دامن مارگلہ سے محمداکرم عابد
حکومتی اتحادی ہونے کے ناطے صدر سمیت اہم عہدے حاصل کرنے کے باجود وزیراعظم کی آئینی حثیت پرسوال اٹھانے پر پیپلزپارٹی تنہائی کا شکارہوچکی ہے جبکہ حکومتیNOلفٹ رویہ عیاں ہوچکا ہے۔

حکمران جماعت کی پی ٹی آئی سے قربت قومی اسمبلی میں نمبرز گیم میں برتری حاصل ہوگئی،کسی جماعت کے چھوڑ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بڑ ی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں رہی۔سادہ اکثریت کے ساتھ مسلم لیگ ن کی پیشقدمی 170سے زائد ارکان کی حمایت کا دعویٰ۔پی ٹی آئی کا جنگی سیاسی صورتحال میں حکومت سازی کیلئے کسی کاساتھ نہ دینے کا اٹل فیصلہ، ن لیگ حکومت کو خطرہ ہونے پرجنون کی مدد مل سکتی ہے ۔اپوزیشن مینڈیٹ کی واپسی یا عام انتخابات کے مطالبات پر ڈٹ گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق پیپلز پارٹی کے بغیر مسلم لیگ ن کو170ارکان کی حمایت حاصل ہے ،حکمران اتحاد کا دعویٰ ہے کہ کسی سیاسی جماعت کے چھوڑ جانے سے حکومت کو فرق نہیں پڑے گااسی لئے کسی سطح پر حکومت سے متعلق بلاول بھٹو زرداری کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ہے اب تو حکومت اپوزیشن میں نئے رابطوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ۔

صدر مملکت بھی کسی صورت سخت ردعمل کے پیشِ نظر موقع آنے کے باجود وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہیں گے۔ پی ٹی آئی کی پیپلزپارٹی کے ساتھ ممکنہ حکومت سازی کی افواہوں پرخودعمران خان نے انتہائی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے جمہوری حلقے قراردے رہے کہ پیپلزپارٹی تنہائی کا شکار ہوگئی ہے ۔ قومی اسمبلی کے اراکین کی مجموعی تعداد 336 ہے۔ سادہ اکثریت کے لیے 169 اراکین کی حمایت درکار ہے حکومت کو اس معاملے میںبرتری حاصل ہے ۔ اس وقت پیپلزپارٹی سمیت حکمران اتحاد میں شامل اراکین کی تعداد 243 ہے جو دو تہائی سے بھی زیادہ ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل پارٹیوں میں مسلم لیگ ن کے ایوان میں 131 اراکین ہیں جبکہ پیپلزپارٹی 74،ایم کیوایم 22 ،مسلم لیگ ق 5 ،استحکام پاکستان کے 4 ضیا لیگ ، بلوچستان عوامی پارٹی ،نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن اور آزاد 4 اراکین شامل ہیں۔اگرچہ پیپلزپارٹی کی حکومت سے ممکنہ علیحدگی جس کا دور دور تک امکان نہ ہے ساتھ چھوڑ گئی تو حکومتی اتحاد دوتہائی اکثریت سے محروم ہوجائے گا۔

پیپلزپارٹی کے حکمران اتحاد کو چھوڑ کر اپوزیشن اتحاد میں شامل ہونے سے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے اراکین کی تعداد میں فرق صرف 6 اراکین کا رہ جائے گا۔ یعنی اپوزیشن اتحاد کے مجموعی اراکین کی تعداد 163 ہوجائے گی۔

جمہوری حلقوں نے یہ بھی قراردیا ہے کہ پیپلزپارٹی اگر حکمران اتحاد سے علیحدہ ہوئی صدرکے مواخذہ سمیت سینیٹ چیئرمین، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں سے محروم ہوسکتی ہے بلوچستان حکومت، گورنر پنجاب ، گورنرخیبرپختونخواہ کے عہدوں پر بھی تلوارلٹک جائے گی ۔،موجودہ مفاہمتی پالیسی کے پیش نظر پیپلزپارٹی حکمران اتحاد سے الگ ہونے کا رسک لینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی.

تین اہم سیاستدانوں نے شہبازحکومت کو خبر دے دی ہے کہ وہ بڑی اتحادی جماعت کے حوالے سے کسی قسم کی فکر نہ کرے یہ ماضی کی پیپلزپارٹی نہیں ہے جو مزاحمت پر کمربستہ رہتی تھی ۔کہیں نہیں جائے گی پرانی تنخواہ پر کام جاری رہے گا،بانی چیئرمین نے بھی پارٹی کو ایجنڈا تھمادیا ہے کہ کسی صورت حکومت گرانے بنانے کے معاملات میں نہیں جانا ۔صرف مینڈیٹ کی واپسی یا عام انتخابات کے مطالبات تک محدود رہیں اور قائمہ کمیٹیوں سے بائیکاٹ اس ایجنڈے کی تصدیق کررہا ہے۔