آج 12 اکتوبر ہے، کل 11 اکتوبر تھا۔ ستائیس سال پہلے جنرل مشرف نے نواز شریف کی دوتہائی اکثریت والی حکومت ختم کی تھی۔ کل نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی دوتہائی اکثریت والی حکومت ختم کرکے گورنر راج لگا دیا۔
مسلم لیگ ن 22 سال تک 12 اکتوبر کو یومِ سیاہ قرار دے کر مناتی رہی۔ اب پی ٹی آئی آئندہ سال سے اس دن کو یومِ سیاہ قرار دے کر منائے گی، لیکن کب تک؟
یہ حالات اور مواقع پر منحصر ہے۔
آج 12 اکتوبر ہے، مگر مسلم لیگ ن کل کے اپنے اقدام پر فتح کے شادیانے بجا رہی ہے۔ کل ملک کے چند شہروں میں ایک انتظام کے تحت “سول سوسائٹی” کے نام پر پاک فوج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور گورنر راج کے نفاذ کی حمایت میں ریلیاں نکلوائی گئیں۔ گورنر راج کے حامیوں کے ہاتھوں میں بینرز پر فیلڈ مارشل کی بڑی تصاویر تھیں، پی ٹی وی نے انہیں پرائم ٹائم میں دکھایا، جبکہ سوشل میڈیا پر دل جلے ان ریلیوں پر لعن طعن بھی کرتے رہے۔ صدر آصف علی زرداری کی وہ ویڈیو بھی وائرل ہوگئی جس میں محسن نقوی انہیں وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کروانے میں اس طرح پریشان تھے کہ جیسے ان کی ٹرین نکل رہی ہو۔
ستائیس سال پہلے 12 اکتوبر کو جب مشرف نے دوتہائی اکثریت والی نواز حکومت ختم کی تھی، تب بھی پی ٹی وی کا مائیک ایسے ہی لوگوں کو ڈھونڈ رہا تھا جو نواز شریف سے نجات پر شکرانے کے الفاظ ادا کریں۔ کل 11 اکتوبر کو بھی "سول سوسائٹی” کے نام سے نکالی گئی ریلیاں یومِ نجات منا رہی تھیں۔ حکومتِ پختونخوا برطرف ہو چکی تھی، اور یومِ نجات بدین میں منایا جا رہا تھا۔ اسے سندھی میں کہتے ہیں: "کہاں منہ مریم کا، کہاں ٹنڈو اللہ یار!”
ہر سیاسی جماعت کو ایک یومِ سیاہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے حصے میں 5 جولائی، پھر 4 اپریل اور اس کے بعد 27 دسمبر آیا۔ نواز شریف کے حصے میں 12 اکتوبر آیا۔ حکومت گئی، عمر قید ملی، مگر ایک معاہدے کی وجہ سے آزادی مل گئی۔ جلاوطنی کے بعد جب منہ کھولنے کی اجازت ملی تو کھل کر بولے۔ پھر سپریم کورٹ نے اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پر انہیں وزیراعظم کے عہدے سے نااہل کیا تواس بار وہ ووٹ کو عزت دلانے کے لیے نکل پڑے۔عمران خان نے انہیں جیل بھیج دیا۔ وہ اس بار بھی کامیابی سے نکل گئے اور لندن سے جنرل باجوہ اور فیض حمید کو للکارتے رہے۔
2024 کے انتخابات سے پہلے پاکستان پہنچے۔ وہ دن اور آج کا دن ہے، لوگ پرانے نواز شریف کو ڈھونڈتے رہے، مگر وہ انہیں کہیں نظر نہیں آیا۔لوگوں کے کان ترس گئے، لیکن ان کی خاموشی نہیں ٹوٹی۔
پیپلز پارٹی بھی اپنے تین یومِ سیاہ کبھی بیانات سے اور کبھی تقریبات سے مناتی رہتی ہے، تاکہ بہانے بہانے سے لوگوں کو یاد دلایا جائے کہ جمہوریت کی طرفداری کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے کیسے ان سے حکومتیں اور دو وزرائے اعظم چھینے۔ لیکن اب بات یہاں تک پہنچی کہ ج و اسٹیبلشمنٹ کے قہر کا شکار ہوکر شہید ہوئے، ان شہدا کی برسی پر اب فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے، تاکہ وہ ماضی کے اینٹ سے اینٹ بجانے والے بیانات بھول کر ان پر دستِ شفقت ہمیشہ قائم رکھیں۔
اسی طرح نواز شریف والوں نے بھی بائیس سال تک 12 اکتوبر منانے کا سلسلہ جاری رکھا، پھر ختم کر دیا۔ اردو نیوز میں شائع ہونے والی ہمارے دوست بشیر چوہدری کی رپورٹ کے مطابق 2022ء وہ سال تھا جب مسلم لیگ ن نے یومِ سیاہ کا ذکر تک نہ کیا، کیونکہ اس سال جن کے خلاف یومِ سیاہ منایا جانا تھا، انہی کی مہربانی سے انہیں اور پیپلز پارٹی کو اقتدار مل چکا تھا۔ اس کے بعد یومِ سیاہ عمران خان اور ان کی جماعت کے حصے میں آیا۔
کل والا گورنر راج آج کی وفاقی حکومت کی سب سے بڑی فتح تھا۔ ایامِ سیاہ کے یہ گول چکر چلتے رہیں گے۔ کل والا گورنر راج مشرف کے “کوپ” سے کم نہیں تھا۔ تب بھی عوام کی رائے کی توہین کی گئی تھی، مگر ایک وردی والے نے کی تھی۔ کل بھی ایسا ہی تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس بار وردی جسم پر نہیں، پیچھے موجود تھی۔
ستائیس سال پہلے وزیراعظم کو گرفتار کیا گیا، کل ایک وزیراعلیٰ کو گرفتار کیا گیا۔ تالیاں بجانے والے ہر دور میں مل جاتے ہیں۔آج والوں کی جب کل ضرورت ختم ہو جائے گی تو عمران خان کا سیاسی پنر جنم ہوگا۔
لیکن یہ یاد رہے کہ دائرے کا سفر ہمیشہ جاری نہیں رہتا۔ دائرہ ٹوٹ جائے تو سب کچھ بکھر جاتا ہے، اور یہ تب ہوتا ہے جب ڈرنے والوں کا خوف ختم ہو جائے۔
Email:razak.khatti@gmail.com
نوٹ ، ادارے کا صاحب رائے کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں


