نیپال میں سیلاب کی تباہی انڈونیشیا میں خوفناک آگ کے واقعات کے اثرات جاری ہیں، ان تباہیوں کا اگر پیچھا کیا جائے جو تو سرا جاکر تیل کے کارخانوں، پلاسٹک کے انباروں تک پہنچتا ہے، جسے عرف عام میں موسمیاتی تبدیلی کا بحران کہا جاتا ہے، لیکن اس کو نہ آج سڑک پر گھومنے والا عام انسان بحران سمجھتا ہے نہ ایوانوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کو ٹھنڈے کمروں میں اس کی تپش محسوس ہوتی ہے، ماہرین سائنسدان اس پر چیخ رہے ہیں کہ زمین قیامت کے قریب جارہی ہے، لیکن اگر دنیا کی سب سے بڑی طاقتور ریاست کا سربراہ ٹرمپ اسے فراڈ کہے تو کیا، کیا جاسکتا ہے۔
اس صورتحال میں آج ہی دی گارڈین نے خبر دی ہے کہ آنے چھ ماہ کے دوران ساڑھے چار لاکھ انسان گرمی اور قحط سے مرسکتے ہیں، یہ خبر موسمیاتی ماہرین کی جانب سے تیار کی گئی ایک رپورٹ کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔
ایسے لوگ جو شاید ’’ال نینو‘‘ کا نام بھی نہ جانتے ہوں، مگر اس کی قیمت وہ آنے والے ایام میں اپنی زندگی کی صورت ادا کرسکتے ہیں۔
دی گارڈین کے مطابق "ال نینو سے اگلے چھ ماہ میں 4 لاکھ 50 ہزار لوگ مرسکتے ہیں، مگر اصل کلائمیٹ امپیکٹ لیب رپورٹ ایک اہم فرق بتاتی ہے۔ جون 2026 میں ال نینو کے آغاز سے فروری 2027 تک تخمینہ 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات ہے، جبکہ ستمبر سے فروری کے درمیان چھ ماہ کا تخمینہ 2 لاکھ 39 ہزار ہے۔
یہ ریکارڈ شدہ اموات نہیں بلکہ 1996–2025 کے اوسط حالات کے مقابلے میں ماڈل سے نکالا گیا تخمینہ ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے غیرمعمولی طور پر گرم ہونے کا قدرتی عمل ہے، جو ہواؤں، بارشوں اور عالمی موسم کو بدل دیتا ہے۔ ’’سپر ال نینو‘‘ غیررسمی نام ہے؛ عالمی ادارہ اسے ’’انتہائی طاقتور ال نینو‘‘ کہتا ہے۔مگر یہ ال نینو ایسے سیارے پر آیا ہے جسے کوئلہ، تیل اور گیس پہلے ہی گرم کرچکے ہیں۔
قدرت نے چنگاری دی، مگر ایندھن انسان نے جمع کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ رجحان معمول سے 44 فیصد زیادہ انتہائی زیادہ گرمی پیدا کرے گا۔ محققین اسے ’’مستقبل سے آیا پوسٹ کارڈ‘‘ کہتے ہیں: آج کی ہنگامی گرمی دو دہائی بعد معمول بن سکتی ہے۔دوہزار ستائیس کا گرم ترین سال بننا ابھی طے نہیں، مگر امکان بڑھ چکا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق 86 فیصد امکان ہے کہ 2026 سے 2030 کے درمیان کوئی ایک سال 2024 کا ریکارڈ توڑ دے گا، جبکہ اسی مدت میں 1.5 ڈگری کی حد عارضی طور پر عبور ہونے کا امکان 91 فیصد ہے۔
گرمی جسم کے ساتھ کھیتوں، پانی، بجلی اور گھر کا بجٹ بھی متاثر کرتی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق 2027 کے اختتام تک تقریباً 4 کروڑ 90 لاکھ مزید انسان شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں، جس سے 45 ممالک میں متاثرہ آبادی 27 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔یعنی ایک طرف خوشحال ممالک کے انسان پکا ہوا کھانا ضایع کر رہے ہونگے تو دوسی جانب لوگ بھوک سے مر رہے ہونگے۔
فصل کہیں اور تباہ ہونگی، قیمت پاکستان کے بازار میں بھی وصول کی جائےگی۔پاکستان اس وقت دس سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں تو شامل نہیں اور اس کیلئے اموات کا کوئی مصدقہ عدد بھی نہیں بتایا گیا،مگر رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگلے سال پاکستان اور بھارت میں گرمی سے اموات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔پاکستان کیلئے خطرہ زنجیر کی صورت میں آئے گا، گرم موسمِ سرما، غیر یقینی بارش، کم برف، آبپاشی پر دباؤ اور جلد شروع ہونے والی شدید گرمیاں، نتیجے میں فصلیں متاثر ہوں گی، بجلی کی طلب بڑھے گی اور کم آبی بہاؤ پن بجلی محدود کرسکتا ہے۔
دوہزار چھبیس میں ہندوکش ہمالیہ کی برفانی موجودگی طویل مدتی اوسط سے 27.8 فیصد کم رہی۔ یہ صرف ال نینو کا نتیجہ نہیں، مگر پاکستان کی کمزور آبی بنیاد ضرور ہے۔سب سے زیادہ قیمت وہ مزدور ادا کرے گا جسے شدید ترین گرمی میں ہر صورت کام پر جانا ہوگا، وہ خاندان جس کے پاس مستقل بجلی یا ٹھنڈا پانی نہیں، اور وہ کسان جس کیلئے ایک خراب فصل سال بھر کی آمدن کی امید ختم کردیتی ہے۔
یوں تو گرمی سب کیلئے ایک جیسی ہے، مگر اس سے بچنے کی طاقت برابر نہیں۔اسی لیئے دولت مند ریاستوں کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔جی ٹوینٹی ممالک عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے تقریباً 77 فیصد اخراج کرتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو 2035 تک موسمیاتی موافقت کیلئے سالانہ 310 سے 365 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جبکہ 2023 میں بین الاقوامی سرکاری امداد صرف 26 ارب ڈالر تھی۔اس کا فوری حل یہ ہے کہ سیٹلائٹ، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی ماڈل اور سرمایہ رکھنے والی ریاستیں بروقت وارننگ، کولنگ سینٹرز، ہسپتالوں کی اضافی استعداد، مزدوروں کا تحفظ اور خشک سالی برداشت کرنے والے بیج فراہم کرسکتی ہیں۔
مالی مدد، قرض کے بجائے گرانٹ ہونی چاہیے، تاکہ متاثرہ ملک اپنی بقا کیلئے مزید قرضدار نہ ہوں۔لیکن یہ ہماری تجویز یا خواہش ضرور ہے، لیکن عملی طور پر بڑی طاقتیں شتر مرغ کی طرح گردن ریت میں دبائے ہوئے ہوتی ہیں۔وہ سمجھتی ہیں کہ یہ مصیبت ان کی طرف نہیں آئے گی، لیکن یہ خام خیالی کی کیفیت اس لیئے بھی ہے کہ ان کے پالیسی ساز اور زیادہ تر شہری شدید تری گرمی کو روکنے کیلئے تمام وسائل رکھتے ہیں، یہی سبب ہے عالمی قوت ہونے کے باوجود یہ لوگ عالمی کردار ادا نہیں کرپاتے، سبب واضح ہے کہ منافع کی بھوک نے کاروباریوں کو اندھا اور بے حس کردیا ہے، اس لیئے انتخابات تو چند سال بعد آتے ہیں، فوسل فیول کا منافع روز ملتا ہے،مگر موسمیاتی نقصان دہائیوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ انہیں خوش فہمی ہے کہ ایئرکنڈیشنر، انشورنس اور مضبوط عمارتیں انہیں بچالیں گی۔مگر موسمیاتی بحران کبھی بھی پاسپورٹ نہیں دیکھتا۔ فصلوں کی تباہی خوراک مہنگی کرتی ہے، پانی کی کمی نقل مکانی بڑھاتی ہے اور آفات، عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہیں۔امیر ریاستیں قیمت مؤخر کرسکتی ہیں،اس سے بچ نہیں سکتیں۔
چار لاکھ 51 ہزار اموات کا تخمینہ تقدیر نہیں، کارروائی سے پہلے بجنے والی گھنٹی ہے۔ بروقت وارننگ، پانی، سایہ، طبی مدد اور مزدوروں کا تحفظ اسے بدل سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے: ال نینو گزرنے کے بعد کیا ہم پھر فوسل فیول جلاتے ہوئے اگلی آفت کا انتظار کریں گے؟کیونکہ ال نینو آتا اور چلا جاتا ہے۔مگر انسان کی پیدا کی ہوئی گرمی یہیں رہ جاتی ہے۔
انسانی اموات کی جو تعداد بیان کی گئی ہے، یہ ان اعداد سے الگ ہے جو موسمیاتی بحران کے حوالے سے پہلے ہی جاری ہوچکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود زمین پر رہنے والے انسان، جن کے ہاتھ اور جیبیں خالی ہیں، وہ انہی پر انحصار کرتے ہیں، جو خود ان کی تباہی کا سبب ہوتے ہیں۔
نوٹ: راقم اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی ہیں.


