شہراقتدارمیں سیاسی طوفان کے خطرات کی پیش گوئیاں کی جارہی ہیں ۔ایسے میں آزادکشمیرکے انتخابات کے حوالے سے زخم خوردہ نے وفاقی حکومت کے حوالے سے اپنے حیران کن کارڈزظاہر کردیئے ہیں.

پی ٹی آئی سے ہاتھ ملانے کااعلان کرتے ہوئے پارلیمینٹ میں تعاون طلب کیا ہے ۔تجزیہ کار ملے جلے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے تبصرے کررہے ہیں کہ صدارتی اور چیئرمین سینیٹ کے عہدوں کی پیپلزپارٹی کے پاس موجودگی کے پیش نظر پی ٹی آئی سے تعاون کی پیشکش آزاد کشمیر میں جنون کو مرعوب کرنا مقصود اور کپتان کے ٹائیگرزکی ہمدردیاں حاصل کی کوشش ہوسکتا ہے ۔کیونکہ پیپلزپارٹی نے ماضی میں بھی بڑے بڑے دعوے کئے مگر ایک دورابطوں پر پیپلزپارٹی ڈھیر ہوگئی ،یہی حالت دوسری جماعتوں کا بھی ہے جو اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی سخت ناقدبنتی دکھائی رہی ہیں یہ بھی کسی رابطوں کی منتظر ہونگی ،کیونکہ عام سیاسی کارکنان دھوکے کھاتے کھاتے تھک چکے ہیں، سیاسی بے اعتباریاں بڑھتی جارہی ہیں ۔جو دعوے کئے گئے بعدمیں وہی بغلگیرہوکر سسٹم سے مستفید ہوتے دکھائی ۔

ان حالات میں بلاول بھٹو کے بیانات نے وفاقی حکومت کے لئے جہاں خطرات کی گھنٹی بجادی ہے۔ وہیں وفاقی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے ،وفاقی دارالحکومت میں سیاسی طوفان کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیںانحصار پیپلزپارٹی کے صدارتی اور چیئرمین سینیٹ کے عہدوں سے متعلق دوٹوک پر ہے ۔ نئے آپشنز ظاہر کئے جارہے لیکن یہ معلوم نہیں ہورہاہے کہ تُرپ کا پتہ کس کے ہاتھ میں ہے ،دعوئے تو بلاول سمیت دیگر بعض دوسرے سیاستدان بھی کررہے ہیں ،

قارئین کرام بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاق میں سیاسی حلیفوں حریفوں کے بدلنے کا عندیہ دیا ہے ۔بعض ناقدین سے بلاول کی جذباتی تقریر قراردے رہے ہیں کہ وہ جو کہہ رہے ہیں اس کے فیصلوں کا اختیار ان کے پاس نہیں ہے صدر اور چیئرمین سینٹ کے عہدے پلیٹ میں رکھ نہیں دیئے گئے ،اگرچہ یہ درست کہہ رہے ہیں کہ حقِ حاکمیت کا تقاضا ہے کہ جس امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالا جائے، کامیابی بھی اسی کی ہو، انتخابات کا فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، بلٹ سے نہیں، جبکہ ووٹ چوری کو کسی صورت چھپایا نہیں جانا چاہیے۔ انھوں نے وفاق میں مزید تعاون کو آزادکشمیر کے صاف شفاف انتخابات سے مشروط کردیا ہے اور کہا ہے کہ تمام انتخابی شکایات کی کھلی سماعت کی جائے ۔

الیکشن کمیشن کو اپنی ساکھ بحال کرنا ہوگی اور ریاستی اداروں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا کسی سیاسی جماعت کا مفاد، بلاول بھٹو نے جنون کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے یہ تک کہہ دیا کہ پی ٹی آئی سے ہاتھ ملانے کو تیار ہوں عندیہ دیا کہ مسلم لیگ(ن) کی پاکستان میں حکومت کی حمایت ہماری مجبوری نہیں ہے سیاست میں کچھ حرف آخر نہیں پارلیمینٹ میں پی ٹی آئی سے تعاون کرے بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ دے۔ میں اپنا ہاتھ پی ٹی آئی کے سنجیدہ سیاست دانوں کی طرف بڑھا رہا ہوں۔ حق حاکمیت ووٹ کی حفاظت کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔مینڈیٹ چوری جارہی تو وفاق میں آپ(شہبازحکومت) کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔ اگردھاندلی کریں گے تو آپ کی بھی خیر نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ بلاول بھٹو تواتر سے وزیراعظم شہباز کو فارم 47 کی پیداوار قرار دے رہے ہیں ۔سیٹیں کسی اورکی جیب میں ڈلوادیںگے توایسے الیکشن ہو نہیں سکتا۔بلاول نے بہت بڑی باتیں کردیں دیکھئے اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے ،فی الحال ناقدین پیپلزپارٹی کے موجودہ بیانیہ کی موجودگی میں کسی غیر معمولی اعلان کی توقع نہیں کررہے ہیں تاہم آپشن زیربحث آگیا کوئی اور قوت بھی دباو¿کے حربوں کا استعمال کرتے ہوئے شہبازحکومت کو خوف کے ماحول میں رکھ سکتی ہے ،پی ٹی آئی کے پاس آپشن پر غور کرنے کا اختیار تو ہے فیصلے کا اختیار کپتان کے پاس ہے جس کو وہ چور ڈاکوقراردیتے رہے کیا ان کے ساتھ حکومت سازی ممکن ہے یہ ہے سلگتا سوال ؟