اسلام آباد (محمداکرم عابد) اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف حکومت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف خیبر پختونخوا اسمبلی کی ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور باغیانہ تقریر بھی کروائی جارہی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس مذاکرات کے لئے پرامید ہیں ایک بار پھر حکومت کو پیشکش کی ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی کی کمی ضروری ہے، سیاسی استحکام ضروری ہے۔آئیں بات چیت کریں، اپوزیشن بات چیت کے لیے منتظر ہے، حکومت اپنی ٹیم بھیجے ،ایجنڈاواضح کرے۔ ہماری کبھی کسی وزیر سے بات چیت ہوئی ہے تو اس میں کچھ بھی طے نہیں پایا، نہ کوئی نتیجہ خیز نہیں ہوا تھا، نہ باضابطہ ملاقات ہوئی ہے نہ ملاقات کا پیغام ملا افواہوں سے گریز کیا جائے۔ اگر کہیں سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ملاقات کے لیے اپوزیشن لیڈرز کو پیغام بھیجا گیا تو یہ غلط ہے۔ ہمیں کبھی پیغام بھی نہیں دیا گیا نہ ہم سے حکومت نے رابطہ کیا ہے نہ وزیراعظم نے کوئی بات چیت کی ہے، البتہ ہم منتظر ہیں، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

قارئین پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور اس بیچ اپوزیشن لیڈر نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا ہے، سیاسی کشیدگی میں کمی ضروری ہے، سیاسی استحکام کے لیے اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اور حیران کن امر یہ ہے کہ یہ معاملہ حکومت سے متعلق ہوتا تھا۔ یہ گیند کبھی حکومتی کورٹ میں ہوتی تھی، کیونکہ حکومت پیشکش کرتی تھی اپوزیشن کو۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے پاکستان میں اپوزیشن پیشکش کر رہی ہے حکومت آئے بات چیت کریں، ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اب اس میں بریک تھرو ہو سکتا ہے، پارلیمنٹ میں پارلیمنٹ کے ذریعے بریک تھرو ہو سکتا ہے۔

ہمارے ذرائع نے یہ دعوی کیا ہے کہ اہم ترین شخصیت نے دونوں حکومتی ٹیموں کے درمیان ملاقات کے انتظام، بندوبست کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ یہ پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں، لیکن یہ شخصیت سرگرم ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اپوزیشن نے حکومت کو بات چیت کی پیشکش کی ہے۔پاکستان کی تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ اپوزیشن حکومت کومذاکرات کے لئے قائل کررہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کبھی عقاب بننے کی کوشش کرتی ہے توکبھی مذاکرات کی۔ واضح موقف اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے دوسری طرف سیاسی قوتوں کو دیوارسے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ،سیاستدانوں کو بند گلی کا اسیر بنانے کے منصوبے دکھائی دیئے دیتے ہیں۔

بعض ناقدین نے سخت تبصرہ کیا ہے کہ جمہوریت دیوار سے لگ نہیں گئی لگ چکی ہے ، مسلم لیگ(ن) مسلسل سیاسی خسارے کے راستہ پر گامزن ہے شاید اس کا ادارک فہم بھی نہیں اقتدار کا نشہ ہے کہ کم ہونے میں ہی نہیں آرہا ہے ۔تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہونے کا خوف ہے نہ سیاسی تقسیم کا،بس جو بندوبست کیا گیا ہے اس میں ایسے ہی گزارے کی حکومت ہوتی ہے تاہم نقصان تو جمہوریت کا ہورہا ہے۔