اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں میں اسٹاف لیول معاہدہ ہو گیا ہے، جس کے بعد اب پاکستان کو 1.21 ارب ڈالر مل جائیں گے۔اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 1.21 ارب ڈالر فراہم کرنے کی منظوری دے گا، پاکستان نے معاشی اہداف کےحصول کے لیے بہترین کوششیں کیں، اور ملک میں آئی ایم ایف کے پروگرام سے معاشی استحکام آیا، اور اصلاحات کا عمل تیز تر ہوا۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کے ساتھ موجودہ ای ایف ایف پروگرام کی 5 ویں قسط کے لیے چوتھا جائزہ اجلاس ہوا، جب کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے لیے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات ہوئے۔

آئی ایم ایف کے مطالبات
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پٹرول سبسڈی اسکیم کو مرحلہ وار ختم کیا جائے، اور اسے مزید وسعت نہ دی جائے، اور اسے صرف مستحقیق تک محدود کیا جائے،آئی ایم ایف نے ہدف دیا ہے کہ پاکستان رواں مالی سال 2027 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا 2.8 فی صد خرچ کرے۔ پاکستان توانائی کی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھے اور واجبات کی وصولی بہتر کرے۔اسٹیٹ بینک کو مہنگائی واپس لانے کے لئے مناسب طور پر سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے، روپے کی شرح تبادلہ میں لچک اور زرمبادلہ ذخائر بڑھانے کا مشورہ دیا گیا۔کم آمدنی والے طبقے کے لیے نقد امداد بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی۔آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے مالی سال 2027ء کے بجٹ میں جی ڈی پی کے 2 فیصد کے بنیادی پرائمری سرپلس کے ہدف پر عمل کرے، ٹیکس نظام کو آسان اور کاروبار دوست بنایا جائے، ٹیکس وصولی کے نظام میں ڈیجیٹل انوائسنگ، آڈٹ اور تھرڈ پارٹی ڈیٹا کے استعمال کو بڑھایا جائے۔پاکستان توانائی کے شعبے میں پیداواری لاگت میں کمی کے لیے اقدامات کرے، گیس سیکٹر میں وصولیاں بہتر بنائی جائیں اور سیکٹر کے نقصانات میں کمی کی جائے۔

آئی ایم ایف کا اعتراض
مانیٹری فنڈ نے اعتراض کیا ہے کہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں اخراجات اہداف سے کم ہیں، مالی سال 2025 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا محض 2.2 فی صد خرچ ہوا، جب کہ مالی سال 2026 میں صحت عامہ اور تعلیم پر معیشت کا محض 2.5 فی صد خرچ ہوا۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات سے نمٹنے کے ساتھ مجموعی معاشی استحکام برقرار رکھا۔ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی دوبارہ رسائی کو ادارے نے ملکی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارت میں رکاوٹیں پاکستان کی معیشت کے لیے بدستور اہم خطرات ہیں۔