شہرِ اقتدار میں ”بابائے جمہوریت ” دستیاب ہوگیا
محمداکرم عابددامن مارگلہ سے ۔۔۔
شہر اقتدار میں بابائے جمہوریت پر نظر پڑ گئی۔ اس وقت حکومت اپوزیشن میں ڈیڈ لاک ہے۔ ماضی میں بھی حکومت اپوزیشن میں ڈیڈ لاک ہوا کرتا تھا، جب نواز شریف ،بینظیر بھٹو کی جماعتوں کو عروج تھا ڈیڈ لاک ہوتا توشہر اقتدار اسلام آباد میں چلم، حقہ اٹھائے، ترک ٹوپی پہنے نواب زادہ نصراللہ خان بیٹھک لگا دیتے راستہ نکل آتا یاپھر وہ بھی احتجاجی ٹرک پرسوار ہوجاتے مسئلہ حل کر لیا جاتا تھا۔ اب موجودہ حالات میں حکومت اپوزیشن کے درمیان ایک ڈیڈ لاک ہے۔

پہلے تو ایک رہنما کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ سیاستدانوں کے سپرد کر دیں یہ معاملات حل ہو جائیں گے، اپوزیشن جماعتوں کو تلاش تھی ایک بابائے جمہوریت کی، فی الحال وہ بابائے جمہوریت ثانی دستیاب ہو گیا ہے، درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔ اب یہ بابائے جمہوریت کون ہیں، کہاں اس کی تربیت ہوئی، کن کن سیاستدانوں سے ان کو سیکھنے کا موقع ملا، اور سب سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان ہیں ۔ آنے والے وقت میں معلوم ہوجائے گا۔ نظریں اس پر ٹک گئیں؟

وزیر اعظم شہباز شریف، نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، محمود خان اچکزئی، راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، بیرسٹر گوہر، اخترمینگل کون ہے جو اس کا معترف نہیں ہے؟ اب ایک بار پھر اس سے رائے اور مشورہ لیا جا رہا ہے، راستہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ ڈیڈ لاک نہیں ہونا، اگر سیاسی معاملات پر بات ٹھوس پیش رفت ہوتی ہے توسیاسی جماعتوں کو عوامی پزیرائی ملے گی۔

بابائے جمہوریت ثانی سے کہا گیا ہے کہ حکومت سے کہہ دو ملاقات کروا دو، کچھ نہیں ہوگا، کوئی بھونچال نہیں آئے گا، ایک سیاسی استحکام آ جائے گا۔ لانگ مارچ ماضی میں نواز شریف نے کیے، بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ہوئے، عمران خان کا126 دنوں کا دھرنا ہو چکا ہے، اب کیا ہے؟ ہاں لانگ مارچ کا روٹ اور مقام کا تعین ہو سکتا ہے۔

قارئین کرام تجزیہ کاروں سے رابطوں اپوزیشن، محمود خان اچکزئی کی دوراندیشی کے باعث پی ٹی آئی بانی کے بیانیہ کے برعکس معاہدے کے جھانسہ میں آنے سے بچ گئی ۔یہی وجہ ہے کہ اب کی بار سب اس بات پر ڈٹے ہوئے ہیں، عمران خان کی منظوری کے بغیر کسی ایجنڈے پر بات چیت نہیں ہوگی۔نووارد بابائے جمہوریت نے راستہ تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، اسلام آباد سے بریک تھرو ہو سکتا ہے،

حکومت اپوزیشن کو بابائے جمہوریت ثانی دستیاب آنے کے قریب ہے۔راستہ ایمبسی روڈ سے ہوکرآتاہے۔ ماضی کی طرح ایک بار پھر درمیانی راستے کی تلاش شروع کردی گئی۔کبھی نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی تعطل پیدا ہوتا تو نواب زادہ نصراللہ خان اسلام آباد میں بیٹھک لگا کر راستہ نکالتے تھے۔آج حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک میں بھی ایک تجربہ کار سیاسی شخصیت سے رائے اور مشورہ لینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

متحدہ اپوزیشن کو جس ”بابائے جمہوریت“ کی تلاش تھی، وہ کردار ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ مختلف سیاسی رہنماو¿ں کی جانب سے اس تجربہ کار سیاسی شخصیت سے مشاورت کی بات سامنے آ رہی ہے۔پیغام یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ملاقات کر لیں، سیاسی معاملات پر بات ہو۔خان سے ملن سے کوئی بھونچال نہیں آئے گا؛ سیاسی استحکام کا راستہ نکل سکتا ہے۔

محمود خان اچکزئی کا جائزموقف برقرار ہے کہ عمران خان کی منظوری کے بغیر کسی ایجنڈے پر بات چیت نہیں ہوگی۔پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن والے بھی تو اپنی قیادت سے بات کرتے ہو۔سوال یہ ہے کہکیا ”بابائے جمہوریت“ اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرا پائیں گے؟کیا آج رات سیاسی بریک تھرو کا امکان ہے؟شہرِ اقتدار میں نظریں اب اسی ملاقات اور اسی ثالثی پر لگی ہیں۔”بابائے جمہوریت“ میدان میں، حکومت اپوزیشن ڈیڈ لاک کے خاتمے کی کوششیں تیزہوچکی ہیں۔جب کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے وزیراعظم کومخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تلوارسرپر رکھ کر مذاکرات کیوں؟معاملات سیاستدانوں کے سپردکر دیں۔ بحران حل کرلیں گے۔

قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمودخان اچکزئی نے اہم ہدایات جاری کردی ہیں بات چیت کا ضابطہ کارطے کرنا ضروری ہے ۔یعنی مذاکرات سے قبل اپوزیشن لیڈرز ٹرمز آف ریفرنس پر متفق ہوگئے ہیں ۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات سے قبل قواعد و ضوابط طے کرنے پر اختلافات کے بعد اپوزیشن قیادت نے موقف واضح کیاہے۔محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجہ ناصر عباس کی جانب سے پیغامات کی ترسیل ہو گئی ہے کہ حکومت رابطہ کرے تو پہلے مذاکرات کے ٹرمز آف ریفرنس طے کیے جائیں گے، اس کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھے گی۔

یہی پیغام وزیراعظم شہباز شریف تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کی ایک اہم شخصیت سے بالواسطہ رابطے کی اطلاعات ہیں، جہاں مذاکرات کے لیے ضابطہ کار طے کرنے کی ضرورت پر بات ہوئی۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات میں اس معاملے پر اہم پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا گیا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کا ایک اہم شخصیت سے رابطہ بھی سیاسی مشاورت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات میں پہلے بھی ضابطہ کار، مطالبات اور لانگ مارچ کے معاملے پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں