کیسے پتہ عمران خان فٹ نہیں ؟پارلیمینٹ ضلعی کونسل بن چکی ۔پارلیمانی ڈائری۔ محمداکرم عابد
پیپلزپارٹی کے ہاتھی کے دانت۔مجوزہ نئے صوبے مسترد
پارلیمینٹ میں حیران کن طورپر قومی معاملات سے توجہ ہٹ کر رہ گئی۔غیر ضروری معاملات میں قومی وسائل کا ضیاع ہورہا ہے،عمران خان کی صحت پر شور شرابا ہے حکومت نے سینیٹ میں بلآخر پوچھ ہی لیا ان کو کیسے پتہ کہ عمران فٹ نہیں ہے،بدامنی بیروزگاری خارجہ دفاعی معاملات پر زبانیں گنگ ہیں البتہ متحدہ اپوزیشن نے نئے صوبوں کی تجاویز کو مستردکردیا ہے ۔
چند روز قبل سہہ فریقی دفاعی معاہدے ،ایران امریکہ معاہدے،دہشت گردی کے معاملات اہم قانون سازی پر اپوزیشن لیڈرسمیت سرکردہ رہنما پارلیمینٹ میں بحث کروانے کا مطالبہ کررہے تھے ۔وزیراعظم شہبازشریف کی موجودگی میں ان مطالبات کو دھرایا گیا ۔مگر ایسا کیا ہوا کہ قومی معاملات کو پس پشت ڈال دیا گیا، یا کوئی سازبازہوئی یا دال میں کچھ کالا ہے ۔بس روز عمران خان کے فٹ ہونے نہ ہونے کے دعووں نے پارلیمینٹ کا گھیرا ہوا ہے ۔
قومی معاملات ،قانون سازایوان میں گلی محلوں کے معاملات پر اظہار خیال زیادہ کیا جارہا ہے ۔ مذکورہ معاملات پس پشت ڈال دیئے گئے ۔پی ٹی آئی بھی عوامی ایجنڈے سے محروم نظر آتی ہے، یہی حال حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کا ہے ۔پیپلزپارٹی کا خاموش احتجاج بس دکھاوے کا ثابت ہوا ۔
قومی اسمبلی میں قومی معاملات پر بات کی بجائے دیگر معاملات پر الجھ کررہ گئے ہیں ۔پیپلزپارٹی کا تذبذب دور نہ ہوسکا ۔کورم توڑنا ہاتھی کے دانت دکھاوے کے اور کھانے کے اور ثابت ہوا۔ سینیٹ میں بھی دونوں اطراف کے ارکان عمران خان کی صحت کے معاملات پر الجھتے رہے ۔ سینیٹر ناصر بٹ نے یاددہانی کروائی عمران خان کی بہنوں نے بھائی کو مکمل صحت مند قراردیا ہے(سپرفٹ)۔ ان کوکیسے پتہ عمران خان ان فٹ ہے ۔پی ٹی آئی ارکان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔
مشال خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق عمران خان کے بلڈ ٹیسٹ اور سی ٹی اسکینز ہونا تھی کوئی ٹیسٹ نہ ہوا۔ دونوں ایوانوں میں کیا اپوزیشن کیا حکومت سب غیر ضروری معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کسی نے تبصرہ کردیاضلعی کونسل بن چکی ہے ۔ تاہم اپوزیشن اتحاد نئے ایجنڈے کے دعوے کے ساتھ میدان میں آیا ہے اور واضح کیا ہے کہ حزبِ اختلاف کی تمام پارٹیوں کااتفاق کیا ہے کہ مشترکہ حکمتِ عملی ،مشترکہ اقدامات باہمی مشاورت سے انجام پائیں۔
دوسرے مشاورتی اجلاس کے بعد قراردیا گیا ہے کہ امن و امان کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔ اسے معروضی حادثہ قرار نہیں دیا جا سکتا،مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو صوبے خون آلود ہیں۔ دوسری طرف ہمارے حکمران بیرونِ ملک سرخ قالینوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ تو نے گھر کے اندر کونسا تیر مارا کہ اب باہر آکر دندنا رہے ہو۔ پہلے اپنے گھر کا حال تو لے لو۔ اندر کی ساری کمزوریوں کو بیرونی کھانوںِ لال قالینوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔بھارت دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا چھ سے سات سو ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر کا مالک بنا ہے، اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟عدلیہ کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ پوری دنیا میں ہماری رینکنگ کیا ہے؟ معیشت کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟ امن و امان کے حوالے سے ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اور جب ملک اس طرح آگ کی لپیٹ میں ہے، بھوک کی لپیٹ میں ہے تو ہم ایسے وقت میں صوبوں کو توڑ رہے ہیں۔ہمارا اس پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ یہ وقت صوبوں کی تقسیم کا نہیں ہے، نہ ماحول ہے، نہ اس کے لیے تیاری ہے۔ اس سے عدمِ اعتمادی بڑھے گی کہ ایک زمانے سے اٹھارہویں ترمیم مقتدرہ کے حلق کا کانٹا ہے، اسے ہر قیمت پر اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنا ہے اور صوبوں کے جو وسائل ہیں،معدنی ذخائر ہیں ان کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔ اس کے لیے صوبوں کو کمزور کرنا، ان کو توڑنا، نئی یونٹ بنانا، اس حوالے سے ہم سب کا اتفاق ہے کہ یہ وقت اور اس طرح کے اقدامات ریاستی سطح پر، ملکی سطح پر پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔کشمیر کی صورتِ حال ابتر ہے۔
پہلے ہی ہندوستان کشمیر کے حوالے سے ایسے اقدامات کر چکا ہے کہ ان اقدامات کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کی جو اسپیشل اسٹیٹس تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے۔اور اب یہاں پر کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی طور پر اکثریتیں قائم کرکے حکومتیں بنائی جا رہی ہیں، ایسی صورتِ حال میں جب وہاں کے عوام سڑکوں پر ہیں، راولا کوٹ میں تین مہینوں سے لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی۔ ملک میں سیاسی قیدی جیلوں میں ہیں۔ ان سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوئی وجوہات نہیں ہیں کہ ملک کی جیلیں جو ہیں، وہ سیاسی قیدیوں سے بھری پڑی ہوں۔
اس حوالے سے بھی ہمارا اتفاق ہے کہ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے اور ملک کا سیاسی ماحول صحیح کرنا چاہیے۔دھاندلی کی بنیاد پر قائم کی گئی حکومت، وہ نہ ملک کے اندر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک سے باہر عوام کی نمائندہ ہے، نہ ملک کے اندر مسائل کا حل پیش کر سکتی ہے، نہ باہر دنیا میں پاکستان کے وقار اور مقام کو بلند کر سکتی ہے۔تو ان نکات پر ہمارا اتفاق رہا ہے ۔اتحادپاکستان کی بقا سالمیت اور ملک کے آئین کے تحفظ کا سبب اور ذریعہ بنے گا موقف سے مشترکہ میڈیا ٹاک میں آگاہی دی گئی ۔آئندہ کے حوالے سے یہاں بھی لائحہ عمل کا فقدان بس ایک رہائی ایک صحت کے معاملات متحدہ اپوزیشن کو یرغمال بناتے دکھائی دیتے ہیں ۔عوام کا مسائل کے حوالے سے لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے ۔
نوٹ: ادارےکا صاحب رائے کے نقطہ نظر سے متفق ہونا ضرور نہیں…


