2019 کے بعد سے عالمی سطح پر ای کامرس کی فروخت تقریباً دوگنا ہو کر 6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی
اسلام آباد عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپرسکی کے ماہرین نے بارکوڈ ا سکینرز کے ایک معروف ماڈل میں سیکیورٹی خامیوں کا انکشاف کیا ہے جن کے ذریعے سائبر حملہ آور ای کامرس کی سپلائی چین اور گوداموں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کیسپرسکی کے مطابق 2019 کے بعد سے عالمی سطح پر ای کامرس کی فروخت تقریباً دوگنا ہو کر 6 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے میں سامان کی ترسیل کے نظام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کمپنیوں کے لیے بڑے مالی نقصانات اور ساکھ متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔
ممکنہ سائبر خطرات کی نشاندہی کے لیے کیسپرسکی سیکیورٹی سروسز کے محققین نے گوداموں کے انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والے مختلف آلات اور ان کے ذریعے ممکنہ سائبر حملوں کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران ایک بڑے مینوفیکچرر کے تیار کردہ بارکوڈ اسکینر کے ماڈل میں ایسی خامی دریافت ہوئی جس سے حملہ آور گوداموں کے نیٹ ورک تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق عام طور پر گوداموں میں استعمال ہونے والے وائرلیس بارکوڈ اسکینرز ایک بیس اسٹیشن سے منسلک ہوتے ہیں جو آگے کمپیوٹر یا کسی دوسرے کاروباری نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ اس نظام کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اسکینر اور بیس اسٹیشن کے درمیان رابطے کے لیے شناخت کی تصدیق کا مؤثر طریقہ موجود نہیں ہوتا۔
کیسپرسکی کے ماہرین نے بتایا کہ سائبر حملہ آور اسکینر کے وائرلیس رابطے کو استعمال کرتے ہوئے گودام کے آپریشنل ٹیکنالوجی نیٹ ورک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایک ممکنہ حملے میں ملازم معمول کے مطابق وائرلیس بارکوڈ اسکینر استعمال کر رہا ہوتا ہے جبکہ حملہ آور بلوٹوتھ ٹریفک کی نگرانی کے ذریعے بیس اسٹیشن کا بلوٹوتھ ایڈریس حاصل کر لیتا ہے۔
کیسپرسکی میں انڈسٹریل سیکیورٹی سروسز کے سربراہ سرگئی سیدوروف نے کہا کہ جدید ریٹیل اور لاجسٹکس کا شعبہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔ بڑے انتظامی نظاموں سے لے کر ملازمین کے ہاتھوں میں موجود چھوٹے آلات تک ہر چیز ایک دوسرے سے منسلک ہے۔ اس وسیع رابطے کے باعث کسی بھی سطح پر موجود ٹیکنالوجی سائبر حملے کا راستہ بن سکتی ہے اور پورے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بارکوڈ اسکینر بھی بڑے سائبر حملے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ گوداموں اور ریٹیل کے شعبوں کو اپنی سرگرمیوں کی ہر سطح پر سائبر سیکیورٹی کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
کیسپرسکی کے ماہرین نے گوداموں کی سائبر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے سفارش کی ہے کہ نیٹ ورک سے منسلک کیے جانے والے ہر نئے آلے کی مکمل جانچ کی جائے، غیر ضروری بلوٹوتھ کنکشن بند رکھے جائیں اور شناخت کی تصدیق کے مضبوط نظام نافذ کیے جائیں۔ ماہرین کے مطابق گوداموں کے نیٹ ورکس کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ صرف ضروری رابطوں کی اجازت دی جا سکے۔
کیسپرسکی کے مطابق کمپنی صنعتی اداروں کے سائبر سیکیورٹی نظام کا جامع جائزہ لینے کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ کیسپرسکی آئی سی ایس سیکیورٹی اسیسمنٹ کے ذریعے صنعتی کنٹرول سسٹمز، آپریشنل ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک سے منسلک آلات میں موجود کمزوریوں، سیکیورٹی ترتیبات اور رسائی کے ممکنہ راستوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ کمپنی کے مطابق صنعتی اداروں اور لاجسٹکس کمپنیوں کے تحفظ کے لیے کیسپرسکی انڈسٹریل سائبر سیکیورٹی (KICS) جیسے خصوصی سیکیورٹی سلوشنز بھی دستیاب ہیں۔ یہ نظام اداروں کو اپنے انفراسٹرکچر کی بہتر نگرانی اور سائبر تحفظ مضبوط بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے تاکہ روزمرہ آپریشنز اور سسٹمز کی دستیابی متاثر نہ ہو۔


