چین کی قومی تعطیلات شروع ہوتے ہی سینما گھروں میں بھی ایک الگ ہی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے، اور اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یکم سے سات اکتوبر تک جاری رہنے والی ان سات روزہ تعطیلات کے دوران چین کا باکس آفس پچاس کروڑ یوان یعنی تقریباً پچھتر ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا، جیسا کہ چینی باکس آفس ٹریکر بیکن پروفیشنل کے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

قومی تعطیلات کا یہ موقع چینی فلمی صنعت کے لیے روایتی طور پر ایک اہم ترین ریلیز ونڈو سمجھا جاتا ہے، جب بڑے بینرز اپنی بڑی فلمیں ریلیز کر کے چھٹیوں کے بڑھتے ہوئے رش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔نئی ریلیز ہونے والی فلموں میں "پیپا پگ: پرفیکٹ ہولیڈے” خاص توجہ کا مرکز بنی، جو برطانوی پری اسکول فرنچائز کی پہلی تھری ڈی فیچر فلم ہے۔ یہ فلم پیپا اور اس کے خاندان کے ایک چھٹیوں کے سفر کی کہانی بیان کرتی ہے اور اس میں ڈریگن بوٹ ریس جیسے چینی ثقافتی عناصر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جنوب مغربی صوبے سچوان کے شہر چھینگ ڈو میں ایک بھائی بہن اپنے والدین کے ساتھ یہ فلم دیکھنے پہنچے۔انہوں نے بتایا کہ اسے پیپا پگ خاص طور پر ڈریگن بوٹ ریس کی وجہ سے بہت پسند آئی۔ گھریلو ناظرین کے لیے فلموں کی فہرست میں "نیو بگ ہیڈ سن اینڈ اسمال ہیڈ ڈیڈ: دی ہیونلی آئی سیریز –

دی آؤٹ آف کنٹرول سیونتھ ڈے” بھی شامل ہے، جو فنتاسی ایڈونچر کو خاندانی رشتوں اور بڑے ہونے کے موضوعات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ فلم چین کی سب سے معروف اینیمیٹڈ فرنچائزز میں سے ایک کی تازہ ترین قسط ہے، جس کی اصل ٹی وی سیریز 1995 میں پہلی بار نشر ہوئی تھی۔ خاندانی کامیڈی "مسٹر اینڈ مسز پارڈن” ایک طویل عرصے سے شادی شدہ جوڑے کی کہانی ہے جو اچانک ایک دوسرے کے جسموں میں بدل جاتے ہیں، اور اسی مزاحیہ افراتفری کے ذریعے فلم ازدواجی تناؤ اور باہمی افہام و تفہیم جیسے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

گھریلو فلموں سے ہٹ کر اس بار کی فہرست میں مختلف طبقوں کے ناظرین کے لیے بھی کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ کرائم تھرلر "ٹریسز آف جسٹس” ایک حقیقی زندگی کے فرانزک ایویڈنس ماہر کے کام پر مبنی ہے اور اس میں تفتیش کار جرائم کے کیسز حل کرنے کے لیے شواہد کا سہارا لیتے دکھائے گئے ہیں۔ "ویٹنگ فار مائی سیلف” ادھیڑ عمر اور بزرگ افراد کی زندگیوں پر مرکوز ہے اور خاص طور پر سینیئر ناظرین کے لیے بنائی گئی ہے۔

بیجنگ کے ایک بزرگ تماشائی نے اس فلم کے بارے میں بتایا کہ انہیں یہ فلم بہت اچھی لگی، کہانی ایسے محسوس ہوئی جیسے ان کے اردگرد ہی چل رہی ہو اور یہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے سحر میں جکڑتی چلی گئی۔ ان کی خواہش تھی کہ ایسی مزید فلمیں بنیں جو ان کی عمر کے لوگوں کی زندگی کی عکاسی کریں۔سینما کے ساتھ ساتھ سیاحت کا میدان بھی خالی نہیں رہا۔

مشرقی صوبے شانڈونگ کا ساحلی سیاحتی شہر چھنگ دآؤ، جسے یونیسکو کا "سٹی آف فلم” کا اعزاز بھی حاصل ہے، نے سات روزہ قومی تعطیلات کے دوران فلم سے جڑی مختلف ثقافتی سرگرمیاں شروع کیں تاکہ فلم کے ساتھ جڑی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔

چھنگ دآؤ میٹرو نے "چھنگ دآؤ فلم” نامی تھیم والی لائن تھری ٹرین متعارف کروائی، جس میں سفر کو فلمی ریلوں، پروجیکٹرز، مشہور فلمی مناظر اور شہر کی فلمی صنعت سے متعلق معلومات کے ذریعے ایک جامع تجربہ بنا دیا گیا۔ ایک مسافر مینگ فان نے بتایا کہ ٹرین میں سوار ہو کر انہیں خود کو خوش قسمت محسوس ہوا، کیونکہ یہ کوچ خاصی منفرد تھی، تازگی بھرے رنگوں سے سجی ہوئی اور اس میں فلمی عناصر بھی خوبصورتی سے شامل کیے گئے تھے۔شہر نے مشہور فلموں کی شوٹنگ لوکیشنز کو ملانے والے چار تھیم والے سیاحتی روٹس بھی شروع کیے ہیں، جہاں سیاح تصویریں بنا سکتے ہیں،

مقامی کھانوں کا مزہ چکھ سکتے ہیں اور شہر کی رونق بھری ثقافت میں خود کو ڈھال سکتے ہیں۔ ٹور گائیڈ ژو شیاؤہی کے مطابق چھنگ دآؤ انٹرنیشنل کروز ہوم پورٹ، یان ایر دآؤ پارک، باداشیا پارک کے قریب شیلنگشیا روڈ اور اورینٹل مووی میٹروپولس جیسے فلمی مقامات کو انہی سیاحتی روٹس میں شامل کیا گیا ہے، جنہیں سیاحوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ اس کے علاوہ شہر نے ساحل کنارے کھلی فضا میں فلمی نمائشیں، فلمی کارنیوالز اور ثقافتی میلے بھی منعقد کیے ہیں تاکہ فلم اور کھانے پینے کو ملا کر صارفین کے لیے نئے دلچسپ تجربات تخلیق کیے جا سکیں۔

یاد رہے کہ چھنگ دآؤ کو 2017 میں چین کا پہلا یونیسکو سٹی آف فلم قرار دیا گیا تھا۔یوں دیکھا جائے تو اس بار کی قومی تعطیلات صرف آرام اور سیر و تفریح کا موقع نہیں بلکہ پوری چینی فلمی صنعت اور سیاحت کی صنعت کے لیے بھی ایک بھرپور جشن ثابت ہو رہی ہیں، جہاں ہر عمر اور ہر ذوق کے ناظرین کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔