دامن مارگلہ محمداکرم عابد
پیپلزپارٹی سیاسی تنہائی کا شکار ،حکومتی رویے سے ناراض بلاول بھٹوخود ملاقات کے لئے اپوزیشن لیڈرز اورپی ٹی آئی قیادت سے ملنے پہنچ گئے۔کپتان کے ڈیل نہ کرنے کے بیانیہ نے سب کی دوڑیں لگوادی ہیں ۔
تجزیہ کاروں نے سوالات اٹھادئیے کیا پیپلزپارٹی فارم47کی حکومت کے بیان پر قائم ہے؟تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کپتان کے بلندحوصلے نے سب سیاستدانوں کو بہادر بنادیا ۔بلاتفریق تمام سیاسی جماعتیں غیرجمہوری قوتوں کے خلاف متحد ہونا شروع ہوگئیں۔
پارلیمینٹ ہاوس توجہ کا مرکز ومحوربن گیا ۔ جب کہ بانی چیئرمین کے قریبی ساتھیوں نے بتادیا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سینیٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں واپسی انکار ہی سمجھیں ان کے انکار نے سب سیاسی جماعتوں کو دن میں تارے دکھا دیئے ہیں اور وہ سیاسی مقبولیت کی علامت بن گئے ہیں ۔مشروط بات چیت پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ مینڈیٹ واپسی یا عام انتخابات پر گفتگوکے لئے تیار ہیں۔جب کہ بلاول بھٹو زرداری اور حزب اختلاف کے قائدین کے درمیان پارلیمانی امور اور ملکی سیاست پر تبادلہ خیال ہوا۔
پی ٹی آئی رہنماوں اور حزب اختلاف کے قائدین سے درخواست کی گئی کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں شامل ہوکر فعال کردار ادا کریں، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی چیئرمین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔یعنی ملاقات سے مشروط کردیا گیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے اپوزیشن لیڈرزکی عمران خان سے ملاقات کا اامکان ہے کیونکہ ہر طرف سیاسی برف پگھلنے لگی ہے رویہ میں نرمی آرہی ہے۔اپوزیشن حکومتی اتحادیوں میں پارلیمان میں قانون سازی کے حوالے سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
جاری بیان کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے حزب اختلاف کے قائدین سے کہا کہ آپ انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں عمران خان کی اسپتال منتقلی اور علاج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خوش آئند جمہوری روایت ہے۔


