے ۔