اسلام آباد(محمداکرم عابد)پارلیمنٹ ہاؤس میں ہنگامی صورتحال،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، امدادی ٹیمیں اور بلند و بالا کرینیں(برانڈوسکائی لفٹ) فوری طور پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئیں۔

عمارت کے تیسرے فلور پر فرضی آگ لگی اور دھواں پھیل گیا۔2,29دوپہرالارم بج اٹھے ۔فوری طور پر دفاتر خالی کرائے گئے، سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں حفاظتی اقدامات کیے گئے جبکہ دوفرضی زخمیوں کو ریسکیو کرکے باہر نکالا گیا۔ پانی کی طاقتور دھار عمارت پر برسائی گئی اور فرضی آگ بجھانے کی کامیاب مشق مکمل کی گئی۔

پارلیمانی حلقوں نے قراردیا ہے کہ سانحہ پمز کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی یہ ایمرجنسی ڈرل یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی ہسپتال، مارکیٹ یا کسی دوسرے عوامی مقام پر ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو کیا ہماری امدادی ٹیمیں اسی برق رفتاری سے وہاں بھی پہنچ سکیں گی؟اگر ایسا ہو، تو قوم واقعی اپنے ریسکیو اداروں کو سلام پیش کرے گی۔

جمعہ کوشاہراہ دستورپر پارلیمنٹ ہاوس میں فرضی آگ سے اچانک ہنگامی صورتحال پیدا کر دی گئی۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پارلیمنٹ ہاو¿س کے اندر داخل ہوئیں، امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور بلند و بالا کرینوں کے ذریعے عمارت کے تیسرے فلور پر لگی آگ پر پانی برسایا گیا۔

فرضی طورپر ظاہر کیا گیا کہ پارلیمنٹ ہاوس کے فلور نمبر تین پر آگ بھڑک اٹھی ہے، دھواں عمارت کے مختلف حصوں اور دفاتر میں پھیل رہا ہے۔فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ پارلیمنٹ ہاوس کے دفاتر خالی کروائے گئے جبکہ سینیٹ سیکریٹریٹ اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی حفاظتی اقدامات کے تحت عملے کو باہر نکالا گیا۔اسی دوران عمارت میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کی مشق بھی کی گئی۔

ایک زخمی کو امدادی کارکن اپنے کندھے پر اٹھا کر باہر لائے جبکہ دوسرے زخمی کو اسٹریچر کے ذریعے محفوظ مقام تک منتقل کیا گیا۔بلند کرین پر موجود امدادی اہلکار اقبال نے پانی کی طاقتور لائن کے ذریعے عمارت کے متاثرہ حصے پر پانی برسایا اور فرضی طور پر لگی آگ پر قابو پانے کی کارروائی مکمل کی گئی۔

اس مشق کامقصد پارلیمنٹ ہاوس میں کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات اور اداروں کی تیاری کو جانچنا تھا۔مشق کے فیصلہ کو خفیہ رکھا گیا معلومات عام نہیں کی گئیں۔اطلاع ملنے پرجی فائیو،جناح کنونشن سنٹر،سی ڈی اے ہیڈکوارٹر سے تین فائربرگئیڈ(برانڈوسکائی لفٹ) تین ایمبولینس پہنچ گئیں مجموعی طورپر 42امدادی کارکنوں نے آپریشن میں حصہ لیا،13منٹ میں یعنی2بجکر42منٹ پر آپریشن مکمل کرلیا گیا۔پارلیمنٹ ہاوس جیسے حساس اور اہم ادارے میں جدید فائر فائٹنگ سسٹم موجود ہے،

پارلیمانی حلقوں میں سولات اٹھے ہیں کہ یہ برق رفتاری صرف پارلیمنٹ ہاوس تک محدود کیوں۔ خدانخواستہ کسی عام پبلک مقام، کسی ہسپتال، مارکیٹ، اسکول یا کسی دوسری عوامی عمارت میں ایسی صورتحال پیدا ہو جائے تو کیا ہماری جدید آلات سے لیس امدادی ٹیمیں اسی برق رفتاری کے ساتھ وہاں بھی پہنچ سکیں گی؟

اگر یہ صلاحیت تمام عوامی مقامات پر بھی اسی رفتار اور استعداد کے ساتھ موجود ہے تو یہ یقیناً خوش آئند بات ہے۔سانحہ پمز کے بعد پارلیمنٹ ہاوس سے اس قسم کی حفاظتی مشق کا آغاز ایک مثبت قدم ہے،

لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے تمام ہسپتالوں، سرکاری عمارتوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات کا مستقل آڈٹ اور معائنہ کریں۔کیونکہ کسی بھی حادثے کے بعد کارروائی سے زیادہ ضروری ہے کہ حادثے سے پہلے تیاری مکمل ہو۔اور اگر ہماری امدادی ٹیمیں واقعی ہر عوامی مقام پر اسی برق رفتاری سے پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تو یقیناً پوری قوم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔