ایک ایسے پاکستانی بچے کا تصور کریں جو صبح، دوپہر اور رات کو روٹی کھاتاہے، پیٹ بھی بھر جاتا ہے، لیکن اس کے جسم اور دماغ کو وہ سب کچھ کیوں نہیں مل رہا ہوتا جو ایک صحت مند انسان بننے کے لیے ضروری ہے؟

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ہر دس بچوں میں سے چار سے زیادہ کی جسمانی نشوونما عمر کے مطابق نہیں ہو رہی۔ نوجوان لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اور تولیدی عمر کی 41.7 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ اعداد و شمار 2018 کے قومی نیوٹریشن سروے سے لیے گئے ہیں۔ اور یہاں پہلا سوال ہی بنتا ہے کہ سات سال گزر چکے لیکن نیا قومی سروے تاحال جاری نہیں ہوا۔ یعنی ریاست کے پاس اپنی سب سے بنیادی چیز کا بھی تازہ ڈیٹا موجود نہیں کہ اس کے اپنے بچے کس حال میں ہیں۔

یہ صرف بیمار بچوں اور کمزور خواتین کی کہانی نہیں، یہ پاکستان کی آنے والی معیشت کی کہانی ہے۔

آج کا پانچ سالہ بچہ 2040 میں جوان ہوجائے گا۔ یہی نسل ہماری فیکٹریاں، کھیت، دفتر، اسپتال اور کاروبار چلائے گی۔ اگر اس نسل کا ایک بہت بڑا حصہ بچپن ہی میں ضروری غذائیت سے محروم رہا تو سوال صرف یہ نہیں کہ اس کی جسمانی اور ذہنی صحت کیسی ہوگی، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ کتنا سیکھ سکے گا، کتنا کما سکے گا، اور ملکی معیشت میں اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کتنا حصہ ڈال سکے گا؟

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے موجودہ آبادی کے تخمینوں پر 2018 کی شرحیں لگائیں تو پانچ سال سے کم عمر تقریباً ایک کروڑ 27 لاکھ بچے اس مسئلے کی زد میں ہیں، اور نوجوان لڑکیوں کی خون کی کمی کا حجم ستر لاکھ سے زائد تک پہنچتا ہے۔
غذائی قلت کا مطلب ہمیشہ بھوکا رہنا نہیں ہوتا، ایک بچہ روزانہ پیٹ بھر کر روٹی کھا سکتا ہے، لیکن اس کے جسم میں آئرن، فولک ایسڈ، زنک یا ضروری وٹامنز کی کمی ہو سکتی ہے۔ ماہرین اسے "چھپی ہوئی بھوک” کہتے ہیں۔

اور یہیں پر ایک انتہائی سادہ تصور سامنے آتا ہے، جس کا نام شاید پاکستان کے بیشتر لوگوں نے کبھی نہ سنا ہو جسے فوڈ فورٹیفکیشن کہتے ہیں۔
اس کی آسان معنیٰ یہ ہیں کہ جو خوراک لوگ پہلے ہی روزانہ کھاتے ہیں، اسی میں انتہائی کم مگر مقررہ مقدار میں ضروری اجزاء شامل کر دیے جائیں۔ آٹے میں آئرن، فولک ایسڈ، زنک اور وٹامن بی 12۔ تیل اور گھی میں وٹامن اے اور ڈی۔ نمک میں آیوڈین۔ اگر آپ آیوڈین والا نمک استعمال کرتے ہیں تو آپ فوڈ فورٹیفیکیشن سے پہلے ہی واقف ہیں، ممکن ہے اس نام سے واقف نہ ہوں۔
یہ غذائی قلت کا مکمل علاج نہیں۔ بچے کو اچھی غذا، صاف پانی، بہتر صحت اور خاندان کو بہتر معاشی حالات بھی درکار ہیں۔ لیکن جسم میں بعض ضروری اجزا کی کمی کم کرنے کا یہ دنیا بھر میں آزمودہ اور نسبتاً سستا طریقہ ہے۔ جس سے ادویات و دیگر اخراجات کی بچت ہو جاتی ہے۔
اب اسے ایک غریب یا متوسط پاکستانی گھر کی نظر سے دیکھیے۔

بچی کمزور رہتی ہے۔ گھر والے ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں۔ خون کا ٹیسٹ ہوتا ہے ، کمی سامنے آتی ہے۔ گولیاں یا سیرپ خریدا جاتا ہے۔ دوا ختم ہوتی ہے تو دوبارہ ڈاکٹر، دوبارہ ٹیسٹ، دوبارہ دوا۔
ڈاکٹر اپنا کام کر رہا ہے، لیبارٹری اپنا، دوا ساز ادارہ اپنا، ان کا اپنا دھندہ جاری ہے۔لیکن غریب باپ کی پھٹی جیب میں جو ہے وہ بھی نکلتا رہتا ہے۔

لیکن ریاست سے سوال دوسرا ہے
جس کمی کو پیدا ہونے سے پہلے روزمرہ خوراک کے ذریعے کم کیا جا سکتا تھا، اس کے لیے وہ اقدامات کیوں نہیں کرتی؟

پہلے ناقص غذائیت کی قیمت، پھر کمزوری کی، پھر ڈاکٹر اور دوا کی۔غریب خاندان، ایک ہی مسئلے کی قیمت بار بار ادا کرتا ہے، لیکن یہ چکر یہیں نہیں رہتا گھوم پھر ریاست کے خزانے تک پہنچتا ہے۔بیروزگاری، کمزور معیشت کی صورت میں، کیونکہ حکمران عام انسان کی تکلیف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، وہ پھر مصیبت ایک بڑی شکل اختیار کرلیتی ہے۔

دوہزار سترہ میں اسکلینگ اپ نیوٹریشن( ایس یو این) اور وفاقی حکومت کے ادارے کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق غذائی قلت پاکستان کو سالانہ قومی پیداوار کے تقریباً تین فیصد، یعنی سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کے برابر نقصان پہنچاتی ہے۔ اس میں بیماری اور علاج ہی نہیں، بچوں کی ذہنی اور جسمانی صلاحیت پر پڑنے والے دیرپا اثرات بھی شامل ہیں۔

سال دوہزار پچیس میں نیوٹریشن انٹرنیشنل نے اپنے تخمینے میں بتایا کہ نقصان 17 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ یہ تخمینہ مختلف طریقۂ کار سے آیا ہے، اس لیے دونوں اعداد جمع نہیں کیے جا سکتے، لیکن دونوں ایک ہی سمت دکھاتے ہیں کہ غذائی قلت صرف صحت کا نہیں، معیشت کا بھی بحران ہے۔

کیا اس کا حل واقعی مہنگا ہے ؟

یہیں معاملہ حیران کن ہو جاتا ہے۔سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ( ایس ڈی پی آئی) کی حال ہی میں پیش کی گئی ایک پریزنٹیشن کے مطابق بڑے پیمانے پر خوراک میں ضروری اجزا شامل کرنے سے فی پاکستانی صرف پانچ سے پندرہ امریکی سینٹ کی چھوٹی سی رقم خرچ کرکے بہت سارے صحت کے نقصانات کو روکا جاسکتا ہے۔

سوال یہ ہے: اتنی چھوٹی رقم کے لیے قومی بجٹ میں کتنی رقم مختص ہوتی ہے، اور اس میں سے کتنا واقعی خرچ ہوتا ہے؟ یہ سوال کبھی کسی پارلیمانی کمیٹی میں کھل کر نہیں پوچھا گیا، اور نہ ہی اس کا جواب عوامی ریکارڈ میں آسانی سے ملتا ہے۔ کیونکہ پوچھنے والوں کی ترجیح عوام کے بچوں کی صحت نہیں ان کے والدین کی جیب ہوتی ہے۔

یہ وہ نقصان ہے جس کی قیمت، ملک اربوں میں ادا کر رہا ہے، جبکہ اسے روکنے کا طریقہ چند سینٹ فی شخص موجود ہے۔
تو سوال سیدھا ہے ، ہم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟
کیا اسلام آباد کو معلوم نہیں تھا؟ شاید یہی سب سے اہم سوال ہے۔

اگر ہمارے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کو مسئلے کا علم ہی نہیں تھا تو یہ ان کی اہلیت کا سوال بنتا ہے۔ اور اگر علم تھا تو یہ ترجیح اور عمل کا سوال بن جاتا ہے۔

پاکستان میں تیل اور گھی میں وٹامن شامل کرنے کی قانونی کوششوں کی تاریخ 1965 تک جاتی ہے۔ بعد میں آٹے میں غذائی اجزا شامل کرنے کے منصوبے آئے۔ وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کے تحت نیشنل فوڈ فورٹیفیکیشن الائنس برسوں سے موجود ہے، جس کا کام ہی یہ ہے کہ اس معاملے کو آگے بڑھائے۔ سندھ اور بلوچستان نے 2021 میں اور خیبرپختونخوا نے 2022 میں اس کے قوانین بنائے۔

اس کے باوجود وفاقی دارالحکومت کے لیے اسلام آباد فوڈ فورٹیفیکیشن بل اگست 2025 میں قومی اسمبلی میں پیش ہوا، اور وہ حکومت کا بل نہیں، بلکہ رکنِ اسمبلی شائستہ پرویز کا نجی بل تھا۔ قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق یہ بل آج بھی زیرِ التوا ہے۔

یہاں سوال دوہرا بن جاتا ہے
پہلا ، اگر سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا برسوں پہلے قانون بنا سکتے تھے، تو وہ شہر جہاں پارلیمان خود بیٹھتی ہے، وہ کیوں پیچھے رہ گیا؟
دوسرا، اور زیادہ تکلیف دہ، قانون بن بھی جائے تو کیا گارنٹی ہے کہ عمل ہوگا؟
ایس ڈی پی آئی کی اپنی رپورٹس اعتراف کرتی ہیں کہ جن صوبوں میں قانون منظور ہو چکا، وہاں بھی نفاذ کمزور رہا ہے۔ یعنی یہ صرف ایک بل کا مسئلہ نہیں، یہ دو درجوں کی نااہلی ہے: پہلے قانون سازی میں تاخیر، پھر قانون بننے کے بعد بھی عمل درآمد کا فقدان۔

سوال یہ نہیں کہ صرف بل کیوں رکا ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیشنل فوڈ فورٹیفیکیشن الائنس نے کتنے سالوں میں کتنی رپورٹیں دیں، اور ان پر کس نے، کیا کارروائی کی؟
اور یہ سوال اس لیے زیادہ سنگین ہو جاتا ہے کہ فوڈ فورٹیفیکیشن پاکستان میں کوئی محض کاغذی تجربہ نہیں۔ 2016 سے 2021 کے ایک پروگرام میں fortified edible oil تقریباً 6 کروڑ 26 لاکھ افراد تک پہنچا، جبکہ fortified wheat flour صرف 25 لاکھ افراد تک، یعنی کام ہو سکتا تھا، ہر خوراک اور ہر صارف تک یکساں طور پر نہیں پہنچا۔

یہاں ایک اور زمینی حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہمارا ہر شہری بڑے کارخانے کا پیک شدہ آٹا نہیں کھاتا۔ کوئی گندم خود پسواتا ہے، کوئی محلے کی چکی سے آٹا خریدتا ہے۔

عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 ہزار چھوٹی چکیاں ہیں، جو ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی کو براہ راست آٹا فراہم کرتی ہیں۔ تو کیا اپنی گندم پسوانے والے شخص کے آٹے میں ضروری اجزا شامل نہیں کیے جا سکتے؟
کیے جا سکتے ہیں۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں عالمی ادارۂ خوراک نے دوہزار انیس بیس میں، چھوٹی چکیوں کو ایک سستی مشین فراہم کی جو پسائی کے دوران مقررہ مقدار میں ضروری اجزا آٹے میں شامل کرتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں صرف 50 چکیوں کے ذریعے دس لاکھ صارفین تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا، اور بعد میں یہ دائرہ مزید چکیوں تک بڑھایا گیا۔

یعنی مسئلہ یہ نہیں کہ چکی کے آٹے میں وٹامن اور معدنی اجزا شامل نہیں کیے جا سکتے۔ یہ کرکے دکھایا جا چکا ہے۔ اصل سوال یہ ہے:
جو کام چند درجن چکیوں پر ہو سکتا ہے، اسے ستر ہزار چکیوں تک پہنچانے کا قومی نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟

یہاں پہنچ کر معاملہ صرف غذائیت کا نہیں رہتا۔یہ حکمرانی پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے۔
قانون بنانا ایک کام ہے، اسے نافذ کرنا دوسرا۔ آٹے میں صحیح مقدار کون شامل کر رہا ہے؟ مشین درست کام کر رہی ہے یا نہیں؟ نمونے کون لے رہا ہے؟ لیبارٹری میں جانچ کون کر رہا ہے؟ اور قانون توڑنے والے کے خلاف کتنی کارروائی ہوئی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ملتے۔ اور یہاں ایک بات خود قابلِ غور ہے، یہ ڈیٹا کہ کتنے مل مالکان نے قانون کی خلاف ورزی کی، کتنے جرمانے ہوئے، کتنے نمونے فیل ہوئے ، عام شہری کے لیے کہیں آسانی سے دستیاب نہیں۔

جس نظام کی کارکردگی کا ڈیٹا خود خفیہ ہو، اس کے بارے میں یہ فرض کرنا مشکل ہے کہ وہ نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے، اور شاید یہی پاکستان کے غذائی بحران کی اصل کہانی ہے۔
مسئلہ معلوم ہے،حل معلوم ہے، طریقہ آزمایا جا چکا ہے۔ قانون کے نمونے بھی موجود ہیں۔ ذمہ دار ادارہ بھی موجود ہے۔ پھر نتیجہ کیوں نہیں؟
پاکستان کی غذائی قلت کسی ایک وزارت یا دور میں پیدا نہیں ہوئی، اور اسے صرف آٹے میں چند اجزا شامل کر کے ختم بھی نہیں کیا جا سکتا۔ بچوں کو متوازن غذا چاہیے، ماؤں کو بہتر خوراک، صاف پانی، علاج، اور غربت میں کمی بھی ضروری ہے۔

لیکن اس بڑی حقیقت کے پیچھے چھپنا بھی درست نہیں کہ مسئلہ بہت بڑا ہے۔ کیونکہ مسئلے کا جو حصہ نسبتاً آسانی اور کم لاگت سے کم کیا جا سکتا ہے، اس پر عمل نہ کرنا بھی ایک جرم ہے۔
جو ضروری غذائی اجزا چند روپے میں روزانہ کی روٹی، تیل یا نمک کے ذریعے پہنچ سکتے تھے، وہ دوا اور علاج کی شکل میں کئی گنا خرچ کے بعد بھی کیوں نہیں پہنچ رہے ؟

اس لیئے ہر پاکستانی کو اپنے نمائندے سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ حل موجود ہونے کے باوجود وہ عمل کیوں نہیں کراتے،
ان سے پوچھنا چاہیئے کہ 2040 اور 2050 کے پاکستان کے لیے وہ کیسی نسل تیار کر رہے ہیں۔ جو تبدیل ہوتی دنیا تو دور کی بات، اپنے ملک کے اندرمقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔کیونکہ لاغر جسم اور ذہن کبھی بھی معاشروں کی تعمیر نہیں کرسکتے۔

نوٹ: لکھاری اسلام آباد کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں، ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا
Email:razak.khatti@gmail.com