محمداکرم عابد دامن مارگلہ سے
..
ملک میں طویل عرصے بعد سیاسی مکالمے کی واپسی، حکومت اور اپوزیشن کی مذاکرات کی میزآبادہوگئی۔ مدت بعد سیاسی ہم آہنگی کی سازگار فضا دیکھنے میں ملی ہے پاکستان تحریک انصاف کے براہ راست ریاست کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں اور اس میں ایک اہم شخصیت کل کا کردار ادا کر رہی ہے ۔

شہر اقتدار میں انتہائی حالات پرسکون ہیں خوشگوار ماحول میں بات چیت جاری ہے۔ حکومت اور ریاست اور اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف آمادہ ہے کہ خوش اسلوبی سے ان معاملات کا حل نکال لیا جائے۔ مدت کے بعد پاکستان میں یہ سیاسی سازگار ماحول دیکھنے کو ملا ہے اور اس پر عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ملک میں ہم آہنگی کی نسبتاً سازگار فضا نظر آ رہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف، مذاکرات کی میز پر آ چکے ہیں اور اسلام آباد میں سیاسی کشیدگی کو بات چیت کے ذریعے کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے ایک مرتبہ پھر سیاسی مکالمے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مذاکرات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں ہو ئے ہیں، جہاں حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہیں۔مذاکراتی عمل میں تحریک انصاف کی جانب سے بیرسٹر گوہر علی خان سمیت اہم رہنما شریک ہیں، جبکہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر حکومتی نمائندے موجود ہیں۔ اسپیکرقومی اسمبلی مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اس پیش رفت کا براہِ راست تعلق سیاسی کشیدگی، پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے احتجاجی پروگرام اور عمران خان سے متعلق معاملات سمیت مختلف سیاسی امور سے ہے۔

فریقین نے پہلے دور میں اپنے اپنے مو¿قف پیش کیے اور دوسرے دور میں بھی بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔عوامی سطح پر بھی یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے تو پارلیمنٹ کی توجہ دوبارہ عوامی مسائل، معیشت، امن و امان اور دیگر قومی معاملات کی طرف مرکوز ہو سکتی ہے۔اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ مذاکراتی عمل قومی معاملات تک برقرار رہے،

فریقین ایک دوسرے کے مو¿قف کو سنیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو بات چیت کے عمل کو متاثر کرے۔ مذاکرات کے نتیجے اور کسی حتمی اتفاقِ رائے کے بارے میں فیصلہ فریقین کی آئندہ گفتگو سے ہی سامنے آئے گا۔

یہ صورتحال ایک بار پھر اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ پیچیدہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے پارلیمینٹ آئینی و سیاسی فورم ہے۔ موجودہ مذاکرات اسی عمل کی ایک عملی مثال ہیں سیاسی کشیدگی کے حل کی نئی امید پاکستان میں ایک عرصے بعد سیاسی مکالمے اور مفاہمت کی ایک نسبتاً سازگار فضا دکھائی دے رہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف، ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر موجود ہیں اور سیاسی کشیدگی کو بات چیت کے ذریعے کم کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اسلام آباد میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی میزبانی میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، جہاں فریقین اپنے مو¿قف اور مطالبات ایک دوسرے کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق پہلے دور میں گفتگو کو تعمیری اور خوشگوار ماحول میں آگے بڑھانے اور قومی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پارلیمانی رابطوں اور مذاکراتی عمل کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم حتمی پیش رفت اور کسی معاہدے کا فیصلہ فریقین کی بات چیت کے نتیجے میں ہی سامنے آئے گا۔اگر یہ مذاکرات کسی قابلِ عمل اتفاقِ رائے تک پہنچتے ہیں تو سیاسی کشیدگی میں کمی اور پارلیمانی مکالمے کے لیے ایک نیا راستہ کھل سکتا ہے۔

عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ انتشار اور افراتفری کی وجہ سے عوام کے جو مسائل ہیں اس سے توجہ ہٹ کر رہ گئی تھی۔ پاکستان تحریک انصاف براہ راست مذاکرات شروع ہیں ریاست کے ساتھ۔ اگرچہ ہمیں بظاہر سامنے حکومت حکومتی زعمائ، وفاقی وزیر نظر آ رہے ہیں، لیکن اس میں اصل جو مذاکراتی عمل میں جو شریک ہیں انھوں نے رائے دے دی ہے، ہم یہ
کہہ سکتے ہیں

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر مشتمل یعنی یہ پی ٹی آئی اور ریاست کے درمیان مذاکرات کا منظر نامہ ہے۔ خوش آئند ہے پاکستان میں سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ایک کھلبلی کی سی صورتحال تھی ایوانوں کی توجہ ہٹ کر رہ گئی تھی ۔مکالمہ پر خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اب کوشش یہ کرنا ہے کہ یہ مذاکرات سبوتاژ نہ ہوں۔ اب اس سے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہوگی کسی اہم شخصیت کی اور اس کے جو ملاقات کی جو تفصیلات ہوں گی وہ متعلقہ شخصیت اس کا اعلان نہیں کرے گی بلکہ یہ جو مذاکراتی ٹیم جومیں نے تین اہم لوگ بتائے ہیں، کے درمیان طے پائے گا کہ اس تفصیلات کو ہم نے کیسے منظر عام پر لانا ہے۔ تو دوسری طرف سے بھی پھر احتجاجی پروگرامات پر نظر ثانی کی جائے گی۔

احتجاج ہوگا پروگرامات ہوں گے کیونکہ ایک کال دی گئی ہے کارکنوں کو لیکن اس کو ایک محدود سطح پر پاکستان تحریک انصاف لے جائے گی۔ شاید پنجاب اور اسلام آباد کے بارڈر کراس کرنے کا عبور کرنے کا موقع نہ آئے ۔ تحریک انصاف کی اس لچک، اس نرمی اور دوسری طرف ریاست کی جانب سے بھی نیک تمناوں، نیک خواہشات کے اظہار پر برف واقعی ہی پگھل گئی ہے گوہر نے کہہ دیا ہے مذاکراتات نتیجہ خیز ہو گئے ہیں

اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی دوسرے دور کے دوران یہی کہا تھا کہ بہت کچھ معاملات طے پا گئے ہیں اب اس کے سیاسی استحکام میں پیش رفت ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا پارلیمنٹ نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے وہ جو پارلیمنٹ پر تنقید ہوتی تھی پارلیمنٹ نے ایک بار پھر ثابت کیا 18 ترمیم کی طرح کہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ کوئی پیچیدہ صورتحال ہو یا کوئی بڑا مسئلہ مشکل ہو کہ اس کا حل نہ نکالا جا سکے
مکالمے سے اور پارلیمنٹ کا وہ اصل فورم ہے۔