لانگ مارچ، ایمرجنسی، گورنر راج نہیں بس مذاکرات۔محمداکرم عابد دامن مارگلہ سے
پارلیمینٹ ایک مرتبہ پھر عوامی توجہ کا محور ومرکز بن گیا پاکستان کی سیاست میں بڑی پیش رفت کہ الفاظی گولہ باری کے بعدبالآخر حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی میز پر آ گئے۔حکومت کے قریبی حلقوں کے مطابق طویل سیاسی کشیدگی کے بعد پارلیمنٹ ہاوس میں برف پگھلنے لگی ہے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مکالمے سے نکالا جائے گا، تصادم سے نہیں۔اعتماد سازی کے دوطرفہ اقدامات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے، جن کی ممکنہ تفصیلات طے کی گئی ہیں۔لانگ مارچ، ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے ممکنہ تصادم کے راستوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔
تجزیہ کار وں میں بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیا پارلیمنٹ ہاوس سے پاکستان کی سیاست میں ایک نئے مکالمے کا آغاز ہو گیاقراردیا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاو¿س میں برف پگھل گئی یہ بھی بڑی خبر ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات پر متفق ہوتے ہوئے مذاکرات کی میز پرآگئے ہیں۔لانگ مارچ ِایمرجنسی گورنر راج؟کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فریقین نے مکالمے راستہ اختیار کر لیا۔اعتماد سازی کے دوطرفہ اقدامات پر اتفاق کو
پاکستان کی سیاست میں نیا موڑکہا جارہا ہے کہ تصادم کے بجائے مذاکرات سے مسائل کے حل کی کوشش کی شروعات ہوئی ہے ۔
یعنی”تصادم ختم؟ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
قارئین کرام پاکستان کی تیزی سے بگڑتی معاشی صورتحال کا تقاضا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام آئے۔ شہرِ اقتدار سے پاکستان کی معیشت، سیاست، جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔بالآخر حکومت اور اپوزیشن ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر آ گئے ہیں اور اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ مسائل کا حل مکالمے سے نکالا جائے گا، لانگ مارچ، ایمرجنسی یا گورنر راج سے نہیں۔
اپوزیشن کا موقف تھا کہ وہ کئی ماہ سے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے رہی تھی، جبکہ حکومت کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیشن کی سیاسی تیاریوں اور سرگرمیوں کو دیکھ رہی تھی۔ تاہم آج دونوں فریقین نے ایک بار پھر مذاکراتی عمل شروع کر دیا۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں طویل عرصے بعد ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ سیاسی کشیدگی کی برف پگھلنے لگی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ فریقین نے اعتماد سازی کے دوطرفہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا ہے۔
اصولی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی طرف سے اعتماد بحال کرنے کے اقدامات کریں گے۔حکومت کی جانب سے سیاسی نوعیت کی مبینہ انتقامی کارروائیوں سے گریز اور دوسری طرف اپوزیشن کی جانب سے لانگ مارچ، انتشار اور افراتفری کی سرگرمیوں سے گریز جیسے اتفاق مذاکرات کے آئندہ مرحلے میں اعتماد سازی کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔
مذاکرات کی خبر سامنے آتے ہی پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری کے آثار سامنے آئے۔ سیاسی استحکام کی پیش رفت کو معیشت کے لیے بھی ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی یہ پیش رفت اہم ہے، جہاں سیاسی کشیدگی کے باعث ممکنہ طور پر ایک نئی آزمائش کا خدشہ موجود تھا۔
مذاکراتی عمل نے کم از کم ایک درمیانی راستہ نکالنے کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔اس پورے عمل میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کردار کلیدی قرار دیا گیا ہے۔ وہ مسلسل یہ کہتے رہے کہ پارلیمنٹ ہاو¿س میں مذاکرات کی ونڈو موجود ہے، اور آج یہی مذاکراتی ونڈو عملی طور پر کھل گئی۔
مشترکہ اعلامیے میں بھی دونوں فریقین نے اسپیکر قومی اسمبلی کے کردار کا اعتراف کیا ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے دستخط ہوئے۔اب اصل مرحلہ مذاکرات کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل درآمد کا ہے۔ سب سے بڑی خبر یہی ہے کہ گورنر راج، ایمرجنسی اور لانگ مارچ جیسے ممکنہ تصادم کے راستوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔
مذاکراتی ٹیموں کو اپنی اپنی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل ہے اور اس عمل میں سندھ سے حلیم عادل شیخ کی شمولیت بھی خاصی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ان کی شمولیت کی وجوہات کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں ہو سکتی ہیں، لیکن حتمی طور پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ انہیں کس مخصوص ہدایت یا مشاورت کے تحت شامل کیا گیا۔
بہرحال پارلیمنٹ ہاوس میں مذاکرات کی میز سج گئی ہے۔اور سب سے بڑی خبر یہی ہے تصادم کے بجائے مکالمہ، اور سڑک کے بجائے پارلیمنٹ کی اہمیت کو تسلیم کرلیا گیا ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مکالمے سے ہی مسئلے حل ہوتے ہیں نہ لانگ مارچ نہ ایمرجنسی نہ گورنر راج، یہ بڑا اتفاق ہوا ہے حکومت اور اپوزیشن میں۔ پاکستان کا آئین بھی تمام اکابرین نے مل کر بنایا تھا جس میں بلاامتیاز تمام سیاسی، دینی، مذہبی قوم پرست جماعتیں شامل تھیں۔ آج ایسے ہی منظر پارلیمنٹ ہاوس میں دیکھنے میں آیا،
طویل عرصے کے بعدکہ اب ایک دوسرے کے لیے بحالی اعتماد کے اقدامات ہوں گے۔بحالی اعتماد کے دو طرفہ اقدامات ہوں گے، یعنی پی ٹی آئی بھی بحالی اعتماد کے اقدامات کرے گی اور حکومت بھی کرے گی۔ اب یہ بحالی اعتماد کے اقدامات کیا ہیں، اس کی تفصیلات کی اجازت طلب کی جارہی ہے ایسے نہ کہ پوچھ کر بتائیں گے کی گردان سے ڈیڈلاک برآمد نہ ہوجائے جب بھی اتفاق ہوئے اب کوئی سیاسی عدم استحکام کی طرف نہیں جائے گا، یعنی حکومت اگر کوئی انتقامی مبینہ انتقامی کارروائیاں کرتی ہے سیاسی، وہ بھی نہیں ہوں گی اور دوسری طرف اپوزیشن بھی لانگ مارچ انتشار یا افراتفری کی مبینہ سرگرمیاں یا پروگرامات سے گریز کرے گی۔
اس عمل سے پاکستان میں سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوا ہے، پاکستان کی معیشت سیاسی حالات دونوں کے لئے بڑی خبر ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وہ عوام جو ممکنہ طور پر آزمائش سے یا امتحان سے دوچار ہونے کے قریب تھے، ہو سکتے تھے، یقیناًایک درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں نیتو ں پر انحصار ہے۔ بار بار کہا جارہا تھا کہ مذاکراتی ونڈو پارلیمنٹ ہاو¿س میں موجود ہے، مذاکراتی ونڈو اور وہ مذاکراتی ونڈو پارلیمنٹ ہاو¿س میں کھل گئی اور اس کا کلیدی کردارادا کیا
اسپیکر قومی اسمبلی نے جس کا اعلامیہ میںاعتراف بھی کیا گیا۔ اب یہ معاملات آگے بڑھیں گے مذاکرات سے مسائل حل ہوں گے،اور گورنر راج، ایمرجنسی اور لانگ مارچ کے جو ممکنہ خطرات تھے دونوں فریقین نے واضح طور پر دو ٹوک انداز میں ایک دوسرے کو آگاہ کر دیا ہے۔
صدر وزیراعظم دوسری طرف تحریک انصاف کی اعلی قیادت کا اعتماد حاصل ہے مذاکراتی ٹیموں کو، اس میں سب سے بڑی انٹری ہوئی ہے سندھ سے حلیم عادل شیخ شامل ہوئے ہیں،وہ پی ٹی آئی میں ایک عقابی صفت رہنما تصور کیے جاتے ہیں،انھیں عمران خان ان کی بہنوں کااعتمادحاصل ہے نظرنہ لگ جائے مذاکراتی میز سج گئی ہے پارلیمنٹ ہاوس میں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت، پیپلز پارٹی، اپوزیشن کے اراکین کے درمیان مذاکرات کاپہلے دورخوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہواہے۔اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، قومی امور اور درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے اپنے مو¿قف سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا، بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور مختلف معاملات پر تحمل، سنجیدگی اور باہمی احترام کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی مسائل کو مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
تمام فریقین نے سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم اور پارلیمانی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے انعقاد اور باہمی رابطے کو مو¿ثر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے تمام فریقین کو پارلیمانی فورم پر مذاکرات کے ذریعے قومی معاملات کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔
مکالمہ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، اراکین قومی اسمبلی نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی شریک ہوئے۔اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، ملک عامر ڈوگر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ نے اجلاس میں شرکت کی۔وفاقی وزرا ءامیر مقام، رانا ثناءاللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری نے شرکت کی۔


