دنیا میں مصنوعی ذہانت کو اکثر مستقبل کی ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، لیکن چین میں یہ مستقبل اب تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ کھیتوں سے لے کر اسپتالوں، تعلیمی اداروں، کاروباری مراکز اور قانونی خدمات تک، مصنوعی ذہانت ایسے مسائل حل کرنے میں مدد دے رہی ہے جو کبھی صرف انسانی ماہرین کے ذریعے ممکن سمجھے جاتے تھے۔
شنگھائی میں منعقد ہونے والی ورلڈ مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 اور عالمی مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی یہی پہلو نمایاں رہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو عام انسانوں کے فائدے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔وسطی چین کے شہر ووہان کے قریب ایک باغبان زانگ شو وانگ کی مثال اس تبدیلی کو واضح کرتی ہے۔ پہلے انہیں اپنے پھل مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور قریبی مارکیٹ تقریباً 60 کلومیٹر دور تھی اور ٹرانسپورٹ کی کمی کے باعث کئی بار پھل خراب ہو جاتے تھے لیکن اب مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خودکار ڈلیوری گاڑیوں نے ان کا کام آسان بنا دیا ہے۔
زانگ صرف گاہکوں کے پتے اسکین کرتے ہیں اور چھوٹی خودکار گاڑیاں خود راستہ تلاش کرتے ہوئے پھل پہنچا دیتی ہیں جس سے ان کی سالانہ آمدنی میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔یہ گاڑی زیلو ٹیک کی تیار کردہ ہے، جو جدید سینسرز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے بغیر مہنگے ہائی ڈیفینیشن نقشوں کے بھی راستہ تلاش کر سکتی ہے۔ کمپنی نے بغیر نقشے کے خودکار ڈرائیونگ نظام کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں سامان کی ترسیل زیادہ آسان اور کم خرچ ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد صرف رفتار بڑھانا نہیں بلکہ ایسے علاقوں تک سہولت پہنچانا ہے جہاں جغرافیائی مشکلات اور افرادی قوت کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت کا فائدہ صحت کے شعبے میں بھی نمایاں نظر آ رہا ہے۔ چین کے لیو لیانگ پہاڑی علاقے میں ڈاکٹر لی ہوا یو دور دراز آبادی کو طبی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اب ان کے پاس مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام موجود ہے، جو ہزاروں طبی رہنما اصولوں، بیماریوں کے ڈیٹا اور علاج کے طریقہ کار کی بنیاد پر ممکنہ تشخیص اور علاج کے مشورے فراہم کرتا ہے۔
یہ نظام ملک کے 811 ضلعی علاقوں میں استعمال ہو رہا ہے اور ڈھائی لاکھ سے زائد بنیادی سطح کے ڈاکٹروں کو مدد فراہم کر چکا ہے۔مصنوعی ذہانت اب صرف بڑے اسپتالوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیم، مالیات اور قانونی خدمات میں بھی عام لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔ طلبہ کے لیے یونیورسٹی کے انتخاب میں مدد دینے والے نظام، چھوٹے کاروباری افراد کے لیے مالی تجزیے کے آلات اور کاروباری اداروں کے لیے قانونی مشاورت فراہم کرنے والے پلیٹ فارم اس بات کی مثال ہیں کہ پیچیدہ خدمات کو کس طرح آسان بنایا جا رہا ہے۔
چین کی مصنوعی ذہانت سے متعلق حکمت عملی کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔ 2017 میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کے منصوبے کے بعد چین نے "مصنوعی ذہانت پلس” اقدام کو مزید آگے بڑھایا، جبکہ 2026 سے 2030 کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے میں بھی مصنوعی ذہانت پر مبنی ترقی کو اہم مقام دیا گیا ہے۔
شنگھائی میں ہونے والی کانفرنس کے دوران چین نے عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کے قیام کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے مواقع سے فائدہ اٹھانا اور اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ چین نے آئندہ پانچ سالوں میں ترقی پذیر ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کی تربیت اور سیمینارز کے 5 ہزار مواقع فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا
ہے۔مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ مشینیں کتنی تیزی سے کام کر سکتی ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ یہ کتنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہے۔ چین میں جاری یہ کوششیں اس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی چند لوگوں کے لیے سہولت نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ افراد کے لیے ترقی،روزگار کے مواقع اور بہتر زندگی کا ذریعہ بننی چاہیے۔


