پارلیمنٹ ۔سیاست کے رنگ، بارش کے سنگ۔ پارلیمانی ڈائری محمداکرم عابد
وزیراعظم کے دفاع کے لئے حکومت اپوزیشن ایک پیج پر
پارلیمنٹ ہاوس کی فضا بدل گئی

پارلیمنٹ میں سیاست کے رنگ، بارش کے سنگ! حکومت اپوزیشن میں خوشگوار ماحول، خواجہ محمد آصف سینیٹر مولانا عطاالرحمن کی ملاقات، قہقہے ، سیاسی گفتگو نے پارلیمنٹ ہاؤس کی فضا بدل دی تیزبارش شروع ہوگئی۔نہروں میں چھلانگ کا تذکرہ ہوا تو محفل زعفران بن گئی، جبکہ مولانا عطاالرحمن نے بارش میں خواجہ آصف کا ہاتھ تھام کر کہا۔”خواجہ صاحب، باہر نہ جائیں، بھیگ جائیں گے۔ملاقات میں آئین کی حکمرانی، سیاسی و عوامی بالادستی اور سیاستدانوں کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کی مبینہ کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے مکالمہ شروع ہوگیا ہے ناقدین نے وقتی فضا قراردیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن واقعی ایک پیج پر آ گئے ہیں؟

پارلیمنٹ ہاؤس میں آج حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان ملاقات کا خوشگوار ماحول دیکھنے کو ملا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا ہاتھ تھامے سینیٹر مولانا عطاالرحمن اپنے چیمبر میں لے گئے۔ اسی دوران پارٹی کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر جے یو آئی کے اراکین پارلیمنٹ بھی چیمبر میں پہنچ گئے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے ہمراہ ناصر بٹ، پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ ہمراہ تھے اور جیسے ہی یہ چہل قدمی کرتے ہوئے چیمبر میں داخل ہوئے تو تیز بارش شروع ہو گئی، خوشگوار ماحول کارنگ دوبالا ہوگیا۔ ایسے میں خواجہ محمد آصف کے گزشتہ دونوں تیراکی کے لئے نہر میں چھلانگ لگانے کا تذکرہ ہو گیا قہقہے بلند ہوگئے

ارکان پارلیمینٹ نے بالمشافہ خواجہ محمد آصف کی تعریف کی کہ اس طرح اتنی بلندی سے نہر میں چھلانگ لگائی گئی کہ بہترین سوئمنگ آتی ہے بہترین تیراک ہیں۔ اس کے بعد جیسے ہی خواجہ محمد آصف مولانا عطاالرحمن کے چیمبر سے جانے لگے تو انہوں نے ان کا پیار محبت سے ہاتھ پکڑ لیا اور کہا کہ خواجہ صاحب باہر نہ جاؤ بھیگ جاؤ گے بارش ہو رہی ہے۔ تو خواجہ آصف نے کہا مولانا صاحب میں نے پیدل تھوڑی جانا ہے، میں نے گاڑی پر جانا ہے۔ اس دوران ایک بیٹھک ہوئی بیٹھک میں کہا ہم تو مولانا صاحب کے معترف ہیں، ان سے رہنمائی لیتے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا آپ کو معلوم ہوگا کہ آج کل ہم پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، اس پر تھوڑی دیر کے لیے خاموشی تو چھا گئی لیکن خوشگوار ماحول تھا، بارش تھی تیز بارش تھی رم جھم تھی.

یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور مولانا عطاالرحمن ہاتھوں میں ہاتھ تھامے اپوزیشن کے چیمبر میں داخل ہوئے حکمران اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ یہ جو سیاستدانوں کو پاکستان میں لا تعلق کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ایسی کوششوں کو جو اگرچہ مبینہ طورہیں کو کامیاب نہیں ہونے دینا، حکومت ہو اپوزیشن ایک پیج پر آ چکے ہیںکہ آئین کی حکمرانی سیاسی اور عوامی بالادستی کے لئے کسی ماوارءآئین انتظام کی کوئی حمایت نہیں کرے گا ۔اپوزیشن فی الحال اپنی ممکنہ تنقیدکی توپوں کا وزیراعظم کی طرف کرنے سے گریز کرے ۔دوطرفہ خاموش مفاہمت یا غیر اعلانیہ تعاون پر اتفاق ہوگیا ہے۔اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہنما پل کا کردار اداکررہے ہیں ۔پیپلزپارٹی بھی آمادہ ہے سیاسی مفاہمت ضروری ہے