ملک کی دونوں بڑی جماعتوں نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ بیانات پر نہ جانا پرانی تنخواہوں پر کام جاری رکھیں گے مفادعامہ کے لئے کبھی ان جماعتوں کا اس طرح سرگرم نہ دیکھا جس طرح اعلی فوجی قیادت سے متعلق قانون سازی کے لئے پرجوش دیکھا سب اپنے تمام ارکان کے ساتھ ایوانوں میں حاضر تھے ۔
پارلیمانی ڈائری کو چارچاند لگ گئے کہ اہم قانون سازی نے وزیراعظم شہبازشریف کو پارلیمینٹ آنے پر مجبور کردیا۔ پیپلزپارٹی اپنے نمائشی احتجاج کے ساتھ ڈھیر ہوگئی۔اعلی فوجی قیادت سے متعلق برق رفتاری سے قانون سازی پر سیاسی جمہوری پارلیمانی حلقے حیران رہ گئے۔صرف آدھے گھنٹے کے مختصر وقت میں بل قومی اسمبلی سے سینیٹ پہنچ گیا ،
اتنی عجلت میں قانون سازی کی مثال نہیں ملتی ،مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی بھاری سیاسی بوجھ اٹھانے پر خوش۔کاروائی کا حقیقی متحدہ اپوزیشن کی طرف سے مکمل بائیکاٹ۔پی ٹی آئی جے یو آئی (ف) نے ہاتھ ملالیا ۔قومی اسمبلی کے ارکان کے ڈیسک مزکورہ بلز سے خالی۔سینیٹ میں حیران کن طورپر سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان نے اپوزیشن جماعتوں کا ساتھ نہ دیا ۔
اعلی فوجی قیادت سے متعلق قانون سازی کے موقع پر تمام کاروائی کے دوران موجودرہے۔
پارلیمانی ڈائری کا غیر معمولی تذکرہ یہ ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف طویل عرصہ کے بعد قومی اسمبلی میں پہنچ گئے۔ آتے ہی اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی کے پاس پہنچ گئے ،
بیرسٹرگوہرخان اسدقیصر موجود تھے ۔دونوں اطراف سے خیرسگالی کے جذبات کا تبادلہ ہوا۔ وزیراعظم کی باڈی لینگویج سے اپوزیشن سے اظہار تشکر کی جھلک تھی ۔ اپوزیشن والے بھی وزیراعظم سے خندہ پیشانی سے ملے ،گوشہبازگو فارم47کے روایتی نعرے پی ٹی آئی نے فراموش کردیئے پہلے وزیراعظم کی آمد پر یہی نعرے لگتے تھے۔
اس ماحول نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی قومی اسمبلی میں آمد کی راہ ہموار کردی ہے ۔ طویل عرصہ بعد شہبازشریف ایوان میں جلوہ افروزدکھائی دیئے ۔لیگی ارکان کی قطارلگ گئی ۔ ایوان میں راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کسی ردعمل کا خطرہ نہ تھا اس لئے لیگی ارکان کو وزیراعظم کی نشست کے گرد حفاظتی دیوار بناکر کھڑا نہ ہونا پڑا۔ سیاسی ہم آہنگی کا یہ موقع عرصہ درازبعدآیا ہے ۔
بلاول بھٹو کی قیادت میں پارٹی ارکان پرامن نشستوں پر بیٹھے رہے ۔سربراہ پیپلزپارٹی باہر کی حکومت مخالفت سے دستبرداردکھائی دیئے ،لاو¿نجز میں تبصرے ہورہے تھے کہ ایوان میں اس ادب آداب کوآنکھیں ترس گئی تھیں ،کس نے سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کردیا کاچٹکلہ بھی سننے کو ملا۔
ایوان میں آغاز ہی میں اسپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق وقفہ سوالات کے دوران متعلقہ بیوروکریسی کو ان کی غیرحاضری پر ارکان کے جذبات کی ترجمانی کرتے کھری کھری سنادی اور ہنگامی طور پر طلب کرلیا اور اٹھ کر چیمبر میں چلے جانے پر قومی ااعظم سمبلی کی کاروائی معطل ہوکررہ گئی۔
بیوروکریٹس بھی دوڑتے دوڑتے ایوان کی گیلری میں پہنچ گئے ۔کاروائی شروع ہوئی ،پہلے دونوں اطراف سے بزنس لیا گیا وزراءنے خوشگوارماحول میں جواب دیا ۔خلاف توقع پیپلزپارٹی ارکان خاموش دکھائی دیئے گماں تھا پارٹی قیادت سے نئی ہدایت ملی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اعلانات کے برعکس حکومت کو کوئی ٹف ٹائم نہ دیا البتہ انھوں نے عمران خان کا نام لیتے ہوئے ان کی ہسپتال منتقلی بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی حمایت کرتے ہوئے مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا ۔
وزیراعظم نے کسی معاملے پر لب کشائی نہ کی ۔اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی نے مطالبہ کیا کہ نہریں بنانے سہہ فریقی دفاعی معاہدے، ایران امریکہ معاملات میں پاکستان کے کردار کے بارے میں پارلیمان کو اعتمادمیں لینے کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے خبردار کیا کہ نئے صوبوںکی تجاویز سالمیت کے تقاضوں کے برعکس ہے ، بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مصداق ہے ۔ وزیراعظم وفاقی وزراءخاموشی سے اپوزیشن لیڈر کی تقریر سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا ،پیپلزپارٹی ارکان خوش دکھائی دیئے کہ جیسے اپوزیشن لیڈر صوبوں کے معاملات پر ان کی ترجمانی کررہے ہوں۔
اس ماحول میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2026 میں ترمیم کے بلز قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور ہو گئے۔بلز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ضمنی ایجنڈے کے ذریعے پیش کیے، پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کا بل پیش کیا گیا، اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کردیا تاہم دونوں بل کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے۔
برق رفتاری سے آدھے گھنٹے کے مختصر وقت میں بلز سینیٹ بھیج دیئے گئے ۔ایکٹ کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے اور ہیڈ کوارٹرز کے انتظامی امور کا تعین ہے۔تجزیہ کار قراردے رہے ہیںکہ پارلیمانی تاریخ میں کبھی مفاد عامہ کے لئے منتخب ایوانوں میں اس برق رفتاری سے قانون سازی نہیں ہوئی جس طرح اعلی فوجی قیادت کے لئے بلز منظور ہوئے ہیں
اس حوالے سے عوامی حلقوں نے مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے طرزعمل پر کڑی تنقید کی ہے اور قراردیا جارہا ہے کہ ان کے کندھے سیاسی بوجھ سے جھکتے جارہے ہیں ۔


