دامن مارگلہ سے محمداکرم عابد
خیبرپختونخوا کے سبکدوش وزیراعلی کی طرح سہیل آفریدی کی بڑھکیں۔تجزیہ کار، سرتھام کر بیٹھ گئے کہ ہر معاملے میں توحکومت کا آئینی جواز فراہم کیا گیا۔ سابق وزیراعلی بھی خان کی رہائی کے دعووں کی آڑمیں ہاتھ ملا چکے تھے اس لئے سخت ترین ناقدین لانگ مارچ کو بھی نمائشی کال قراردے رہے ہیں ۔
بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو نظام مسمار ہوچکا ہے۔پی ٹی آئی اسے خاموش غیر اعلانیہ مفاہمت سے کندھے فراہم کئے ہوئے ہیں کون سا موقع ہے جب ہنگاموں شور شربے کی آڑمیں وفاقی حکومت کو آئینی جواز نہ فراہم کیا ہو جس کی وجہ سے عالمی برادری میں حکومتی ساکھ بن گئی ان کو احتجاج کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر رہنما سیاسی جمہوری پارلیمانی عہدوں کو انجوائے کررہے ہیں۔شہبازحکومت کے آئینی جوازکے لئے پی ٹی آئی سہولت کار بنی اور ہر پارلیمانی انتخاب میں امیدوار میدان میں آتارا صدارتی عہدہ کو بھی آئینی حثیت مل گئی،
وزیراعلی کے پی کے نے وزیراعظم کی زیرصدارت تمام اجلاسوں میں شرکت کی، اور عوام کے سامنے جعلی وزیراعظم کا بیانیہ کا چورن بیچتے دکھائی دیتے ہیں ۔اگر پی ٹی آئی کی مقبولیت کم نہ ہوئی تو اس میںموجودہ پارٹی رہنماوں کا کوئی کمال نہیں ہے ۔عمران خان کی لازول قربانی ڈٹ جانے ڈیل سے انکارنے پارٹی کو مستحکم کارکنوں کو اس سے منسلک کررکھا ہے البتہ کپتان کے کندھوں پر یہ عہدے ضرور حاصل کررہے ہیں ۔سیاسی قول وفعل میں تضاد ہی تحریکوں کی ناکامی کے اصل اسباب ہیں ۔اب اگر سارا نظام جعلی ہے تو اسی جعلی وزیراعظم( بقول پی ٹی آئی قیادت کے) کی زیرصدارت علی امین کے بعد سہیل آفریدی کیوں تواتر سے وزیراعظم ہاو¿س کے اجلاسوں میں شریک ہورہے ہیں ،بیانیہ ایک ہو پھردیکھیں احتجاجی تحریک کیسے کامیاب نہ ہو،یہ نہیں ہوسکتا کہ عہدوں کے جانے کی بھی فکر ہواور تحریکیں بھی کامیاب ہوں بس ایک تماشا لگا ہے ۔
سابق وزیراعلی سے متعلق وزیردفاع خواجہ آصف کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ موصوف اجلاسوں میں کچھ کہتے تھے باہر آکر کچھ اور کہتے ہیں ۔اس لئے ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی کے قیادت بشمول وزیراعلی خیبرپختونخواوفاقی حکومت کے حوالے سے واضح لائن اختیار نہیں کریں گے درست سمت کا تعین نہ ہوسکے گا ۔
سابق وزیراعلی کے بیانات کی طرح موجودہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے دعوے جھاگ کی طرح بیٹھتے نظر آئیں گے ،سہولت کاری اور احتجاج کو کوئی میل ملاپ نہیں ہوسکتا آئینی عہدے ضرور برقراررکھنے کے مواقع ضرور مل جاتے ہیں بس ان اعلانات کے حوالے سے اعتمادکا فقدان ہے کوئی اسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف قراردے رہا ہے کوئی اسے وقت حاصل کرنے کے حربے کہ ملک میں کوئی اور ایشوکھڑے ہونے پر لانگ مارچ کے مستقبل کے حوالے سے جواز یا توجہ ہٹانے کا موقع مل جائے گا.
ٹرول کرنے والے کارکنوں کو بھی کو راضی رکھنا ایک مسئلہ ہے بس خان کے جیل جانے کے بعد سے یہی سلسلہ جارہی ہے کارکنوں کو سیاسی ایندھن سمجھ لیا گیا۔کپتان کے خاندان کی طرح کے قربانی کی کوئی تو مثال سامنے لائیں ۔اس حوالے سے تمام رہنماوں کے صفحات سفید ہیں کارکنوں کی ٹرولنگ سے بچنے کے لئے بڑھکوں کا سلسلہ جاری ہے جس دن شہبازحکومت سے عدم تعاون کا اعلان کردیا گیا سب کے ہوش اُڑتے دکھائی دیں گے۔
عالمی برداری معاہدوں سمجھوتوں کے حوالے سے فکر مند ہوجائے گی کہ مستقبل میں نہ جانے ان معاہدوں کو تسلیم کیا جائے نہ کیا جائے اسی آئینی جوازمیں اپوزیشن کی بڑی جماعت سہولت کار بنی ہوئی ہے ۔لانگ مارچ کے حوالے سے جلد حیلے بہانے تراشنے شروع کردیئے جائیں گے ایسے نہ ہوتو ہم بھی ان کے قائل ہوجائیں گے۔


