چین ان دنوں ایک ایسی تبدیلی سے گزر رہا ہے جہاں مصنوعی ذہانت صرف کمپیوٹر اسکرینوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ حقیقی زندگی کے مسائل حل کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ اسی طرح دوسری جانب چین کا ایک چھوٹا سا شہر اب دنیا بھر کی مصنوعات کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ دونوں کہانیاں الگ الگ ضرور ہیں، مگر ان میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ چین ٹیکنالوجی اور تجارت، دونوں میدانوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔بات شروع کرتے ہیں آن حوئی صوبے سے، جہاں چینی سائنسدان مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئے مواد کی تحقیق کو برسوں کے بجائے مہینوں میں مکمل کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنا کے ایک ڈاکٹریٹ طالب علم اور ان کی ٹیم نے فائر فائٹرز کے لیے ایک زیادہ محفوظ سوٹ بنانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کا مقصد ایک ایسا مواد ڈھونڈنا تھا جو گرمی جذب کر کے گیس کے ذریعے اسے خارج کرے، تاکہ آگ کی شدت کا اثر کم ہو۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس کام کے لیے درجنوں مختلف شعبوں کی مہارت درکار تھی، جو ایک اکیلے طالب علم کے لیے آسان کام نہیں تھا۔اس طالب علم نے خود بتایا کہ زیادہ تر معلومات اس کے اپنے شعبے سے باہر کی تھیں، اور اسے لگا کہ اس کام میں بہت ذیادہ وقت درکار ہو گا مگر پھر اس نے ایک مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید پلیٹ فارم کا سہارا لیا۔ بار بار سمولیشن کرنے کے بعد اس کی ٹیم نے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا جس پر شاید ہی کسی نے پہلے کبھی غور کیا ہو۔

اسی یونیورسٹی کے ایک ماہر نے وضاحت کی کہ اس طالب علم نے ایک بڑے AI ماڈل کی مدد سے کان کنی اور دھات سازی کے شعبے کی پرانی معلومات میں سے ایک ایسا اعلیٰ توانائی والا طریقہ کار تلاش کیا، جسے عام طور پر توانائی زیادہ خرچ ہونے کی وجہ سے کم ہی لوگ استعمال کرتے تھے۔ مگر ان کے مقصد کے لیے یہی طریقہ بالکل موزوں تھا، کیونکہ اس سے توانائی تیزی سے خارج ہو سکتی تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ محض چار مہینوں میں اس ٹیم نے ایک نیا آگ روکنے والا مواد تیار کر لیا، اور ایک سال کے اندر یہ ایک مکمل پروڈکٹ کی شکل اختیار کر گیا، جو اب فائر فائٹرز کو صرف دس سیکنڈ کے بجائے پورے تیس منٹ تک تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہی مصنوعی ذہانت پلیٹ فارم اب روبوٹکس کے لیے بایو میٹرک مواد اور آئندہ آنے والی نسل کی بیٹریوں کے لیے سولڈ اسٹیٹ الیکٹرولائٹس پر بھی تحقیق میں مدد دے رہا ہے۔

اب رخ کرتے ہیں مشرقی چین کے شہر ایوو کی جانب، جو پہلے سے ہی چھوٹی مصنوعات کی برآمد کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں غیر ملکی تاجر چینی مصنوعات خریدنے آتے ہیں۔ مگر اب یہی شہر آہستہ آہستہ ایک نئی شناخت اختیار کر رہا ہے اور یہاں کے مقامی لوگ بھی اب دنیا بھر کی انوکھی چیزیں خریدنے کے لیے یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ایوو کے امپورٹڈ کموڈیٹیز مال کی شیلفیں گویا پوری دنیا کی کہانی سناتی ہیں۔ اسپین کا ہیم، ملائیشیا کے ڈوریان پھل، نیپال کا اونی فیلٹ اور افریقہ کے دستکاری کے نمونے، یہ سب ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔ملائیشین مصنوعات بیچنے والی ایک تاجر خاتون نے بتایا کہ کسٹمز کے نظام میں بہتری نے ان کے کاروبار کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے لوگ سمجھتے تھے کہ پرندوں کے گھونسلوں جیسی نایاب اشیاء کی درآمد کا عمل بہت پیچیدہ اور طویل ہے، مگر اب ملائیشیا کی فیکٹری سے لے کر ایوو کسٹمز اور پھر گاہک تک، یہ سامان محض تین دن میں پہنچ جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ملائیشیا کے مشہور موسانگ کنگ ڈوریان بھی اب باغ سے سیدھا گاہک کے دروازے تک صرف چوبیس گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔

ایک اور تاجر نے بتایا کہ ان اشیاء کے منفرد ڈیزائن اور رنگ ہی وہ وجہ ہیں جو خاص طور پر نوجوان نسل کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کا درآمدی کاروبار مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ اعداد و شمار بھی اس بدلتے رجحان کی گواہی دیتے ہیں۔رواں سال کی پہلی ششماہی میں ایوو کی درآمدات اور برآمدات کی مجموعی مالیت تقریباً 72 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔ خاص طور پر درآمدات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جن کی مالیت 9.8 ارب امریکی ڈالر تک جا پہنچی، یعنی سالانہ بنیاد پر 39 فیصد کا اضافہ۔

غرض یہ دونوں کہانیاں ایک ہی سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ چاہے وہ لیبارٹری میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئی ایجادات ہوں یا بازار میں دنیا بھر کی مصنوعات کا سنگم، چین اپنی سوچ اور اپنے نظام کو مسلسل جدید بناتا جا رہا ہے، اور یہی رفتار اسے دنیا کی صف اول کی معیشتوں میں شامل رکھے ہوئے ہے۔