کبھی سوچا تھا کہ آپ کا ٹینس کوچ ایک روبوٹ ہو اور آپ کا استاد البرٹ آئن اسٹائن کا اوتار؟ چین میں اب یہ خیالی باتیں نہیں رہیں۔
شنگھائی سے شین زن اور پھر عالمی منڈیوں تک، چینی ساختہ اے آئی ٹینس روبوٹس اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دونوں جگہ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف کلاس روم میں بھی ایک خاموش انقلاب برپا ہو چکا ہے۔شنگھائی کے ایک ٹینس وینیو میں ایک اے آئی روبوٹ بغیر کسی وقفے کے، بغیر تھکے، مسلسل یکساں معیار کے ساتھ کھیلتا چلا جا رہا ہے، نہ وقت کی کمی آڑے آتی ہے نہ افرادی قوت۔ اس نظام میں بصری شناخت کا ایسا ماڈیول لگایا گیا ہے جو کھلاڑی کی سوئنگ حرکت کو حقیقی وقت میں پڑھتا ہے اور آواز کے ذریعے اسے اپنی پوزیشن درست کرنے کی ہدایت بھی دیتا ہے۔
ایک ٹینس کے شوقین کھلاڑی نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس روبوٹ کی بال ڈیلیوری کا معیار 4.0 یا اس سے زیادہ ریٹنگ رکھنے والے کھلاڑی کے برابر ہے۔ ان کے مطابق عام طور پر ایک نئے کھلاڑی کو مستحکم پانچ شاٹس کی بیس لائن ریلی تک پہنچنے کے لیے تیس سے پچاس نجی کوچنگ سیشنز درکار ہوتے ہیں، جبکہ یہ سمارٹ روبوٹ استعمال کرنے والوں کی نجی تربیت پر ہونے والے تقریباً نصف اخراجات بچا دیتا ہے ، یعنی جیب پر بوجھ بھی کم اور کھیل میں بہتری بھی زیادہ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شین زن کے کئی ٹینس وینیوز میں اب یہ روبوٹس خریدنے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ شہری اپنے اسمارٹ فون سے کیو آر کوڈ اسکین کر کے انہیں کرائے پر لے سکتے ہیں، جس کے لیے فی گھنٹہ تقریباً نو سے سترہ ڈالر کے برابر ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ ایسمیٹ کمپنی کی کمرشل ڈائریکٹر وانگ لو نے بتایا کہ ان کی کمپنی شین زن میں تین یا اس سے زیادہ معیاری کورٹس رکھنے والے تقریباً ستر فیصد ٹینس کلبوں کے ساتھ تعاون اور تنصیب مکمل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق قومی سطح پر بیجنگ، شنگھائی اور گوانگ چو کے ملٹی کورٹ ٹینس مراکز میں بھی ان کی موجودگی قریباً چالیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف اسپورٹ کے اعداد و شمار اس رجحان کی گواہی دیتے ہیں، ملک بھر میں ٹینس کھیلنے والوں کی تعداد پچیس ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور لگتا ہے کہ روبوٹس کوچز اسی کھیل کو مزید مقبول بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب ذرا کورٹ سے کلاس روم کا رخ کریں، جہاں مصنوعی ذہانت نے استاد اور ساتھی طالب علم، دونوں کا روپ دھار لیا ہے۔ مشرقی چین کے شہر ووشی میں طلبہ کو ایسے نئے "اساتذہ” سے متعارف کروایا جا رہا ہے جن میں سے کچھ انسان ہی نہیں۔ اے آئی ایجنٹس کو بڑے پیمانے پر رہنمائی، کلاس روم میں تدریس اور اسکول کے بعد ٹیوشن کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔ ایک اسکول میں یہ ایجنٹس البرٹ آئن اسٹائن، لی بائی اور سن ووکونگ جیسی مشہور شخصیات کے اوتار کی شکل میں طلبہ کے سامنے آتے ہیں۔ ذرا تصور کریں، کوئی بچہ اپنے سوال کا جواب خود آئن اسٹائن سے پوچھ رہا ہو۔
جی یو ایکسپیریمنٹل اسکول کے نائب پرنسپل لیان چھینگ کے مطابق جب طلبہ کو کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خود آگے بڑھ کر مدد مانگ سکتے ہیں اور ان اے آئی ایجنٹس کے ساتھ بات چیت سے ان کی دلچسپی بھی بڑھتی ہے۔ اسی شہر کے ایک اور اسکول نے مختلف چینی لارج لینگویج ماڈلز کی مدد سے اپنا خود کا اے آئی اسٹڈی کمپینئن تیار کیا ہے۔ "لیان یوان اسمارٹ اسٹڈی کمپینئن” نامی یہ نظام تدریسی طریقہ کار کو سمجھتا ہے، جس سے یہ اساتذہ کو ان کے لیسن پلانز بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے جبکہ طلبہ کو ان کی ذاتی ضروریات کے مطابق تعلیمی مشکلات سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ لیان یوان جیئے پرائمری اسکول کے نائب پرنسپل ماؤ جنگ چھوان کے مطابق یہ خاص طور پر انگریزی جیسے مضامین کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ان کے اسکول کا تیار کردہ یہ اے آئی ایجنٹ اساتذہ کو لیسن کی تیاری میں اور طلبہ کو پڑھائی میں مدد دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کے عام استعمالات میں لیسن کی تیاری، انگریزی بول چال کی مشق اور تحریر کو تصویر میں تبدیل کرنا شامل ہے جبکہ حال ہی میں اس میں تحریری کام پر اے آئی کی رائے دینے کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔
چین کی وزارتِ تعلیم نے "اے آئی پلس ایجوکیشن ایکشن پلان” جاری کیا ہے، جس کا مقصد اے آئی پر مبنی تعلیم کی ترقی کو تیز کرنا اور ایک "مستقبل کے لیے تیار” تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ٹینس کورٹ سے لے کر کلاس رومز تک، مصنوعی ذہانت اب چینی عوام کی روزمرہ زندگی میں خاموشی سے مگر مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ کبھی کوچ بن کر، کبھی استاد بن کر اور کبھی ایک ایسے ساتھی کی صورت میں جو سیکھنے کے عمل کو تھوڑا آسان بنا دیتا ہے۔


