کبھی فلم ختم ہوتی تھی تو کہانی بھی ختم ہو جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ چین میں بننے والی فلمیں پردے سے نکل کر سرحدیں عبور کر رہی ہیں، لوگوں کے دلوں تک پہنچ رہی ہیں اور بعض اوقات ناظرین کو ان مقامات تک بھی لے جا رہی ہیں جہاں فلم کی کہانی نے جنم لیا تھا۔ یوں چینی سنیما اب صرف تفریح نہیں رہا، بلکہ ثقافت، یادوں، سفر اور معیشت کو جوڑنے والا ایک نیا پل بنتا جا رہا ہے۔
اس تبدیلی کی خوبصورت مثال فلم "Dear You” ہے، جو اس ہفتے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا کے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے چاؤشان خطے سے تعلق رکھنے والے ہدایت کار لان ہونگ چھون کی یہ فلم بظاہر ایک مقامی کہانی ہے، مگر اس کے جذبات سرحدوں سے کہیں بڑے ہیں۔فلم کی بنیاد "چیاؤ پی” نامی ایک منفرد تاریخی روایت پر ہے۔ یہ ایسے خطوط تھے جو بیرونِ ملک مقیم چینی باشندے اپنے گھر والوں کو بھیجتے تھے اور ان کے ساتھ رقم بھی روانہ کرتے تھے۔ ان خطوط میں صرف پیسے نہیں ہوتے تھے، بلکہ گھر کی یاد، اپنوں کی فکر، جدائی کا دکھ اور بہتر مستقبل کی امید بھی شامل ہوتی تھی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا میں ایک چینی نژاد ناظر ونسنٹ نے فلم دیکھنے کے بعد اپنے دادا دادی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے خاندان پر فخر محسوس ہوا۔یہی وہ مقام ہے جہاں چینی سنیما کی نئی طاقت سامنے آتی ہے۔ فلم اپنی زبان، لہجے اور ثقافتی پس منظر میں مقامی رہ سکتی ہے، لیکن اس کے جذبات عالمی ہو سکتے ہیں۔ ہجرت، گھر کی یاد، خاندان اور نسلوں سے منتقل ہونے والی یادیں صرف چین کی کہانی نہیں؛ دنیا کے کروڑوں خاندان ان احساسات کو سمجھ سکتے ہیں۔انڈونیشیا میں فلم کی نمائش کے لیے مقامی ادارے پی ٹی پریما سینیما ملٹی میڈیا نے کردار ادا کیا۔
کمپنی کی مارکیٹنگ منیجر ساشا کے مطابق چین اور دیگر ایشیائی منڈیوں میں فلم کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انہیں یقین تھا کہ یہ انڈونیشی ناظرین پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ اعداد و شمار اس امید کو درست ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چینی نیشنل فلم ایڈمنسٹریشن کے مطابق 25 جولائی تک اس کم بجٹ فلم کی بیرونِ ملک آمدنی 80 کروڑ یوآن سے تجاوز کر چکی تھی۔لیکن یہ صرف ایک فلم کی کامیابی نہیں۔ 2026 میں چینی فلمیں پہلے سے زیادہ تیزی سے عالمی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں 20 سے زیادہ چینی فلمیں بیرونِ ملک ریلیز ہوئیں۔
بیجنگ فلم اکیڈمی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر وونگ یانگ کے مطابق "Blades of the Guardians: Wind Rises in the Desert” اور "Silent Awakening” جیسی فلمیں شمالی امریکا میں 200 سے زیادہ سینما گھروں میں ریلیز ہوئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی فلموں کی منزل اب صرف امریکا یا یورپ تک محدود نہیں رہی۔ افریقہ اور مشرقی یورپ جیسی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بھی ان کی رسائی بڑھ رہی ہے۔ یعنی چینی سنیما اپنے ناظرین کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان جگہوں تک پہنچ رہا ہے جہاں چند برس پہلے شاید اس کی موجودگی اتنی نمایاں نہیں تھی۔اس تبدیلی کے پیچھے صرف اچھی فلمیں نہیں بلکہ کام کرنے کا نیا انداز بھی ہے۔
چینی فلمی ادارے اب بیرونِ ملک تقسیم کے اپنے نیٹ ورک قائم کر رہے ہیں۔ نئی فلموں کی منصوبہ بندی بھی شروع ہی سے عالمی ناظرین کو سامنے رکھ کر کی جا رہی ہے۔ اس طرح کسی فلم کی قدر صرف ایک مرتبہ حقوق فروخت کرنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے کردار، کہانی اور مجموعی تصور کو طویل عرصے تک مختلف شکلوں میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہےاور پھر سنیما کا ایک اور دروازہ کھلتا ہے،فلم سے سیاحت تک۔چین میں مقبول فلمیں اب لوگوں کو صرف سینما تک نہیں بلکہ فلم میں دکھائی دینے والی حقیقی جگہوں تک بھی لے جا رہی ہیں۔
روایتی چینی دیومالا سے متاثرہ اینیمیٹڈ فلم "All Wishes Come True” اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ فلم کی مقبولیت کے بعد جنوب مغربی چین کے شہر چھنگ دو میں واقع ماؤنٹ چنگ چھنگ جیسے مقامات پر سیاحوں کی دلچسپی بڑھ گئی۔ والدین اپنے بچوں کو وہاں لے جا رہے ہیں، فلم میں دکھائے گئے مقامات تلاش کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ اپنی یادیں بنا رہے ہیں۔شمالی چین کے شانشی صوبے میں واقع شوآن کھونگ مندر بھی اسی رجحان کا حصہ بن گیا ہے۔ صدیوں پرانی اس تاریخی عمارت میں فلم کے مناظر دیکھنے کے بعد ایسے لوگ بھی پہنچ رہے ہیں جو پہلے صرف اس کے بارے میں سنتے آئے تھے۔یوں ایک فلم کا ٹکٹ اب صرف دو گھنٹے کی تفریح نہیں رہا۔ اس کے بعد سفر، ہوٹل، کھانا، تاریخی مقامات، مقامی ثقافت اور خریداری تک ایک پوری معاشی زنجیر حرکت میں آ سکتی ہے۔ چین میں اسی نئے رجحان کو "فلم پلس” ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے رواں سال فلمی شعبے سے جڑی مجموعی پیداوار کو 380 ارب یوآن سے تجاوز کرنے میں مدد دی ہے۔
شاید چینی سنیما کی اصل کامیابی بھی یہی ہے کہ وہ اب صرف یہ نہیں پوچھ رہا کہ لوگ فلم کہاں دیکھیں گے، بلکہ یہ بھی سوچ رہا ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد وہ کہاں جائیں گے، کیا محسوس کریں گے اور کون سی نئی کہانی اپنے ساتھ واپس لے کر آئیں گے۔ جب ایک فلم کسی دوسرے ملک کے ناظر کو اپنے خاندان کی یاد دلا دے، کسی بچے کو پہاڑوں تک لے جائے یا کسی مسافر کو صدیوں پرانے مندر کی طرف راغب کر دے تو سمجھ لینا چاہیے کہ کہانی نے پردہ چھوڑ کر زندگی میں جگہ بنا لی ہے۔


