جب کسی قوم کے چھوٹے کارخانے اور بڑی مینوفیکچرنگ ملیں ایک ساتھ سانس لینے لگیں، تو معیشت کی نبض خود بخود تیز ہو جاتی ہے۔ معاشی میدان میں اصل طاقت کا اندازہ کاغذ ی دعووں سے نہیں بلکہ فیکٹری کے فرش پر چلتی مشینوں کے شور سے ہوتا ہے۔
سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران چینی معیشت کے دو اہم ستونوں جن میں مشین سازی کی صنعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں شامل ہیں، ان دونوں ستونوں نے جو رفتار دکھائی ہے، وہ محض روایتی ترقی نہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق ایک گہرا اور ٹھوس بدلاؤ ہے۔چائنا مشینری انڈسٹری فیڈریشن کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بڑے مشین ساز اداروں کی پیداواری قدر میں سال کے پہلے چھ مہینوں کے دوران سالانہ بنیادوں پر 6.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔ قومی معیشت کے پانچ بنیادی شعبوں، مخصوص مشینری، آٹو موبائلز، برقی آلات اور سائنسی پیمائش کے آلات، سبھی نے 6 فیصد سے زیادہ سالانہ نمو حاصل کر کے استحکام کا ثبوت دیا۔
اس پورے دورانیے میں بڑے اداروں کی مجموعی کاروباری آمدنی 161 کھرب یوآن تک جا پہنچی، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 6.5 فیصد زیادہ ہے۔اس مجموعی کامیابی کے اندر 14 ذیلی شعبوں نے ترقی کا نیا باب رقم کیا۔ ان میں سے ہر ایک شعبے کی آمدنی میں سالانہ اضافہ دیکھا گیا، مگر اصل میدان برقی سازوسامان، تعمیراتی مشینری، مشین ٹولز، روبوٹکس اور ذہین مینوفیکچرنگ کے ہاتھ رہا جن کی شرح نمو 10 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔
اسی دوران بیرونی دنیا کے ساتھ تجارتی رشتے بھی خوب پھلے پھولے اور پہلے چھ ماہ میں مشینری کی درآمدات و برآمدات کا مجموعی حجم 692 ارب 76 کروڑ امریکی ڈالر رہا، جس میں 15.9 فیصد کی سالانہ ترقی ریکارڈ کی گئی۔ خاص طور پر بیلٹ اینڈ روڈ کے شریک ممالک، آر سی ای پی کے ارکان، یورپی یونین اور آسیان ممالک کو برآمدات میں ہونے والا دوہرے ہندسوں کا اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گلوبل سپلائی چین میں چینی پرزوں کی مانگ آج بھی کتنی مضبوط ہے۔
چین میں مشینوں کی دنیا صرف فولاد کے ڈھانچوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ماحول دوست توانائی کی طرف بھی تیزی سے مڑ چکی ہے۔ صاف توانائی کی جانب منتقلی کا اثر یہ ہوا کہ جوہری بجلی کے یونٹس کی پیداوار 92.0 فیصد، پن بجلی کے آلات 51.9 فیصد اور ونڈ ٹربائنز کی تیاری 11.5 فیصد تک بڑھ گئی۔ یہ غیر معمولی چھلانگ نئی توانائی کا وہ مضبوط ڈھانچہ کھڑا کر رہی ہے جو آئندہ دہائیوں کے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنے گا۔ جب بجلی بنانے والی مشینیں ہی بدل جائیں، تو آنے والی نسلوں کا مستقبل خود بخود روشن ہو جاتا ہے۔بڑی فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ معیشت کی اصل ریڑھ کی ہڈی یعنی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں نے بھی پچھلے چھ ماہ میں کمال کا تسلسل دکھایا ہے۔
وزارتِ صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق، مخصوص پیمانے پر کام کرنے والے وہ چھوٹے اور درمیانے صنعتی ادارے جن کی سالانہ آمدنی دو کروڑ یوآن سے زیادہ ہے، ان کی پیداواری قدر میں 5.8 فیصد اور آمدنی میں 7.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس سے بھی بڑھ کر ان اداروں کا مجموعی منافع 16.9 فیصد کی زبردست سالانہ اچھال کے ساتھ سال 2022 کے بعد سے لے کر اب تک کی اسی مدت کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا۔مینوفیکچرنگ کی 31 بڑی اقسام میں سے 18 کیٹیگریز نے منافع کے اس جشن میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ خاص طور پر کمپیوٹر اور مواصلاتی الیکٹرانک آلات اور کیمیائی خام مال و مصنوعات سازی جیسے شعبوں نے ترقی کی رفتار کو سب سے زیادہ تیز کیا۔ ان چھوٹے کارخانوں کی مصنوعات نے عالمی منڈیوں میں بھی اپنی دھاک بٹھائے رکھی، جس کا ثبوت جون کے مہینے میں 52.8 فیصد پر کھڑا برآمدی انڈیکس ہے، جو مسلسل 27 ماہ سے لگاتار پھیلاؤ کے زون میں برقرار ہے۔
چائنا سینٹر فار انفارمیشن انڈسٹری ڈیولپمنٹ سے وابستہ انسٹی ٹیوٹ آف سمال اینڈ میڈیم سائزڈ انٹرپرائزز کے ڈائریکٹر لونگ فئی نے اس سارے عمل کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے اپنی مقامی صنعتی بنیادوں پر کھڑے ہو کر اپنی کمزوریوں کو دور کر رہے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہے ہیں اور خامیوں کا ازالہ کر رہے ہیں۔ اس مسلسل جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کی بنائی گئی مصنوعات کی قدر اور پورے صنعتی نیٹ ورک میں ان کا اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ درحقیقت، نچلی سطح پر کام کرنے والے یہی وہ باہمت ادارے ہیں جو صنعتی معیشت کی پائیدار بہتری کے لیے ٹھوس بنیاد رکھ رہے ہیں اور نئی معیاری پیداواری صلاحیتوں کو جلا بخش رہے ہیں۔


