کبھی سوچا ہے کہ وہ گاجر جو آپ کے بچے کو اچانک بہت میٹھی لگنے لگے، یا وہ مکئی جس میں ایک ہی دانے کے اندر میٹھا اور چپچپا دونوں ذائقے مل جائیں۔ یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی سائنسی محنت کا ثمر ہیں۔

چائینیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز نے ایک عوامی نمائش میں اپنے چھتیس تحقیقی اداروں کے پانچ سو ساٹھ سے زائد تازہ ترین سائنسی و تکنیکی کارناموں کی نمائش کی، اور مقصد یہ تھا کہ لیبارٹری کی ایجادات کو سیدھا صارفین کی روزمرہ زندگی اور کھانے کی میز تک پہنچایا جائے۔

پھلوں اور سبزیوں کے حصے میں ایک گلاس تازہ گاجر کا جوس ہی سب سے زیادہ توجہ کھینچنے میں کامیاب رہا، حتیٰ کہ روایتی میٹھے پھلوں سے بھی زیادہ، اور نمائش کی سب سے مقبول چیزوں میں شمار ہوا۔ ایک بچے نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ذائقہ بہت اچھا ہے اور یہ عام گاجروں سے کہیں زیادہ میٹھی محسوس ہوتی ہے۔ محققین نے کٹائی کے اوقات اور مختلف اقسام کے لیے کاشت کے طریقوں میں ترمیم کر کے نہ صرف زیادہ میٹھی اور نرم گاجر تیار کی بلکہ کم شوگر والی اقسام بھی متعارف کروائیں۔

چائینیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے ادارہ برائے فروٹس اینڈ ویجیٹیبلز کے ماہر ژوانگ فائی یون نے بتایا کہ یہ ترمیم ناپسندیدہ ذائقہ پیدا کرنے والے اجزاء کو نشانہ بناتی ہے، بغیر غذائیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے۔ ان کے مطابق گاجر کا مجموعی ذائقہ بڑی حد تک اس کے اگنے کے حالات سے متاثر ہوتا ہے، اور کچھ اجزاء میں تبدیلی لا کر انہوں نے وہ اجزاء کم کر دیے ہیں جنہیں لوگ عموماً ناپسند کرتے ہیں، جبکہ گاجر کی اصل غذائیت مکمل طور پر برقرار رکھی گئی ہے۔نمائش میں کھیرے بھی رکھے گئے تھے جنہیں ٹارٹرونک ایسڈ سے مالا مال کیا گیا ہے۔ یہ ایک فنکشنل مالیکیول ہے جو شوگر کو چربی میں بدلنے کے عمل کو مؤثر طریقے سے روکتا ہے، یوں وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے یہ ایک غذائی مددگار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

فصلوں کے حصے میں بھی زراعت کے شعبے کی جانب سے کئی اہم کامیابیاں پیش کی گئیں، جن میں کم پھلیوں جیسی بو اور زیادہ آئسوفلاوون رکھنے والی سویابین شامل ہے جو جوس بنانے کے لیے موزوں ہے، اور ایک نئی قسم کی مکئی بھی جس میں میٹھا اور چپچپا دونوں ذائقے ایک ہی دانے میں یکجا کر دیے گئے ہیں۔

چائینیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے بریڈنگ ماہر شیاؤ یونگ گوئی نے اس نئی مکئی کے پیچھے کارفرما تکنیکی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ روایتی مکئی یا تو مکمل میٹھی ہوتی ہے یا چپچپا، یا پھر ان کا مرکب مخصوص تناسب میں ہوتا ہے، جیسے سات دانے چپچپا اور ایک میٹھا، یا تین سے ایک کا تناسب۔ ان کے مطابق یہ نئی قسم دونوں ذائقوں کو ایک ہی دانے میں قابلِ تبدیل تناسب کے ساتھ یکجا کرتی ہے، جس سے کھانے کا تجربہ پہلے سے کہیں بہتر ہو جاتا ہے۔

مشینری کے شعبے میں بھی کئی نئے زرعی روبوٹس متعارف کروائے گئے۔ ان میں سے ایک زرعی ٹرانسپورٹ روبوٹ سو کلوگرام سے زائد فصل پہاڑی زمین پر بھی غیرمعمولی چستی کے ساتھ لے جا سکتا ہے۔ وزارتِ زراعت و دیہی امور کے نانجنگ انسٹیٹیوٹ آف ایگریکلچرل مکینائزیشن کے اسسٹنٹ ریسرچر گونگ چھنگ شو نے بتایا کہ جو حرکت ابھی دکھائی جا رہی ہے وہ درحقیقت سائیڈ وے یعنی عرضی حرکت ہے۔

ان کے مطابق تنگ کھیتوں میں یہ روبوٹ قطاروں کے درمیان تیزی سے سوئچ کر سکتا ہے اور ہمہ جہتی حرکت کے ساتھ اپنی جگہ پر گھوم بھی سکتا ہے۔نمائش کا ایک اور اہم حصہ جانوروں کی عالمی بیماریوں کے خطرے کی پیشگوئی کرنے والا ایک زیرِ تکمیل ماڈل تھا۔ یہ نظام ریئل ٹائم وبائی نگرانی اور ابتدائی وارننگ فراہم کرے گا، گویا عالمی لائیو اسٹاک انڈسٹری کے لیے ایک "موسمی نقشے” کا کام دے گا اور گوشت، انڈوں اور دودھ کی سپلائی کی حفاظت کو مزید مضبوط کرے گا۔

خوراک کی مصنوعات سے لے کر پیداواری استعمالات تک، یہ قابلِ لمس اور آسانی سے قابلِ رسائی تحقیقی کامیابیاں زرعی لیبارٹریوں اور روزمرہ زندگی کے درمیان فاصلے کو مسلسل کم کر رہی ہیں۔