دنیا اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی صرف زندگی کو آسان بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ انسانی صلاحیتوں کی نئی تعریف بھی کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، خلائی کمپیوٹنگ اور دماغ سے مشین کو کنٹرول کرنے جیسی ٹیکنالوجیز اب سائنسی تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بنتی جا رہی ہیں۔
چین نے اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) میں ان شعبوں کو مستقبل کی معیشت اور سائنسی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیا ہے، اور حالیہ پیش رفت سے واضح ہے کہ ملک اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔بیجنگ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس، اب تحقیق سے نکل کر عملی علاج کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر دماغ سے جسم تک اعصابی راستہ کسی بیماری یا حادثے کے باعث متاثر ہو جائے تو دماغ کے اشاروں کو براہِ راست کمپیوٹر یا دوسرے آلات تک پہنچایا جا سکے۔ اس پیش رفت کی ایک متاثر کن مثال صوبہ شان شی سے تعلق رکھنے والی مریضہ کاؤ یونگ ہوا ہیں، جن کے دماغ میں بیجنگ میں تیار کردہ "بے ناؤ-1” آلہ نصب کیا گیا ہے۔
تربیت کے بعد وہ صرف اپنے دماغی اشاروں سے کمپیوٹر کی اسکرین پر کرسر حرکت دینے کے قابل ہو گئی ہیں۔ ان کے مطابق پہلے انگلی ہلانے کا تصور بھی بے اثر رہتا تھا، لیکن اب ہر کامیاب حرکت انہیں صحت یابی کی نئی امید دیتی ہے۔اس کامیابی کے پیچھے صرف ایک ایجاد نہیں بلکہ ایک مکمل تحقیقی نظام کام کر رہا ہے۔
کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ بیجنگ تیانتان اسپتال میں ملک کا پہلا خصوصی برین کمپیوٹر انٹرفیس وارڈ قائم کیا جا چکا ہے، جہاں ریڑھ کی ہڈی کے شدید متاثرہ مریضوں سمیت دیگر اعصابی بیماریوں پر طبی آزمائشیں جاری ہیں۔
ماہرین زبان کی بحالی اور اعصابی کمزوری جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔بیجنگ میں اس شعبے کی ترقی ایک ہی راستے تک محدود نہیں۔ غیر مداخلتی، نیم مداخلتی اور مکمل مداخلتی تینوں اقسام کی ٹیکنالوجیز پر بیک وقت کام ہو رہا ہے۔ "بے ناؤ-1” کے ذریعے اب تک تقریباً تیس مریضوں میں کامیاب امپلانٹ کیے جا چکے ہیں،
جن میں بعض مریض روبوٹک بازو کو کنٹرول کرنے اور کچھ ریڑھ کی ہڈی کی برقی تحریک اور بیرونی معاون ڈھانچوں کی مدد سے دوبارہ کھڑے ہونے اور جزوی طور پر چلنے کے قابل ہوئے ہیں۔ دوسری جانب زیادہ جدید "بے ناؤ-2” کی طبی آزمائشیں رواں سال شروع کیے جانے کا منصوبہ ہے، جس میں دماغ کے اندر نصب ہونے والے الیکٹروڈ زیادہ تفصیلی اعصابی معلومات حاصل کر سکیں گے۔
چین مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کو صرف زمین تک محدود نہیں دیکھ رہا۔ اسی سوچ کے تحت ملک نے خلائی کمپیوٹنگ کے لیے اپنا پہلا قومی اختراعی مرکز قائم کیا ہے۔
خلائی کمپیوٹنگ کا مطلب یہ ہے کہ سیٹلائٹس اور خلائی اسٹیشن صرف معلومات جمع نہ کریں بلکہ وہیں مدار میں رہتے ہوئے ڈیٹا محفوظ کریں، اس کا تجزیہ کریں اور فوری فیصلے بھی کر سکیں۔
اس مرکز میں خلا کے لیے خصوصی چپس، طاقتور کمپیوٹنگ نظام، مصنوعی ذہانت پر مبنی بڑے ماڈلز اور صنعت کے مشترکہ معیار تیار کیے جائیں گے تاکہ تحقیق سے لے کر تجارتی استعمال تک پورا نظام ایک دوسرے سے جڑے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے زمینی شاہراہوں کے ساتھ سروس اسٹیشن ضروری ہوتے ہیں، اسی طرح مستقبل کے سیٹلائٹ نیٹ ورک کو بھی خلاء میں کمپیوٹنگ سہولت درکار ہوگی۔ 6G ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ خلا، فضا، زمین اور سمندر کو جوڑنے والا مربوط مواصلاتی نظام وجود میں آ رہا ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں رابطے، ریموٹ سینسنگ اور دیگر جدید خدمات کے نئے دروازے کھلیں گے۔
اس کے ساتھ ہی چین نے سائنسی تحقیق کے لیے ایک نئی گھریلو سافٹ ویئر پلیٹ فارم "یی سوان فانگ ژو” بھی متعارف کرایا ہے۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد یہ مسئلہ حل کرنا ہے کہ ملکی کمپیوٹنگ ہارڈویئر تو تیزی سے ترقی کر رہا تھا، مگر بیرونی نظاموں کے لیے لکھا گیا تحقیقی سافٹ ویئر آسانی سے ان پر منتقل نہیں ہو پاتا تھا۔
یہ پلیٹ فارم الگورتھم، کوڈ اور تحقیقی ایپلی کیشنز کو ایک ہی نظام میں جوڑتا ہے، جبکہ اس میں شامل "باؤنڈ ایکس” ماڈل پرانے تحقیقی کوڈ کو خودکار انداز میں ملکی کمپیوٹنگ ماحول سے ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس سے سائنس دانوں کو پیچیدہ کوڈ دوبارہ لکھنے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور نئی تحقیق کی رفتار مزید تیز ہو سکے گی۔ان تمام منصوبوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تصویر زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ چاہے بات انسانی دماغ کو نئی امید دینے کی ہو، خلا میں ذہین کمپیوٹنگ نظام قائم کرنے کی یا ملکی سائنسی سافٹ ویئر کو مضبوط بنانے کی،
چین ایک ایسے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں مصروف ہے جہاں تحقیق، صنعت اور عملی استعمال ایک دوسرے سے جڑے ہوں۔ یہی جامع حکمت عملی مستقبل میں نہ صرف سائنسی ترقی کو رفتار دے سکتی ہے بلکہ صحت، مواصلات، تعلیم اور صنعت سمیت کئی شعبوں میں نئی تبدیلیوں کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔


